دسمبرمیں دہشت گردی کیوں؟

(Sami Ullah Malik, )

جب سے ضرب عضب اورردّالفسادجیسے کامیاب آپریشنزمیں ہماری مسلح بہادرافواج نے اپنے نوجوان سپوتوں کی قربانیوں کے بعدوطن عزیز سے دہشتگردی کے محفوظ ٹھکانے ختم کیے ہیں اس وقت سے دہشتگردوں کے سلیپنگ سیل افغانستان سے بھارتی سرپرستی میں چلنے والے اڈوں سے مبینہ دہشتگرداب سان اہداف تلاش کرکے انہیں نشانہ بنانے کی مکروہ اورانسانیت سوزکاروائیوں میں مصروف ہیں۔ابھی چنددن قبل ایک بارپھر کوئٹہ میں انہی ظالم دہشت گردوں نے زرغون روڈپرواقع قدیم چرچ پردعائیہ تقریب کے دوران ایک خودکش حملے میں خون کی جوہولی کھیلی ہے اس سے ملک بھرمیں پاکستانی عوام غم میں ڈوبے اپنے مسیحی بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ نہ صرف شریک ہیں بلکہ ان کے لئے تعزیتی اجلاس بھی منعقدکرکے ان سے مکمل یکجہتی کابھرپوراظہارکررہے ہیں۔ حکومت بلوچستان کی طرف سے فی الفور متاثرین کی فی کس دس دس لاکھ کی امدادکے اعلان کے ساتھ چرچ کی ازسرنوتمام تعمیرکی ذمہ داری کابیڑہ بھی اٹھایاہے ۔ملک بھرمیں ہر مذہب کے پیروکاراس سانحے کے سوگ میں بشپ لاہور کی طرف سے منعقدتعزیتی اجلاس کے بعدملک بھرکے تمام بڑے شہروں کی معروف شاہراہوں پرشمعیں روشن کرکے مسیحی برادری کے ساتھ اپنی غم گساری کااظہاربھی کررہے ہیں۔

چرچ پرتین دہشتگردوں نے اس وقت حملہ کیاجب وہاں مسیحی برادری کے چار سوسے زائدافرادعبادت میں مصروف تھے۔سیکورٹی ایجنسیزکی فوری کاروائی کی بناء پرایک دہشتگرد چرچ کے دروازے پرہی جہنم واصل کردیاگیاجبکہ دوسرے نے عجلت میں خودکوچرچ کے احاطے میں ہی اڑالیا اور تیسراموقع پر گڑبڑکے دوران فرارہوگیا۔امن دشمنوں نے ایک بارپھرعورتوں اوربچوں پرحملہ کرکے بھارتی برہمن اوراس کے ہمنواؤں کے بزدل چہروں کوننگاکردیاہے۔خاص طورپر کوئٹہ میں چرچ پرعبادت کے دوران کاروائی اس امرکی مظہرہے کہ اس کاروائی میں بھارتی رسوائے زمانہ ''را'' ملوث ہے کیونکہ اس کامقصدپاکستان کو پوری دنیامیں بدنام کرنے کے علاوہ وطن عزیزمیں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اورانتقامی جذبات ابھارنے کی سازش معلوم ہوتی ہے جوایک مرتبہ پھربری طرح ناکام ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل بھی بھارتی بدنامہ زمانہ ''را'' کئی مرتبہ ارض وطن میں فرقہ واریت پھیلانے کی کاروائیوں میں ملوث رہی ہے جس کے مصدقہ شواہدنہ صرف اقوام متحدہ بلکہ یورپی یونین کے علاوہ امریکاسمیت دوسرے اہم ملکوں کے سامنے بھی رکھے گئے ہیں۔یہ توشکرہے کہ سیکورٹی فورسزنے ان دہشتگردوں کوچرچ کے باہرہی الجھالیاوگرنہ جیسے کی بتایا جاتاہے کہ چرچ میں اس وقت چارسوسے زائد بچوں سمیت مردوزن عبادت میں مصروف تھے۔ان دہشت گردوں میں سے ایک بھی چرچ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتاتوخاکم بدہن خوفناک صورتحال پیداہو سکتی تھی۔

