105 میل (170 کلومیٹر) طویل ایسٹ لنک کیبل کو پہنچنے والا نقصان بالٹک ریجن میں زیرِ آب کیبلز کو نقصان پہنچنے کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جس کا سلسلہ روس کے یوکرین پر حملوں کے بعد سے جاری ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن کی بہت سی جنگی حکمت عملیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یوکرین کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کے خلاف مسلسل اقدامات کیے جائیں25 دسمبر 2024 کو دوپہر کا وقت تھا جب فن لینڈ میں بجلی فراہم کرنے کی ذمہ دار کمپنی ’فنگرڈ‘ کے اہلکاروں کو احساس ہوا کہ فن لینڈ اور ایسٹونیا کے درمیان زیرِ سمندر بجلی کی ترسیل کی مرکزی کیبل کو کوئی ایسا نقصان پہنچا ہے جس سے ایسٹونیا کو فراہم کی جانے والی بجلی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
اسی شام ’فنگرڈ‘ کے اعلی عہدیدار آرٹو پاہکن نے فن لینڈ کے قومی نشریاتی ادارے پر خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم تخریب کاری اور تکنیکی خرابی سمیت مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہے ہیں تاہم ابھی تک ہم کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ جب بجلی کی ترسیل میں خرابی کا واقعہ پیش آیا اُس وقت کم از کم دو بحری جہاز سمندر کے اس حصے میں موجود تھے جہاں سے یہ کیبل گزرتی ہے۔‘
اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد فن لینڈ کے سرحدی محافظ (کوسٹ گارڈز) اُن دو میں ایک بحری جہاز ’ایگل ایس‘، جو کہ روس کی ملکیت تھا‘ پر حاوی آ کر اسے فن لینڈ کے پانیوں کی حدود میں لے آئے۔
ابتداً فن لینڈ میں حکام کی جانب سے شبہ ظاہر کیا گیا کہ اس روسی جہاز نے جان بوجھ کر ’ایسٹ لنک ٹو ‘نامی بجلی کی مرکزی زیر سمندر کیبل کو نقصان پہنچایا ہے۔
یورپی یونین کے مطابق ’ایگل ایس‘ نامی یہ بحری جہاز دراصل ’روس کے اُس خفیہ بحری بیڑے‘ کا حصہ ہے جسے ممکنہ طور پر روسی تیل کی ممنوعہ مصنوعات کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
فن لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ ’ایگل ایس‘ نے ممکنہ طور پر اپنا لنگر سمندر کی تہہ میں اُس مقام تک لے جا کر کھینچا جس سے زیرِ آب موجود ’ایسٹ لنک ٹو‘ کیبل کو نقصان پہنچا۔
سمندر کے اس مقام پر 262 فٹ کی گہرائی میں جہاز کا ایک لنگر بھی ملا ہے جہاں سے ’ایگل ایس‘ اُس روز گزرا تھا۔ دوسری جانب اس واقعے کے بعد ایگل ایس کی لی گئی تصاویر میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ جہاز کا بائیں جانب کا لنگر غائب ہے۔
فن لینڈ کی پولیس نے کیبل کو نقصان پہنچانے کے جرم کی تحقیقات میں نو مشتبہ افراد کی نشاندہی کی ہے۔
ایسٹونیا نے گذشتہ دسمبر میں روس کی جانب سے کی گئی مبینہ تخریب کاری کے بعد زیر سمندر کیبل کی حفاظت کے لیے بحری گشت شروع کیا ہےتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کسی حادثے یا انسانی غلطی کا امکان ہمیشہ مدنظر رہتا ہے لیکن اس طرح کے واقعات کا تسلسل سے پیش آنا یہ سوال اٹھاتا ہے کہ تخریب کاری کی صورت میں زیر سمندر کیبلز کس حد تک محفوظ ہیں۔
105 میل (170 کلومیٹر) طویل ایسٹ لنک کیبل کو پہنچنے والا نقصان بالٹک ریجن میں زیرِ آب کیبلز کو نقصان پہنچنے کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جس کا سلسلہ روس کے یوکرین پر حملوں کے بعد سے جاری ہے۔
