کلبھوشن یادیو اور پاک بھارت تعلقات

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

جب سے بھارت میں مودی سرکا برسر اقتدارر آئی ہے تب سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری نہیں آ سکی بلکہ تعلقات مزید کشیدہ سے کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اس کے علاوہ مودی سرکار کے آنے سے آئے روز کنٹرول لائن پر بھارت کی جانب سے بے گناہ پاکستانی شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جاتی ہے اور ان کی جان و مال کا نقصان کیا جاتا ہے اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی جد وجہد آزادی میں بھی تیزی آگئی ہے اور وہاں آئے دن ہڑتالوں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کے حالات سے پریشان ہے جب تک دونوں ممالک کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تب تک یہ معصوم کشمیری موت کی سولی پر چڑھتے رہیں گے 70 سال کا طویل عرصہ گذر چکا ہے لیکن ابھی تک مقبوضہ کشمیر میں نہ تو امن آ سکا اور نہ ہی وہ آزادی حاصل کر سکے لیکن ان کی مسلسل جدو جہد اور جانوں کی قربانی سے بہت جلد آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہے اور تمام اندھیرے کے بادل چھٹنے والے ہیں۔

پاکستان میں گرفتار بھارتی بحریہ کے حاضر سروس جاسوس کلبھوشن یادیو جو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار ہوا تھا اب تک وہ اپنے جرائم کا اعتراف کر چکا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستانی حکام نے کلبھوشن کی درخواست پر اس کے ساتھ نرمی کا رویہ اپناتے ہوئے اسے اس کی بیوی اور ماں سے ملاقات کوممکن بنایا ملاقات کے دوران بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھی ان تک رسائی نہ دی گئی وہ ملاقات کو اپنے سامنے دیکھ ضرور سکتے تھے لیکن ان کی باتوں کو سن نہیں سکتے تھے ملاقات کا وقت تیس منٹ طے تھا لیکن کلبھوشن کی درخواست پر ملاقات کے دورانئے کو دس منٹ مزید بڑھا دیا گیا۔ ۔اس ساری صورت حال کو میڈیا سے دور ہی رکھا گیا اور باوجود کوشش کے میڈیا کو خاطر خواہ رسائی نہ مل سکی پاکستان ہر بار نرمی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن ہم بھارت پر باور کرواتے ہیں کہ ہماری اس نرمی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے یقینا یہ ملاقات انسانی ہمدردی کے طور پر کروائی گئی لیکن بھارت نے کھبی بھی ایسا رویہ پاکستان کے ساتھ روا نہیں رکھا بلکہ جہاں اسے پاکستان کے خلاف موقع ملتا ہے وہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور پاکستان کو ہر ممکن نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے کلبھوشن کی جاسوسی بھی اس کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ وہ پاکستان میں کی گئی تمام وارداتوں کا اعتراف کر چکا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ کلبھوشن انڈین ایجنسی را کے لئے پاکستان میں کام کرتا تھا اور پاکستان میں وہ سترہ بار جعلی پاسپورٹ پر سفر کر چکا تھا بھارت نے اسے جعلی پاسپورٹ پر گرفتار کیوں نہیں کیا ظاہر ہے کہ یہ جاسوس تھا اور اسے را کی پوری مدد حاصل تھی جس کی بنا پر وہ پاکستان میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام کرتا رہا اگر یہ گرفتار نہ ہوتا تو یہ ایران میں پاکستانی کونسل خانہ کو بھی نقصان پہچانا چاہتا تھا تاکہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو خراب کیا جائے لیکن اس منحوس جاسوس کا یہ ارادہ کامیاب نہ ہو سکا اور وہ اس سے پہلے ہی گرفتار ہو گیا۔بھارت کی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جس روز کلبھوشن سے پاکستان اس کی ماں اور بیوی سے انسانی ہمدردی کی بنا پر ملاقات کروا رہا تھا اسی روز بھارت کنٹرول لائن پر گولہ باری کر رہا تھا جس سے پاکستان کے تین فوجی شہید اور ایک زخمی ہوا ۔

کلبھوشن یادیو اپنا جرم قبول کر چکا ہے کہ اس نے پاکستان میں جاسوسی کی آڑ میں بہت سے معصوم لوگوں کا قتل عام کروایا ہے اس لئے عوام کا بھی مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان اسے ضرور اور جلد از جلد پھانسی پر لٹکائے تا کہ مرنے والوں کی روح کو سکون مل سکے اور جلد ایسے عناصر کو اپنے انجام تک پہنچایا جائے جو ملک میں فساد کا مؤجب بنتے ہیں تا کہ ملک میں امن و امان اور سلامتی ہو اور ملک ترقی کی طرف گامزن ہو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1337948 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
28 Dec, 2017 Views: 401

Comments

آپ کی رائے