bbc-new

بنگلہ دیش: وہ ملک جو دنیا کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کا راستہ دکھا رہا ہے

بنگلہ دیش میں لوگوں کو آفات سے بچانے کے لیے ایک عالمی سطح کا نظام موجود ہے، جس میں خواتین کی بہتر مدد کے لیے خواتین رضاکاروں کی فوج بھی شامل ہے۔ دوسرے ممالک اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بنگلہ دیش میں لوگوں کو آفات سے بچانے کے لیے ایک عالمی سطح کا نظام موجود ہے، جس میں خواتین کی بہتر مدد کے لیے خواتین رضاکاروں کی فوج بھی شامل ہے۔ دوسرے ممالک اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

سنہ 1988 کے اواخر میں بنگلہ دیش میں آدھی رات کو ایک طوفان غیر متوقع طور پر آیا جس میں چینا مستری کے دو ماہ کے بھائی کی موت ہو گئی۔

مستری کے والد سورنجن اب 65 سال کے ہیں۔ وہ اس طوفان کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم نے اسے آتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘

بنگلہ دیش کے جنوبی سرے پر واقع ایک چھوٹے سے گاؤں ٹیلا میں انھوں نے ریڈیو پر ایک اعلان سنا تھا ایک طوفان ان کے گھر کے قریب پہنچ رہا ہے لیکن وہ پریشان نہیں تھے۔

سورنجن کہتے ہیں کہ طوفان کی سطح کو ماپنے والا سگنل نمبر جو 1 سے 10 کے پیمانے پر طوفانوں کی شدت کی درجہ بندی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اس پر طوفان کی شدت کم تھی لیکن پھر صبح سویرے یہ اچانک بڑھنا شروع ہو گیا۔

سورنجن یاد کرتے ہیں کہ کوئی ’10 بجے اچانک طوفان شدید ہو گیا اور پھر ایک لہر ٹکرائی۔‘ پانی کی دیوار جو گھر کی بلندی سے اونچی تھی ان کے گھر سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں ایک دیوار گر گئی اور اس کے سائے میں سوتا ہوا نوزائیدہ بچہ نیچے آ گیا۔

بھائی کی موت کے بعد بہت کچھ بدل گیا۔ مستری اب 29 سال کی ہیں لیکن انھیں اپنے بڑے بھائی سے کبھی ملنے کا موقع نہیں ملا۔

بنگلہ دیش دنیا کے سب سے زیادہ تباہی کے شکار ممالک میں سے ایک ہے اور اب بھی ہر سال اسے کئی قسم کے طوفانوں کا سامنا کرتا ہے۔ سیلاب اور ساحلی کٹاؤ اکثر نشیبی ساحلی علاقوں میں تباہی پھیلاتے ہیں۔

رواں سال جون میں ملک، صدی کے بدترین سیلاب کی زد میں آیا تھا، جس کے نتیجے میں 70 لاکھ سے زائد افراد خوراک اور رہائش کے بغیر تھے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے اس تباہی میں ایک کردار ادا کیا ہو۔

شدید موسمی واقعات سے مرنے والوں کی تعداد میں بہت حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ موسم کی نگرانی کے آلات، مواصلاتی نظام اور رضاکاروں کے ایک جامع نیٹ ورک پر مشتمل کثیر سطحی ابتدائی انتباہی نظام ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ان رضاکاروں میں سے نصف خواتین ہیں، جو بڑے پیمانے پر صنفی فرق پر قابو پانے کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں جو آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

بنگلہ دیش کا نظام نسبتاً کم وسائل کے ساتھ ملک کی مزاحمت کو بڑھانے کے لیے مشہور ہوا۔ اس کی کامیابی کو ماہرین نے دوسرے کم آمدنی والے ممالک کے لیے ایک ماڈل کے طور پر سراہا ہے جو بدلتے ہوئے موسم کے پیش نظر قبل از وقت انتباہی نظام تیار کرنا چاہتے ہیں۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) میں موسم کے خطرے اور ابتدائی وارننگ سسٹمز (CREWS) کے سربراہ جان ہارڈنگ کہتے ہیں کہ ’جب یہ دیکھنے کی بات آتی ہے کہ ابتدائی وارننگ کا مؤثر نظام کیسا ہو تو اس معاملے میں بنگلہ دیش واقعی تھوڑا سا موجد رہا ہے۔‘

گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریز نے ایک ایسے منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت دنیا کے ہر شخص کو پانچ سال میں انتباہی نظام کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکے گا۔ یہ منصوبہ موسمیاتی تبدیلی کی روشنی میں ہونے والی کوششوں کا اہم حصہ ہے جس کا ایکشن پلان ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) اسی سال ہونے والی اقوام متحدہ کی کلائمٹ کانفرنس میں پیش کرے گی۔

ہارڈنگ کہتے ہیں کہ ’ابتدائی انتباہی نظام ہمارے پاس موجود سب سے مؤثر آلہ ہے جس کی مدد سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔‘

بنگلہ دیش کئی دہائیوں سے اپنے ایسے ہی انتباہی نظام کو مضبوط بنا رہا ہے تو پھر دیگر ممالک اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

انتباہی نظام

بنگلہ دیش میں عالمی طرز کے بہترین نظام کی شروعات 1970 میں ہوئی جب سمندری طوفان بھولا نے خلیج بنگال میں تباہی مچا دی اور تقریبا پانچ لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس تباہی کے بعد بنگلہ دیش نے موسمی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری شروع کی، سمندری طوفان سے بچاؤ کے لیے پناہ گاہیں بنائی گئیں اور ساحل پر رضاکاروں کی تربیت کا آغاز کیا گیا۔

2020 میں جب سمندری طوفان ایمفان آیا، جو تقریباً اتنا ہی طاقتور تھا جتنا 1970 میں آنے والا سمندری طوفان بھولا تھا، تو صرف 26 اموات ہوئیں۔ جب یہ سمندری طوفان ساحل کی جانب بڑھ رہا تھا تو مستری کے خاندان کو ریڈیو پر پیشگی اطلاع ملی لیکن اس بار وہ تیار تھیں۔

دو دن پہلے ہی مستری کے فون پر ایک پیغام موصول ہوا تھا جس میں ان کو خلیج بنگال میں موسم کی خرابی کی اطلاع دی گئی تھی۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر پیغامات کے ذریعے سمندری طوفان کے بارے میں مسلسل معلومات حاصل کیں اور جب تک یہ طوفان ساحل تک پہنچا، ان کا خاندان اپنا سامان لے کر قریبی محفوظ پناہ گاہ منتقل ہو چکا تھا۔

بنگلہ دیش میں سمندری طوفان سے ہلاکتوں میں کمی کی ایک وجہ وہ صلاحیت ہے جو سمندری طوفان کے بننے کے عمل کو جانچ سکتی ہے۔ سنہ 1970 تک بنگلہ دیش میں صرف دو ساحلی ریڈار تھے جو سمندری طوفان کو اس وقت مانیٹر کرتے تھے جب وہ ساحل سے 200 میل دوری پر پہنچ چکے ہوتے تھے۔ آج یہاں موسمیاتی سٹیشنز کا ایک مربوط نظام موجود ہے جس میں ساحلی ریڈار، زمینی سٹیشن اور فضائی آلات شامل ہیں جو ہوا کا دباؤ اور نمی جانچتے رہتے ہیں۔ ان کی مدد سے بنگلہ دیش ہر وقت موسم پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

گذشتہ سال ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت تمام رکن ممالک میں موسمیاتی ڈیٹا کا تبادلہ بنا کسی معاوضے کے کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ بنگلہ دیش سمیت دیگر کم ترقی یافتہ اور موسمی تغیر کا سامنا کرتے ممالک کو اب بہت دور تک موسمی حالات اور معلومات تک رسائی حاصل ہے۔

ہارڈنگ کہتے ہیں کہ ’معلومات کا یہ تبادلہ سمندری طوفانوں جیسے حالات میں بہت اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے جب ایک واقعہ خلیج بنگال سے کہیں بہت دور شروع ہوتا ہے۔‘

لیکن معلومات حاصل ہونا لوگوں کو خطرات سے پیشگی آگاہ کرنے کے عمل کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا کہ یہ معلومات لوگوں تک پہنچ جائیں بھی نہایت اہم ہے۔