اس ضمن میں بعض حلقوں کی جانب سے سیاسی اسکورکیلئے سیکورٹی فورسز پراعتراض بھی کئے جارہے ہیں کہ چرچ کے باہرنصب سی سی ٹی کیمروں سے حاصل ہونے والی فوٹیج سے ظاہرہوتاہے کہ وہاں سیکورٹی کے انتظامات ناکافی تھے جبکہ یہ درست نہیں ہے کیونکہ یہ آسان اہداف اتنی زیادہ تعداد میں ہیں کہ ان تمام پرمستقل طورپرسیکورٹی اہلکارمتعین کرناممکن نہیں،وہ خواہ عبادت گاہیں ہوں یامساجد،تفریحی مقامات ہوں یااسکول،یہ اتنی وسیع تعدادمیں ہیں کہ ان تمام پرعلیحدہ علیحدہ سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے لاکھوں تربیت یافتہ افرادکی ضرورت ہے اس لئے ان اداروں اورعوام کوبھی حکومت کاہاتھ بٹانے کیلئے اپنے سیکورٹی گارڈزکی خدمات حاصل کرنی چاہئیں لیکن اس کے باوجود فورسز کاانتہائی سرعت کے ساتھ چرچ میں داخل ہونے سے قبل ان دہشتگردوں کے مذموم منصوبے کوناکام بنانے پران کی حوصلہ افزائی ضرور کرنی چاہئے۔ایسی ہی کاروائی پشاورمیں بھی دیکھنے میں آئی تھی جہاں پولیس اورسیکورٹی فورسز کے ساتھ فوری طورپر دہشتگردوں کے ہدف پرپہنچ کرانہیں ان کے منصوبے کے مطابق اقدامات کی اجازت نہیں دی اور فوری طورپران کوراستے میں ہی الجھاکرنہ صرف ناکام بلکہ انہیں انجام بدتک پہنچادیاتھا۔

جہاں تک سیکورٹی فورسزکاتعلق ہے تواس ضمن میں آئی جی پولیس بلوچستان مے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ خود کش بمباراگردعائیہ تقریب تک یااس کے قریب ترپہنچ جاتے توناقابل تلافی نقصان ہوسکتاتھا۔چرچ پردہشتگردوں کا بزدلانہ حملہ سیکورٹی فورسزکی بروقت کاروائی کی وجہ سے ناکام ہو گیا،اب ان دونوں دہشتگردوں کی لاشیں ہسپتال میں مزید کاروائی کیلئے بھیج دی گئی ہیں اورقانون نافذکرنے والے اداروں نے اپنی تحقیقات کابھی فوری آغاز کردیاہے۔ بلوچستان کے وزیرداخلہ سرفرازبگٹی نے بھی میڈیاکوبتایاکہ پولیس فورسزکی تعیناتی کے باعث دہشتگردمسیحی بھائیوں کو یرغمال بنانے میں ناکام رہے۔ دہشتگردوں نے عورتوں اوربچوں پروارکرکے اپنی جس بزدلی کااظہارکیاہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان وحشیوں کوہمارے معصوم پھول جیسے بچوں اور عورتوں کونشانہ بنانے کاآسان ٹارگٹ اس لئے دیاجاتاہے تاکہ ایسے انسانیت سوزحملوں سے قوم میں دہشت ،خوف اور سراسیمگی کی کیفیت پیداکی جائے لیکن ان کاہرجگہ نہ صرف بھرپورمقابلہ بلکہ ان کاتعاقب بھی جاری رکھاجائے گا۔

ایک خودکش حملہ آورنے جب چرچ میں داخل نہ ہونے پرخودکوچرچ کےاحاطے میں بم دہماکے سے اڑالیاتوفطری طورپرمعصوم بچے ،خواتین اور دعائیہ تقریب میں شامل دیگرافراد جان بچانے کیلئے بھاگ نکلے۔ ان دہشتگردوں نے توایک مرتبہ پھرماں باپ کے جگرگوشوں کو خون میں نہلادینے کی انسانیت سوزمکروہ کوشش کی لیکن سیکورٹی فورسزنے ان درندوں کوخون میں نہلاکرجہنم واصل کردیا۔ چرچ میں بعض نہتی خواتین زخمی بھی ہوئیں اوراس واقعے کی خبر کے بعدان کےدیگرعزیزواقارب اپنے پیاروں کی خبرلینے کیلئے مقامی ہسپتالوں میں بھی پہنچ گئے جہاں ابھی تک بعض زخمیوں کا سرکاری طورپرتسلی بخش علاج کیاجارہاہے اورکئی زخمی افرادکوابتدائی طبی امدادکے بعدگھروں کورخصت کردیاگیا ہے ۔وطن عزیزمیں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی گواہی توہماراقومی پرچم بھی دیتاہے لیکن معصوم بچوں اورخواتین پر چھپ کروارکرناصرف دہشت گردی ہی نہیں بلکہ حیوانیت ہے۔

