bbc-new

گجرات: گاؤ شالوں سے ہزاروں گائیں احتجاجاً آزاد، سرکاری دفاتر میں داخل

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں مویشیوں کی پناہ گاہیں چلانے والے خیراتی اداروں نے وعدہ کردہ سرکاری امداد کی کمی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہزاروں گایوں کو آزاد کر دیا ہے۔

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں مویشیوں کی پناہ گاہیں چلانے والے خیراتی اداروں نے وعدہ کے مطابق سرکاری امداد کی کمی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہزاروں گائیں آزاد کر دی ہیں۔

انڈیا کے سوشل میڈیا پر سرکاری عمارتوں میں گائیوں کے گھومنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔

مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت فنڈز جاری کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ آئندہ ریاستی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔

گجرات ان کئی انڈین ریاستوں میں سے ایک ہے جو جانوروں میں جلد کی بیماری کے پھیلنے سے دوچار ہیں، جس کی وجہ سے مویشیوں کا نقصان ہوا ہے۔

ریاست میں 5،800 سے زیادہ مویشیوں کی موت کی اطلاعہے ، جبکہ تقریباً 170،000کے اس بیماری سے متاثر ہونے کا اندازہہے۔

گائے انڈیاکی اکثریتی ہندو برادری کے لیے مقدس جانور سمجھا جاتا ہے اور گجرات سمیت 18 ریاستوں میں ان کا ذبیحہ غیر قانونی ہے۔

سال 2017 میں گجرات کی ریاستی اسمبلی نے گائے کے تحفظ کے قوانین کو سخت کرتے ہوئےگائے کو ذبح کرنے والوں کو عمر قید کی سزا مقرر کی تھی۔

اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آوارہ مویشیوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نظر آنے لگی، جس کی وجہ سے شہروں کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی میں خلل پڑنے لگا۔

اس سال کے بجٹ میں گجرات کی حکومت نے ریاست میں گائیوں اور دیگر عمر رسیدہ جانوروں کے لیے پناہ گاہوں کی دیکھ بھال کے لیے 5 ارب روپے (61 ملین ڈالر؛ 57 ملین پاؤنڈ) مختص کیے تھے۔

حالانکہ مویشیوں کے لیے بنائی گئی پناہ گاہوں کے مینجروں کا کہنا ہے کہ انھیں اس اسکیم کے تحت کوئی پیسہ نہیں ملا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت نے انھیں 'دھوکہ' دیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کو متعدد درخواستیں کرنےکے باوجود ، انھیں کوئی حل پیش نہیں کیا گیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ انھیں حکومت کی جانب سے مویشیوں کی پناہ گاہوں کے لیے کوئی امداد نہیں ملی ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، خیراتی ٹرسٹوں کے ذریعے چلائے جا رہے تقریباً 1750 گاؤشالہ ہیں جن میں 450000 سے زیادہ مویشی رہتے ہیں، اس احتجاج میں شامل ہوئے۔

اتر پردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ جیسی بی جے پی حکومت والی ریاستیں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ کانگریس کے زیر اقتدار راجستھان بھی ایک گائے کے لیے 50 روپے کی پیش کش کر رہا ہے۔ تو پھر گجرات گائیوں کی مدد کرنے میں کیوں ناکام رہا ہے؟ اخبار نے گجرات گئو سیوا سنگھ کے جنرل سیکریٹری وپل مالی کے حوالے سے بتایا کہ بیمار مویشیوں کے لیے گئوشالہ چلاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جناح کے گھر پر گائے کا پرچم

انڈین خواتین کے چہرے پر گائے کا ماسک کیوں؟

’گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے‘

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں میں گجرات کے کئی حصوں میں مویشیوں نے سڑکوں، مقامی عدالتوں اور سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایک سرکاری دفتر میں، مظاہرین گائے کا پیشاب اور گوبر لے کر آئے۔

پولیس نے بتایا کہ انھوں نے بناس کانٹھا، پاٹن اور کچھ اضلاع میں 70 مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔

گجرات کے مویشی پروری کے وزیر نے اعتراف کیا کہ ’انتظامی الجھنوں‘ کی وجہ سے امداد میں تاخیر ہوئی ہے اور انھوں نے ایک یا دو دن میں ’مثبت حل‘ تلاش کرنے کا وعدہ کیا۔

مظاہرین نے اب دھمکی دی ہے کہ اگر اس ماہ کے آخر تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو وسیع پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.