ہارڈنگ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کے پاس بہترین سائنس ہے، بہترین موسمی پیشگوئی ہے لیکن اگر اس کو درست زبان اور طریقے سے مقامی آبادی تک نہیں پہنچایا گیا تو وہ سمجھ نہیں سکیں گے۔ اسی لیے ایسا نظام شروع سے ہی مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار رکنا چاہیے۔‘

بنگلہ دیش کا ابتدائی انتباہی نظام پیغام رسانی کے مختلف طریقے استعمال کرتا ہے جن میں ٹی وی اور ریڈیو نشریات، موبائل فون کے ذریعے پیغامات، مخصوص علاقوں میں ایس ایم ایس اور ایک ہیلپ لائن شامل ہے جہاں لوگ فون کریں تو ریکارڈڈ پیغامات سننے کو ملتے ہیں۔

لیکن بنگلہ دیش کے اس نظام کا سب سے اہم ستون، جس کے ذریعے معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائی جاتی ہیں اور جسے ماہرین ’آخری میل‘ کا نام دیتے ہیں، وہ رضاکاروں کا ایک بہت وسیع و عریض نیٹ ورک ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مون سون میں پاکستان بھر میں ہلاکتیں اور تباہی: ’ہم نے اپنے ہاتھوں خود تباہی کی بنیاد رکھی‘

بنگلہ دیش میں سیلاب: ’زندگی کے سوا میرے پاس کچھ نہیں بچا‘

’تیزی سے گرم ہوتا سمندر‘: پاکستان سمیت ایشیا میں مون سون بارشوں کا مستقبل کیا ہے؟

مقامی حل

1970 کی تباہی کے بعد بنگلہ دیش میں ہلال احمر سوسائٹی نے سمندری طوفان سے نمٹنے کی تیاری کا ایک پروگرام مرتب کیا جسے سی پی پی کا نام دیا گیا۔ اس کا مقصد غیر ضروری اموات میں کمی اور مقامی آبادی کی صلاحیت میں بہتری لانا شامل تھا۔ اب اس پروگرام کو بنگلہ دیش کی حکومت کی وزارت ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اینڈ ریلیف چلاتی ہے جس کے تحت ساحل پر دیہات میں 76000 رضاکار کام کرتے ہیں۔

جب یہ پروگرام ان کے علاقے میں 2009 میں شروع ہوا تو مستری نے بطور رضاکار کام کرنے کے لیے حامی بھر لی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے بھائی سے کبھی نہیں مل سکی۔ یہ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں اس پروگرام کا حصہ اس لیے بنی کہ کوئی اور بچہ اپنی جان نہ گنوائے۔‘

مستری اب 20 افراد کی ٹیم کا حصہ ہیں جن کی ذمہ داری ہے کہ ان کی مقامی آبادی میں تازہ ترین موسمی خطرات سے ہر کوئی آگاہ ہو۔ یہ رضاکار مقامی بازار یا چوک میں جھنڈوں کے نظام کے ذریعے کسی بھی آنے والے طوفان کی شدت سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں۔ وہ گلیوں میں میگا فون تھامے انتباہی پیغامات بھی سناتے ہیں اور پیدل یا موٹر سائیکل پر گھر گھر جا کر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ پیغام سب تک پہنچ جائے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگوں تک بھی معلومات پہنچ جائیں جو ان پڑھ ہیں یا جن کے پاس فون نہیں۔

مختلف تحقیقات میں ثابت ہوا ہے کہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں زندگی بچانے کے لیے فوری اور وسیع کارروائی کا انحصار حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کی صلاحیت اور ردعمل پر ہوتا ہے۔

گذشتہ سال بنگلہ دیش کے سی پی پی پروگرام نے کوشش کی کہ ’آخری میل‘ کو سکول کے بچوں تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے کھیل کے ذریعے جاننے کا پروگرام شروع کیا گیا۔

احمد الحق سی پی پی کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پروگرام کے تحت سکول میں مخصوص دنوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری ہوتی ہے جس کے دوران مختلف مشقیں ہوتی ہیں، بچے فرسٹ ایڈ سیکھتے ہیں اور ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ٹیمیں بناتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس کا مقصد ہے کہ اگلی نسل کسی بھی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار ہو۔‘

بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل سینٹر برائے کلائمٹ چینج اینڈ ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر سلیم الحق کہتے ہیں کہ ’کسی بھی ایسے پروگرام کی کامیابی کا سب سے اہم جزو یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ کیا کرنا ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں ’رضاکاروں کا نظام مقامی طور پر لوگوں کو بااختیار بنانے کا بہرین طریقہ ہے۔‘

صنفی امتیاز

مقامی سطح پر معلومات کو جلد پھیلانے سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ خواتین کی جان بچائی جا سکتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں اچانک نمودار ہونے والی آفات میں خواتین بڑے پیمانے پر متاثر ہوتی ہیں۔

بنگلہ دیش میں بین الاقوامی فیڈریشن برائے ریڈ کراس کی پراجیکٹ مینجر ملیحہ فردوس کہتی ہیں کہ ’صنفی امتیاز کی وجہ سے خواتین میں شرح خواندگی کم ہے اور ان کو گھروں میں رہنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ فیصلہ سازی میں ان کا کردار نہیں ہوتا جس سے معلومات تک رسائی بھی نہیں ہو پاتی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جو تنبیہی معلومات خواتین اور بچیوں تک پہنچتی ہے وہ مردوں کے ذریعے آتی ہے۔ اسی لیے یہ مناسب طریقے سے ان تک نہیں پہنچ پاتی۔‘

بنگلہ دیش میں سمندری طوفان سے اموات میں خواتین کی تعداد زیادہ رہی ہے۔ سنہ 1970 میں سمندری طوفان بھولا میں خواتین کی اموات کا تناسب مردوں کے مقابلے میں 14 اور ایک کا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خواتین نے سوچا کہ ان کی جگہ تو گھر میں ہی ہے یا پھر ان کو یہ خوف تھا کہ ان کو پر ہجوم حفاظتی پناہ گاہوں میں جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ملیحہ کہتی ہیں کہ ’اکثر اوقات خواتین انتطار کرتی ہیں کہ ان کو گھر کے مرد سے اجازت ملے۔ وہ بتاتی ہیں کہ خواتین یہ محسوس کرتی ہیں کہ اگر وہ کسی گھر کے مرد کے بغیر حفاظتی پناہ گاہ میں چلی گئی تو خاندان کی بے عزتی ہو جائے گی۔‘

ایسے خیالات کا تدارک کرنا بھی رضاکاروں کے کام کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خواتین کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ قدرتی آفت کی صورت میں محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔

2020 میں جب سمندری طوفان ایمفان آیا تو مستری کی عزیز اپرنا مستری نے پہلے انخلا سے انکار کر دیا تھا۔ ان کو اس سوچ سے ہی شرمندگی محسوس ہوئی کہ وہ ایک عوامی جگہ پر بچے کو دودھ کیسے پلائیں گی اور اتنے نامعلوم لوگوں کے درمیان کیسے ایک ہی کمرے میں سو سکیں گی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’پناہ گاہ بہت پرہجوم ہوتی ہے۔‘ وہ اپنی خاندانی دکان کے باہر مجھ سے بات کر رہی تھیں۔ اپنے تین سالہ بچے پر کمبل ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’وہاں بہت زیادہ مرد ہوتے ہیں۔ مجھے کپڑے بدلتے ہوئے عجیب لگتا ہے۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ انھوں نے اپنا ذہن پھر کیسے بدلا تو انھوں نے مستری کی جانب اشارہ کیا جو ہمارے ساتھ ہی بیٹھی تھیں۔ انھوں نے قہقہ لگایا اور کہا ’زبردستی۔‘

مستری کے لیے یہ اب ایک عام سی بات ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان کے دوران اکثر خواتین انخلا سے انکار کر دیتی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اب حالات بہتر ہو رہے ہیں جس کی ایک وجہ خواتین رضاکار ہیں جو انخلا کے عمل میں خواتین کی مدد کرتی ہیں۔

38 سالہ رینا سردار، جو خود بھی ایک رضاکار ہیں، کہتی ہیں کہ ’عورت ہی عورت کی مدد کر سکتی ہے۔‘