ایسٹ لنک ٹو کا واقعہ سامنے آنے کے بعد نیٹو نے بحیرہ بالٹک میں اپنی فوج کی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایسٹونیا نے اپنی ایسٹ لنک ون زیرِ آب بجلی کی کیبل کی حفاظت کے لیے ایک بحری جہاز پیٹرولنگ کی غرض سے تعینات کیا ہے۔
یورپی یونین نے اس زیرِ آب کیبل کی تباہی کو ’اہم بنیادی ڈھانچےکو نقصان پہنچانے کے مشتبہ حملوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی‘ قرار دیا ہے۔
اس علاقے میں پھیلی تقریباً 600 زیرِ آب کیبلز بجلی اور دیگر معلومات کو سمندروں کے پار منتقل کرتی ہیں۔
یہ کیبلز اکثر خفیہ مقامات پر ساحل سے جڑتی ہیں اور ان کی مجموعی لمبائی آٹھ لاکھ 70 ہزار میل (14 لاکھ کلومیٹر)ہے۔ اِن میں سے زیادہ تر ڈیٹا کیبلز ہیں جو ہمارے تقریباً تمام انٹرنیٹ ٹریفک کی ذمہ دار ہیں۔
مغرب کی تشویش
یہ بات مکمل طور پر عیاں ہے کہ اس وقت روس اور مغربی یورپ کے بیشتر ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔
یہ تناؤ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر سنہ 2014 کے بعد سے جب روس نے مشرقی یوکرین میں بغاوت کی حمایت کی، کریمیا پر قبضہ کیا اور اسے روس میں ضم کر لیا۔
سنہ 2022 میں جب دو لاکھ روسی فوجیوں نے یوکرین پر حملہ کیا تو مغربی دنیا میں شدید غم و غصے لی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس جنگ کے آغاز کو اب تین سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس دوران دونوں طرف تقریباً 10 لاکھ افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
نیٹو کا ماننا ہے کہ روس ایک غیر اعلانیہ جنگ بھی لڑ رہا ہے جسے ’ہائبرڈ وار فیئر‘ کہا جاتا ہے۔
نیٹو کے مطابق روس کا ہدف مغربی یورپ کے ممالک ہیں اور اس کا مقصد مغربی ممالک کو یوکرین کی فوجی مدد سے روکنا یا انھیں ایسا کرنے پر سزا دینا ہے۔
نیٹو کے مطابق روس مغربی دارالحکومتوں کے خلاف ایک غیر اعلانیہ جنگ بھی لڑ رہا ہے جسے ’ہائبرڈ وار فیئر‘ کہا جاتا ہےہائبرڈ وارفیئر کو گرے زون یا ’سب-تھریش ہولڈ‘ وار فیئر بھی کہا جاتا ہے جو اس وقت شروع کی جاتی ہے جب کوئی دشمن ریاست خفیہ اور ناقابلِ تردید حملہ کرتی ہے اور یہ بظاہر انتہائی پراسرار حالات میں انجام دی جاتی ہے۔
ایسے حملے عام طور پر براہِ راست جنگ کا سبب نہیں بنتے لیکن حریف کے ملک میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
رائل یونائٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ سے منسلک سینیئرمحقق ڈاکٹر سدھارتھ کوشل اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’گہرے پانی میں غوطہ لگانے والی آبدوزیں ایسی گہرائیوں میں کیبلز کو کاٹ سکتی ہیں جہاں مرمت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ وہ حساس زیرِ آب کیبلز کو کاپی (چوری) بھی کر سکتی ہیں۔‘
ڈاکٹر کوشل مزید وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’اگر نیٹو کے ساتھ کوئی تنازع ہوا تو روس کا منصوبہ سمندر میں موجود بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے اور خشکی پر انفرسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر مشتمل ہو سکتا ہے تاکہ مغربی ممالک میں یوکرین کے لیے موجود عوامی حمایت کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا سکے۔‘
روس کی تردید
ہائبرڈ وار فیئر حملوں کی دیگر مثالوں میں گذشتہ سال برطانیہ، جرمنی اور پولینڈ میں کورئیر کمپنیوں کے پارسلز میں لگنے والی آگ کے واقعات بھی شامل ہیں۔
پولینڈ کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعات امریکہ اور کینیڈا جانے والی پروازوں کو نشانہ بنانے کی ریہرسل کے طور پر کیے گئے تھے۔
