ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو فوج کے ساتھ لڑانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، عمران خان

image

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو فوج کے ساتھ لڑانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

شہباز گل کی گرفتاری کے بعد پہلی بار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  ہماری حکومت گرانے پر بہت خوشی منائی گئی، بھارت اور اسرائیل میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت جانے پر خوشی منائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے ایسا لاجک دیا جائے کہ پی ٹی آئی اور فوج ایک دوسرے کے مخالف ہیں، سب کو تکلیف تھی کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر چل رہی ہے، 800کے قریب جعلی سائٹس پر پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا تھا۔ عمران خان اور پاکستانی فوج کو ٹارگٹ کیا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ یہ سازش اتنی خطرناک ہے کہ اگر ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج کے سامنے کھڑا کر دیں اور ان کے درمیان اختلافات پیدا کر دیں، اس سے زیادہ ملک کو کچھ نہیں نقصان پہنچا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ 18 سال کی عمر میں ایسٹ پاکستان میچ کھیلنے گیا، وہاں اپنے کزن کے ہاں ٹھرا تھا، تب وہاں پتہ چلا کہ وہاں کی بڑی جماعت میں فوج کے خلاف کتنی نفرت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس میں کچھ نہیں،  انہوں نے ہماری پارٹی کو توڑنے کا پورا پلان بنایا ہوا ہے، ہمیں نقصان پہنچانے کا پہلا مرحلہ الیکشن کمیشن ہے۔

عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سب کچھ دینے والی پارٹی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جھوٹی رپورٹس بنا کر تحریک انصاف کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کیس کے ذریعے بھی مجھے نااہل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو بھی اس ملک میں بڑے بڑے عہدوں پر رہے ہیں انہیں تحفے ملتے ہیں، آرمی چیف کو بھی تحفے ملتے ہیں، سب کی تحقیقات کریں۔ زرداری نے تحفے میں دی گئی تین جب کہ نواز شریف نے ایک مہنگی گاڑی لی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ میری کردار کشی کا منصوبہ بنا رہے ہیں، وہ چینلز جو میرا موقف چلاتے ہیں ان کے خلاف کریک ڈاون کیا جا رہا ہے، اب یہ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا پر آئیں گے، ان کی کوشش ہے کہ عمران خان کو عوام میں ذلیل کیا جائے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.