سنہ 2015 میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے سنڈائی فریم ورک فار ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (یعنی قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کا فریم ورک) پر دستخط کیے۔ اس کا مقصد قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کو صنفی اعتبار سے حساس بنانا تھا۔ اس کے تحت سی پی پی نے رفتہ رفتہ زیادہ خواتین رضاکاروں کو شامل کیا اور اب یہ مجموعی طور پر اس نظام کا 50 فیصد حصہ ہیں۔

ملیحہ فردوس کا کہنا ہے کہ ’خواتین رضاکار ایسے مقامات تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں جہاں مرد نہیں جا سکتے تاکہ اہم پیغامات خواتین کے نیٹ ورکس تک پہنچ جائیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’رضا کار بننے سے عورت کی سماجی حیثیت بھی بڑھ جاتی ہے اور اسے ایک ایسے معاشرے میں فعال مقام حاصل ہوتا ہے جو عمومی طور پر ان کو صرف گھر تک محدود رکھتا ہے۔‘

ان تمام اقدامات کے نیتجے میں قدرتی آفات میں خواتین کی اموات کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔ سمندری طوفان ایمفان کے دوران یہ شرح ایک مرد کے مقابلے میں ایک عورت کی ہلاکت پر پہنچ چکی تھی۔

ملیحہ کہتی ہیں کہ ’مقامی آبادی میں عورت کو خود مختار بنانے سے ان کو انخلا کے فیصلوں پر بھی اختیار حاصل ہوا اور پناہ گاہوں کو صنفی طور پر پرتشدد واقعات سے محفوظ بنانے میں بھی ان کا کردار بڑھا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’انسانی ناکامی کی مایوس کن داستان‘: پاکستان، انڈیا میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنے کے امکانات 100 گنا زیادہ

کیا پاکستان کے پاس بدلتے موسمی حالات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مؤثر پیش گوئیوں کا نظام ہے؟

وہ جنگلات جو صرف ’کاغذوں‘ میں ہی بنائے گئے ہیں!

محفوظ پناہ گاہیں

موسمی تغیر سے انسانی زندگی کو بچانے میں بنگلہ دیش کی کامیابی کا ایک اور راز محفوظ پناہ گاہوں کا نظام ہے۔ ان کے ذریعے بنگلہ دیش نے لوگوں کو ایک ایسا واضح نظام فراہم کیا ہے کہ انتباہ ملتے ہی وہ خود کو محفوظ بنا سکیں۔

1970 میں بنگلہ دیش میں صرف 44 پناہ گاہیں تھیں۔ بھولا کی تباہی کے بعد حکومت نے بین الاقوامی مدد سے اس تعداد کو بڑھا کر سنہ 2020 میں 4000 تک پہنچا دیا۔ ان میں سے بیشتر عام دنوں میں سکول اور کمیونٹی سینٹر کے طور پر چلائے جاتے ہیں۔

گذشتہ سال ایک تحقیقاتی مقالے میں لکھا گیا کہ بنگلہ دیش کی ان کوششوں کی وجہ سے انخلا کے رویے بھی تبدیل ہوئے ہیں۔

حق کہتے ہیں کہ ’یہ ایک سیکھنے کا عمل ہے۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’بنگلہ دیش نے کئی سال میں یہ نظام بنایا اور ہر قدرتی آفت سے ایک نیا سبق سیکھا کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔‘ وہ سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیش موسمیاتی تبدیلی کا سامنا کرتے دیگر ممالک کے لیے ایک ماڈل کے طور پر کام آ سکتا ہے۔

حق کا کہنا ہے کہ اب بنگلہ دیش سمندری طوفان کے علاوہ دیگر آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے انتباہی نظام کو وسیع کرنا چاہتا ہے جیسا کہ زلزلے اور سیلاب۔ اس منصوبے کے تحت ان آفات میں اموات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ حق کا کہنا ہے کہ ’سمندری طوفان کا معاملہ نسبتا آسان ہے کیونکہ سیلاب کی پیشگوئی کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اگرچہ انتباہی نظام زندگی بچانے میں مددگار ہوتا ہے لیکن یہ معاشی اثرات کم نہیں کر سکتا۔‘ 2020 میں جہاں سمندری طوفان ایمفان سے قبل انتباہی نظام نے بہت زندگیاں بچا لیں، وہیں تقریبا پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔

حق کا کہنا ہے کہ ’اس وقت موسمیاتی تبدیلی کا شکار آبادی کے لیے عالمی معاشی امداد موجود نہیں۔ صرف لوگوں کی زندگی بچا لینا اور ان کو روزگار کی بحالی میں مدد نہ کرنا ایک ایسی چیز ہے جس پر ہم توجہ نہیں دے سکے۔‘

بین الاقوامی موسمیاتی تبدیلی پر مذاکرات میں یہ موضوع تناؤ کا باعث بنتا ہے کہ امیر ممالک کی جانب سے غریب ملکوں کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور آفات کا سامنا کرنے والے لوگوں کی معاشی مدد کے لیے پیسہ دیا جائے۔

ایک بڑھتا خطرہ

29 سالہ مستری نے اب تک شادی نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان پر آگہی پھیلانے کی مہم نے ان کو زندگی میں ماں کے روایتی کردار کا ایک متبادل مقصد فراہم کیا ہے۔

’مجھے سی پی پی کا رکن ہونے پر فخر ہے۔ یہ میرے پاس لوگوں کے لیے کچھ کرنے کا بہترین موقع ہے۔‘

اپنے فارغ اوقات میں وہ مقامی سکول کے بچوں کو سمندری طوفان کے خطرات کے بارے میں بتاتی ہیں اور ان کو انخلا کا طریقہ سکھاتی ہیں۔

ہماری بات چیت کے دوران کئی بچوں نے گزرتے ہوئے ان کو سلام کیا جو پیار سے ان کو اماں پکارتے ہیں۔

لیکن مستری کو دو بار طوفان سے تباہ شدہ گھر ازسرنو تعمیر کرنا پڑا۔ سمندری کی بڑھتی ہوئی سطح اس علاقے کے لیے ایک سست رفتار خطرہ ہے جو ساحلی تغیر کی وجہ بن رہا ہے۔

مستری کہتی ہیں کہ اب زمین کاشتکاری کے قابل نہیں رہی جس سے خوراک اور آمدن دونوں میں کمی ہو رہی ہے۔

2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے ان علاقوں میں، جہاں سمندری طوفان اکثر آتے ہیں، ہر خاندان سالانہ اوسطا 60-70 امریکی ڈالر موسمی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی آفات سے بچنے یا پھر ان کے اثرات سے نمٹنے پر خرچ کرتا ہے جو ان کو مزید غربت کی جانب دھکیل دیتا ہے۔

مستری اپنے علاقے میں ہی رہنا چاہتی ہیں لیکن وہ جانتی ہیں کہ شاید ان کو نوکری کی تلاش میں جگہ بدلنی پڑے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں کوئی مستقبل نہیں۔‘

2018 کی عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پیشگوئی کی گئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی بنگلہ دیش میں 2050 تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کو بے گھر کر سکتی ہے یعنی ملک میں ہر سات میں سے ایک شخص کو۔

بنگلہ دیش کی حکومت ان خطرات سے عوام کو بچانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ملک میں مجیب پلان کے تحت ساحلی آبادی کی صلاحیت بہتر بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں صاف توانائی میں سرمایہ کاری کے ذریعے 41 لاکھ نوکریاں پیدا کی جائیں گی۔ اس منصوبے کئی اور سکیمیں بھی شامل ہیں۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے لکھا کہ ’یہ منصوبہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ ہی نہیں ممکن بنائے گا بلکہ یہ معاشی طور پر بھی مددگار ہو گا۔‘

انھوں نے وعدہ کیا کہ صنفی طور پر حساس پروگرام میں خواتین کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے گا۔

حق کہتے ہیں کہ ’اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے بیرونی مدد درکار ہو گی۔‘ فی الحال بنگلہ دیش اپنی مدد آپ کے تحت ہی موسمیاتی تبدیلی سےنمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کر رہا ہے اور سنہ 2021 کے مالی سال میں قومی بجٹ کا 7.5 فیصد خطرات میں کمی لانے کے لیے مختص کیا گیا۔

حق کہتے ہیں کہ ’ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے۔ ہم اس انتظار میں نہیں کہ باقی دنیا آ کر ہماری مدد کرے گی۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.