روس نے تخریب کاری کے اِن واقعات میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے تاہم شبہ کیا جاتا ہے کہ سویڈن اور جمہوریہ چیک سمیت یورپی یونین کے رکن ممالک میں ڈپو اور ٹرین لائنوں پر دیگر حملوں میں بھی روس ہی ملوث ہے۔
یہ واقعات مغربی حکومتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر روسی ملٹری انٹیلیجنس ان ممالک پر خفیہ اور گمنام حملوں کی ایک منظم مہم میں مصروف عمل ہے جو یوکرین کی حمایت کرتے ہیں تاکہ انھیں کمزور کیا جا سکے۔
روس کی آبدوز کی صلاحیتیں
فن لینڈ میں سب میرین کیبل کے نقصان سے روس کے شیڈو فلیٹ کے خلاف یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کا خطرہ پیدا ہو گیااس خطرے کو بھی اسی قدر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے کہ نیٹو اور یورپی یونین نے سنہ 2017 میں ہائبرڈ تھریٹس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہیلسنکی میں قائم یورپی سینٹر آف ایکسیلنس بنایا تھا۔
کنگز کالج لندن کے شعبہ وار سٹڈیز کے محقق کیمینو کاوناگ کا کہنا ہے کہ کچھ ریاستیں اس طرح کے اقدامات کی طرف راغب ہو سکتی ہیں کیونکہ ان کے قابل تردید ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔
کیمینو کاوناگ نے کہا کہ ’ گرے زون کی سرگرمی ایک ایسی چیز ہے جس کا جواب دینا بہت مشکل ہے تاہم حالیہ واقعات کے پیش نظر اب ریاستیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔‘
روس کی آبدوز کی صلاحیتوں کے حوالے سے بات کی جائے تو کوشل کے مطابق روسی فوج کے پاس ایک بڑا انفراسٹرکچر موجود ہے۔
ڈاکٹر کوشل کے مطابق کم گہرے پانیوں میں روس کی سپیشل فورسز’سپیٹسناز‘، فوجی انٹیلیجنس ’جی آر یو‘ گرو کے علاوہروس کی بحری فوج سرگرم رہتی ہیں۔
تاہم گہرے سمندر میں معلومات اکٹھا کرنا اور یہاں تخریب کاری کے مشن سرانجام دینا ڈائریکٹوریٹ فار ڈیپ سی ریسرچ (جی یو جی آئی) کی ذمہ داری ہے، جو براہِ راست روسی وزارت دفاع اور صدر پوتن کو جوابدہ ہے۔
ڈاکٹر کوشل کے مطابق ’جی یو جی آئی‘ سمندر کی سطح پر سے نگرانی کے لیے بحری جہاز استعمال کرتا ہے جس کی مدد سے آف شور ونڈ فارمز اور زیرِ آب کیبلز کے مقامات کی میپنگ یا نشاندہی کی جاتی ہے۔
گہرے سمندر میں اپنے مشنز کے لیے روس مدر شپس استعمال کرتا ہے جن میں ’بالگوروڈ‘ جیسی سابقہ جوہری میزائل اور کروز میزائل سے لیس آبدوزیں شامل ہیں۔
روس کے پاس ہزاروں میٹر گہرائی میں کام کی صلاحیت کی حامل اور ٹائٹینیم سے بنی آبدوزیں بھی ہیں جن میں نصب آلات گہرے پانیوں میں کارروائی سرانجام دے سکتے ہیں۔
ان آبدوزوں کا عملہ فقط تین افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو انتہائی تجربہ کار نیوی افسران ہوتے ہیں اور انھیں خلابازوں کی طرح انتہائی سخت تربیت دی جاتی ہے۔
اتنی گہرائی میں ان آبدوزوں کی نقل و حرکت کو جاننا ناممکنات میں سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ امریکی بحریہ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
روسی محقق اور مصنف کیر جائلز کا کہنا ہے کہ ’ان عوامل کی روشنی میں کیبلز کی ممکنہ تخریب کاری کو ایک الگ تھلگ یا عام واقعے کے طور پر نہیں بلکہ روس کی جانب سے مواصلاتی انفرسٹرکچر اور بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالنے کے ایک بڑے اور جامع پروگرام کے حصے کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔‘
روس کی ترجیح زیر سمندر کیبلز اور ٹیلی کمیونیکیشن پر اپنی برتری کو یقینی بنانے کے اس پروگرام کا حصہ ہے تاکہ مخصوص علاقوں میں دیگر ممالک سے معلومات تک رسائی کو روک سکیں اور صرف روس سے آنے والی معلومات تک رسائی ہو۔
کیرجائلز کے مطابق ’اسے ایک بہت اہم مقصد کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس نے کریمیا پر قبضہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔‘
زیرِ آب انفراسٹرکچر میں مشکوک نقل و حرکت
برطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی کے مطابق نومبر 2024 میں روس کا ایک جہاز ’یانتر‘ برطانیہ کے اہم ترین زیرِ آب انفراسٹرکچر کے قریب مشکوک طور پر منڈلاتا ہوا پایا گیا تھافن لینڈ وہ واحد ملک نہیں جس نے روسی سرگرمیوں خاص طور پر زیرِ آب کیبلز کے گرد مشکوک سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہو۔
برطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی کے مطابق نومبر 2024 میں روس کا نگرانی پر معمور ایک جہاز ’یانتر‘ برطانیہ کے اہم ترین زیرِ آب انفراسٹرکچر کے قریب مشکوک طور پر منڈلاتا ہوا پایا گیا۔
جنوری 2025 میں برطانوی بحریہ نے یہی مشکوک سرگرمیاں دوبارہ نوٹ کیں جب انھوں نے یانتر کی آمد و رفت کو مانیٹر کیا۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ روسی جہاز انٹیلیجنس اکٹھا کرنے اور برطانیہ کے زیرِ آب انفراسٹرکچر کی نقشہ سازی میں مصروف تھا۔
جان ہیلی نے ان واقعات کو روسی جارحیت کی ایک مثال قرار دیا تھا۔
برطانیہ کے پاس تقریباً 60 زیرِ آب کیبلز ہیں جو مختلف مقامات پر ملک کے مختلف ساحلی علاقوں میں پھیلی ہیں۔
ان میں ایسٹ اینگلیا اور جنوبی مغربی برطانیہ کے ساحلی علاقے خاص طور پر اہم ہیں جہاں ان کیبلز کی بڑی تعداد موجود ہے۔
کیر جائلز کا دعویٰ ہے کہ اگر برطانیہ کے آبدوز کے بنیادی انفراسٹرکچر پر کسی قسم کا حملہ ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ملک کے سسٹم میں دیگر مسائل بھی پیدا ہوں گے۔
لندن میں روسی سفارتخانے نے بحری جہاز ’یانتر‘ پر لگائے جانے والے برطانیہ کے الزامات کو مکمل بےبنیاد قرار دیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ برطانیہ اس معاملے کو جان بوجھ کر کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
اندھا یقین
تجزیہ کار سدھارتھ کوشل کے مطابق روسی آبدوزیں گہرائی میں ایسی کیبلز کو کاٹنے کے صلاحیت رکھتی ہیں جن کی مرمت انتہائی مشکل ہےرواں سال برطانیہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے زیر سمندر کیبلز پر ممکنہ حملے اور ملک کو درپیش خطرے کے بارے میں ایک تحقیق کا آغاز کیا ہے۔
روس کے مصنف اور تجزیہ کار ایڈورڈ لوکاس نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’روس نے شاید پہلے ہی اپنے زیر آب ڈرونز سمندر کی تہہ میں نصب کر دیے ہیں اور کیبلز اور پائپ لائنوں پر حملہ کرنے کے لیے احکامات کا انتظار کیا جا رہے ہے جو کسی وقت بھی موصول ہو سکتے ہیں یا شاید نہیں بھی۔‘
انھوں نے مزید کہ ’روس کا نگرانی کرنے والا جہاز یانتر برسوں سے گہرے سمندروں میں نہ جانے کیا کر رہا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ سب میرین کیبلز اور پائپ لائنز کا پورا عالمی نیٹ ورک کسی حد تک اندھے اعتماد کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔
’ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم ایک دشمن ریاست کا نشانہ بن جائیں گے، لیکن اب ہم دہائیوں کی اعتماد کا ثمر حاصل کر رہے ہیں۔ ہماری واحد امید اب روسیوں کو یہ باور کروانا ہے کہ ہمارے زیر سمندر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کی اُن کو بڑی قیمت چکانا ہو گی۔‘
