زمین کو محفوظ رکھنے کا مشن، ناسا کا خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

image
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنے نئے تجربے میں اپنا ایک خلائی جہاز ایک سیارچے سے ٹکرا کر تباہ کر دیا ہے۔

اس مشن کا مقصد یہ جاننا تھا کہ یک بڑے حجم کے خلائی پتھر کو زمین سے ٹکرانے سے روکنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے، خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا ہے۔ اس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا ہے۔

جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

Don’t want to miss a thing? Watch the final moments from the on its collision course with asteroid Dimporphos.

— NASA (@NASA) September 26, 2022

ناسا کا کہنا ہے کہ جس خلائی پتھر کو نشانہ بنایا گیا وہ  زمین سے ٹکرانے کے راستے یا مدار میں نہیں ہے اور نہ ہی یہ تجربہ اس پتھر کو حادثاتی طور پر یا غلطی سے زمین کی طرف بھیجے گا۔

خلا میں موجود سب سے بڑی ٹیلی سکوپ جیمز ویب سمیت دیگر خلائی دور بینوں کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا گیا ہے، سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے میں خلائی جہاز، سیارچے کے مرکز سے صرف 17 میٹر ہٹ کے ٹکرایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کی چاند پر واپسی، نیا مشن 29 اگست کو لانچ ہو گا

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تجربے کے بعد یہ سیارچہ اپنے قریبی موجود  ڈیڈیموس نامی سیارچے کے مدار کی جانب روزانہ چند منٹ بڑھنا شروع ہو جانا چاہیے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اپلائیڈ فزکس لیبارٹری کی ڈاکٹر نینسی چابوٹ کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے آپ برسوں پہلے ہی کسی سیارچے کو اس کے مدار سے تھوڑا سا ہٹانے کے لیے ایک جھٹکا دیں تاکہ مستقبل میں زمین اور وہ سیارچہ آپس میں ٹکرانے سے بچ سکیں۔

News Source   News Source Text

مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.