خبردار جو ادھر قدم بھی رکھا تو۔۔ میکے کی کونسی چھوٹی سے غلطی بیٹیوں کا گھر اجاڑ سکتی ہے؟

image

پاکستان میں روز بروز طلاق کی شرح بڑھتی جارہی ہے، میاں بیوی کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتوں سے شروع ہونے والی لڑائی اکثر طلاق پر ختم ہوتی ہے اور اس میں دونوں فریقین کے اہل خانہ کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے۔

جہاں لڑکے کے اہل خانہ لڑکی میں برائیاں نکال لیتے ہیں اسی طرح لڑکی کا خاندان لڑکے میں خامیاں ڈھونڈ لیتا ہے لیکن اگر دونوں اطراف سے میانہ روی اور معاملہ فہمی سے کام لیا جائے تو معاملات کو انتہائی سطح پر جانے سے روکا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک اسٹوری میں میاں بیوی کے درمیان لڑائی کا احاطہ کیا گیا ہے کہ صبح ہی صبح میاں بیوی کا خوب جھگڑا ہو گیا، بیگم صاحبہ غضبناک ہو کر بولیں۔۔۔ بس، بہت کر لیا برداشت، اب میں مزید ایک منٹ بھی تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

‎میاں جی بھی طیش میں تھے ۔۔بولے۔میں بھی تمہاری شکل دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکا ہوں۔ دفتر سے واپس آؤں تو مجھے نظر نہ آنا گھر میں۔۔ اٹھاؤ اپنا ٹین ڈبا اور نکلو یہاں سے" ۔۔ میاں جی غصے میں ہی دفتر چلے گئے۔

‎بیگم صاحبہ نے اپنی ماں کو فون کیا اور بتایا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بچوں سمیت میکے واپس آ رہی ہے، اب مزید نہیں رہ سکتی اس جہنم میں۔

‎ماں نے کہا انسان بن کے آرام سے وہیں بیٹھو، تیری بڑی بہن بھی اپنے میاں سے لڑ کر آئی تھی اور اسی ضد میں طلاق لے کر بیٹھی ہوئی ہے، اب تو نے وہی ڈرامہ شروع کر دیا ہے، خبردار جو ادھر قدم بھی رکھا تو۔۔ صلح کر لے میاں سے ۔۔ اب وہ اتنا بُرا بھی نہیں ہے"۔

‎ماں نے لال جھنڈی دکھائی تو بیگم صاحبہ کے ہوش ٹھکانے آئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں، جب رو کر تھکیں تو دل ہلکا ہو چکا تھا اور‎میاں کے ساتھ لڑائی کا سین سوچا تو اپنی بھی کافی غلطیاں نظر آئیں۔

‎منہ ہاتھ دھو کر فریش ہوئی اور میاں کی پسند کی ڈش بنانی شروع کر دی اور ساتھ اسپیشل کھیر بھی بنالی۔ سوچا شام کو میاں جی سے معافی مانگ لوں گی، اپنا گھر پھر بھی اپنا ہی ہوتا ہے۔

‎شام کو میاں جی گھر آئے تو بیگم نے ان کا اچھے طریقے سے استقبال کیا۔۔ جیسے صبح کچھ بھی نہ ہوا ہو۔۔‎میاں جی کا بھی خوشگوار حیرت ہوئی۔

‎کھانا کھانے کے بعد میاں جی جب کھیر کھا رہے تھے تو بولے۔

بیگم، کبھی کبھار میں بھی زیادتی کر جاتا ہوں۔ تم دل پر مت لیا کرو، بندہ بشر ہوں، غصہ آ ہی جاتا ہے"۔

‎میاں جی بیگم کے شکر گزار ہو رہے تھے اور بیگم صاحبہ دل ہی دل میں اپنی ماں کو دعائیں دے رہی تھیں جس کی سختی نے اس کو یوٹرن لینے پر مجبور کیا تھا ورنہ تو جذباتی فیصلے نے گھر تباہ کر دینا تھا۔

ویسے تو یہ ایک اسٹوری ہی ہے لیکن اگر والدین اپنی شادی شدہ اولاد کی ہر جائز ناجائز بات کو سپورٹ کرنا بند کر دیں تو رشتے بچ جاتے ہیں۔ آزما لیجئے۔


مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.