نواب آف ڈھاکہ

(Shoukat Ullah, Banu)

خواجہ سلیم اﷲ ‘ نواب آف ڈھاکہ 7 جون 1871 ء کو احسان منزل ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام خواجہ احسان اﷲ اور دادا کا نام خواجہ عبدالغنی تھا، جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں ڈھاکہ کی تعمیر و ترقی کے لئے وقف کیں۔ گھرانے کی روایات کے مطابق آپ نے اردو، عربی، فارسی اور انگریزی کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔1893 ء میں ڈپٹی مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز ہوئے لیکن تین سال بعد ملازمت کو خیر آباد کہا اور کاروبار پر توجہ دینا شروع کی۔ 1901 ء میں والد کی وفات کے بعد ریاست ڈھاکہ کے نواب بن گئے۔
نواب سلیم اﷲ کی سیاست میں آمد 1903-04ء میں اس وقت ہوئی جب آپ نے تقسیم بنگال کے حکومتی منصوبے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ جب ہندوستان کے وائسرائے لارڈ کرزن مشرقی بنگال کے دورے پر آئے تو انہوں نے 18 اور 19 فروری 1904ء کو آپ کی میزبانی قبول کی۔ نتیجتاً وائسرائے نے آپ سے بات چیت کے بعد اپنے تقسیم بنگال کے منصوبے میں کچھ تبدیلیاں کیں اور جب 16 اکتوبر 1905 ء کو تقسیم کا اعلان ہوا تو ڈھاکہ نئے مشرقی بنگال اور آسام کا دارالخلافہ بن گیا جس سے آپ کی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہوا۔

تقسیم بنگال سے مسلمان بڑے خوش تھے کیوں کہ مشرقی بنگال میں ان کی اکثریت تھی جو کہ اب ایک صوبہ بن گیا لیکن دوسری طرف ہندؤ اس تقسیم سے نا خوش تھے اور انہوں نے اس تقسیم کی منسوخی کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا۔ نواب سلیم اﷲ نے تقسیم کے فوراً بعد مشرقی بنگال کے مسلم اکابرین کا ایک اجلاس نارتھ بروک ہال میں طلب کیا اور محمڈن صوبائی ؤنین کی داغ بیل ڈالی جس نے بنگال کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ آپ نے ہندؤوں اور آل انڈیا نیشنل کانگریس کی بھر پور مخالفت کے باوجود جگہ جگہ اجتماعات سے خطاب کیے اور لوگوں کو نئے صوبے کی اہمیت اور ضرورت کی جانب قائل کیا۔ آپ نے1906 ء میں مسلم آل انڈیا کانفیڈیسی نامی ایک جماعت بنانے کو منصوبہ بنایا جس کے سلسلے میں آپ نے برصغیر کے مسلمان قائدین اور زعماء کے ساتھ رابطہ کیا۔ دوسری جانب علی گڑھ تحریک کے رہنماؤں نے 20ویں آل انڈیا محمڈن تعلیمی کانفرنس کا ڈھاکہ میں انعقاد کا فیصلہ کیا۔ پس اس مقصد کے لئے 27 تا 30 دسمبر 1906 ء دو ہزار کے لگ بھگ مندوبین جن میں نواب وقارالملک، حکیم اجمل خان ، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ظفر علی خان بھی شامل تھے ڈھاکہ میں آپ کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے۔ اس اجلاس کی صدارت نواب وقارالملک نے کی جس میں آپ نے مسلمانوں کے لئے ایک الگ سیاسی اور نمائندہ جماعت قائم کرنے کی قرارداد پیش کی۔ جس کی تائید حکیم اجمل خان نے کی اور اس کے بعد یہ قرارداد مشترکہ طور پر منظور کی گئی۔ یہی وہ تاریخی اجلاس تھا جس میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اور آپ اس کے پہلے نائب صدر منتخب ہوئے۔ اس تاریخی اجلاس پر چھ لاکھ روپے خرچ ہوئے جو نواب صاحب نے خود برداشت کیے۔ اسی سال بنگال میں مسلم لیگ کا قیام بھی عمل میں آیا اور آپ اس کے صدر بنے ۔

نواب سلیم اﷲ کو سخت صدمہ اس وقت پہنچا جب جارج پنجم نے 12 دسمبر 1911 ء کو دہلی دربارمیں تقسیم بنگال کی تنسیخ کا اعلان کیا ۔تنسیخ کے فوراً بعد آپ نے ہندوستان کے وائسرزئے لارڈ ہارڈنگ کے سامنے آٹھ نکات پیش کیے جس میں مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کا مطالبہ سرفہرست تھا اور وائسرائے کی بنگال آمد پر مسلم قائدین کا ایک وفد آپ کی قیادت میں ان سے ملا۔ جس کے نتیجے میں ڈھاکہ یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا اور آپ ہی کی کاوشوں سے یونیورسٹی میں تاریخ کے شعبے کا اجراء ہوا۔

آپ ایک دیانت دار، بہادر، پاک باز اور خلق دوست شخص تھے۔جس نے مسلمانوں کی معاشی ابتری دور کرنے کے لئے کافی تگ و دو کی۔ آپ نے 1902 میں ڈھاکہ انجینئرنگ سکول کے قیام کے لئے ایک لاکھ بارہ ہزار روپے کا عطیہ دیا جو آج کل بنگلادیش یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے نام سے موسوم ہے۔ آپ نے نہ صرف زرعی اور صنعتی شعبوں میں منصوبے شروع کیے بلکہ مساجد، مدارس اور ہسپتالوں کی تعمیر بھی کی۔آپ کی دلچسپی سے شبینہ سکول قائم ہوا اور آپ ہی کی زیرسرپرستی ڈھاکہ میں دستکاری کی صنعت کو نئی زندگی ملی۔

نواب سلیم اﷲ 1906ء تا 1912 ء مشرقی بنگال اور آسام قانون ساز اسمبلی اور امپیریل کونسل کے رکن بنے۔ برطانوی حکومت نے آپ کو نواب بہادر اور کمانڈر آف دی سٹار آف انڈیا کے خطابات سے نوازا۔ تقسیم بنگال کی منسوخی اور بیٹے کی وفات کے واقعات نے آپ کی صحت پر بڑا برا اثر ڈالا اور آپ سخت بیمار ہوگئے۔ آپ کا انتقال 16 جنوری 1915 ء کو چورنگی کلکتہ میں ہوا۔ جہاں سے آپ کی میت کو ڈھاکہ لایا گیا اور پورے ریاستی اعزاز کے ساتھ آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 129145 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Dec, 2017 Views: 445

Comments

آپ کی رائے