ڈاکٹر کاواناگھ کا کہنا ہے حالیہ عرصے میں زیرِ آب کیبلز کے ڈیزائن میں یہ بات بھی مدنظر رکھی گئی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مرحلے پر خراب ہو سکتی ہیں، لہٰذا پہلے سے اس کی تیاری ضروری ہے۔‘
کیر جائلز مغربی ممالک کی طرف سے اس چیلنج کو تسلیم کرنے کے ردِعمل کو انتہائی تاخیر سے کیا گیا اقدام قرار دیتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسی ایک کیبل کو کاٹنے سے اب وہ اثر نہیں پڑے گا جو اُس وقت پڑ سکتا تھا جب روس نے پہلی بار اس حکمتِ عملی پر غور کیا تھا۔
ڈاکٹر کاواناگھ اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ اب مختلف راستوں سے جُڑی کئی کیبلز موجود ہیں اور زیر سمندر مرمت کا نظام زیادہ مستحکم بنا دیا گیا ہے۔
’یہ درحقیقت ایک اطمینان بخش بات ہے کہ بہت سے ممالک اب اپنی کمزوریوں کو بہتر طور پر سمجھنے پر توجہ دے رہے ہیں اور متعلقہ صنعت کے ساتھ مسلسل گہرے روابط رکھے ہوئے ہیں۔‘
چونکا دینے والی حقیقت
برطانوی بحریہ کی جانب سے روسی جہاز ’یانتر‘ کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہےیہ تمام واقعات، جن میں روس نے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے، یورپی حکومتوں کے لیے ایک چونکا دینے والی حقیقت بن کر سامنے آئے ہیں۔
اس سے یہ واضح ہوا ہے کہ زیر سمندر اہم مواصلاتی راستے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں جبکہ انھیں ہمہ وقت بچانا اور محفوظ رکھنا عملی طور پر ناممکن ہے۔
کیر جائلز کہتے ہیں کہ ’یہ خطرہ ہمیشہ سے موجود تھا۔ موجودہ ماحول میں خطرہ پیدا کرنے والے عناصر ان نظاموں کو آزمانے اور اس کے اثرات جاننے کے لیے زیادہ پُراعتماد محسوس کر رہے ہیں۔‘
اس ہائبرڈ جنگ میں روس کے لیے بھی سیکھنے کا ایک موقع ہے۔
’وہ اس کے اثرات کو دیکھ رہے ہیں اور ساتھ ہی وہ یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ ہدف بننے والے ملک کی تحقیقات، قانونی کارروائی اور اُن کے ردعمل کی صلاحیت کتنی مؤثر اور بروقت ہے۔‘
لندن میں روسی سفارتخانے نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک میں روس مخالف جنون میں اضافہ ہوا ہےطویل مدت میں دیکھا جائے تو روس کی گہرے سمندر میں کارروائی ایک ایسے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے جو جنگ جیسے تقریباً ناقابلِ تصور حالات میں یورپ کی معیشتوں اور اس کے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
کیرجائلز مزید کہتے ہیں کہ ’اور یہ خطرہ صرف زیرِ آب کیبلز تک محدود نہیں، بلکہ دیگر تمام ذرائع تک بھی پھیل سکتا ہے جن کے ذریعے روس بہت دور دراز سے لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔‘
اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ پراکسیز کے ذریعے تخریبی حملے ہیں، یہ سائبر حملے ہیں، آپ کے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کر کے یہ آپ کا اختیار ختم کرتے ہیں اور اس کی بھاری قیمت بھی آپ کو چکانی ہوتی ہے، یہ مسافر طیاروں پر آتش گیر آلات رکھنے سے متعلق کارروائیاں ہیں۔ اور بالآخر یہ ہزاروں کلومیٹر دور سے بغیر کسی اعلان اور بغیر کسی جنگ کے میزائل حملوں کا امکان ظاہر کرتے ہیں کیونکہ روس اسی طرح کام کرتا ہے۔‘
مغرب کو زیرِ آب کیبلز پر تخریب کاری کے خطرے سے نمٹنے کا جو چیلنج درپیش ہے وہ ولادیمیرپوتن کے روس سے نمٹنے کے لیے جاری کئی محاذوں میں سے صرف ایک ہے۔