کسی مسلم ریاست میں غیرمسلم شہریوں کی جان ومال اورعزت و آبروکے تحفظ کی ضمانت دینادین اسلام کا اہم حصہ ہے لہندااس ضمن میں یہ سوچنا کہ اسلامی ریاست میں غیرمسلم اقلیتیں محفوظ نہیں، درست نہیں ہوگاکیونکہ پاکستان میں جان،مال،آبروکے تحفظ کے حوالے سےمسلم اورغیرمسلم میں کوئی فرق نہیں،جہاں تک چرچ پرحملے کاتعلق ہے توپاکستان میں صرف گرجاگھروں پرہی نہیں بلکہ مساجد،مذہبی عقیدت کے جلسوں جلوسوں ،امام بارگاہوں، جنازوں اورجمعہ اورعیدین کے اجتماعات پرحتی کہ بچوں کے اسکولوں تک پربھی حملے کیے گئے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ دہشت گردوں کانہ کوئی مذہب ہے نہ ہی کوئی اخلاقیات،ان کاصرف ایک ہی مذہب ہے، اوروہ ہے شیطانیت کی پیروی۔وہ جس اندازمیں معصوم وبیگناہ شہریوں،خواتین اور ننھے معصوم فرشتہ صفت بچوں کونشانہ بنارہے ہیں ،وہ ہرلحاظ سے قابل نفرت ہے۔

اس ضمن میں ایسامحسوس ہوتاہے کہ دہشتگردوں نے دسمبرکے تیسرے ہفتے کوغیرانسانی کاروائیوں کیلئے خصوصی اہمیت دے رکھی ہے کیونکہ ۱۶ دسمبر۱۹۷۱ء اور۱۶دسمبر۲۰۱۴ءکوسقوط ڈھاکااورسانحہ آرمی پبلک اسکول پشاورکے صدمات سے دوچارہوناپڑاتھااوراب ۱۸دسمبرکوچرچ کو نشانہ بنایاگیا۔ کوئٹہ میں چرچ پرمجوزہ حملہ سے سوچناہوگاکہ آخرگزشتہ کچھ عرصے سے پنجاب اور سندھ میں دہشتگردی کی وارداتوں میں کماحقہ کمی دیکھنے میں آرہی ہے جبکہ خیبر پختونخواہ اوربلوچستان میں مقابلتاًان وارداتوں میں اضافہ نظرآرہاہے ۔ ادھر حال ہی میں امریکی خارجہ سیکرٹری ریکس ٹلرسن اور امریکی نائب صدرمائیک پینس کی جانب سے پاکستان کو بعض علاقوں کے الگ کرنے کی سنگین دہمکی کے بعدان خطوط پرغورکریں توایک ہی وجہ سامنے آتی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہمارے ازلی وابدی دشمنوں کوبری طرح کھٹک رہاہے ۔یہ منصوبہ گوادرمیں زیرتعمیر بلوچستان کا ایک اہم حصہ ہے ۔

اس ضمن میں یہ بھی یادرکھناضروری ہے کہ کہ بھارت ،اسرائیل اورامریکاکی جانب سے سی پیک منصوبے کی شدید ترین مخالفت جاری ہے ۔ بھارت اور اسرائیل کی مخالفت کی وجہ تو یہ ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان اپنی معیشت میں نہ صرف خودکفیل ہوجائے گابلکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطرخواہ اضافے سے ملکی قرضے سے بھی نجات مل جائے گی جس کی وجہ سے پاکستان اپنی ہرطرح کی معاشی اورخارجہ پابندیوں سے نجات حاصل کرلے گا۔اس اقتصادی استحکام کی بنیادپرہمارے سائنسدان آزادی کے ساتھ اپنے تمام تجربات میں مصروف ہوجائیں گے اورجو سائنسدان و انجینئرزاب معاشی تنگی کے اس دورمیں جے ایف تھنڈر۱۷جیسے جنگی طیارے اورمیزائل ٹینالوجی میں بھارت واسرائیل سے کہیں آگیاوربہترکارکردگی کامظاہرہ کررہے ہیں،وہ سائنسدان وانجینئرزمالی وسائل میں اضافے کے بعدکیاکیاایجادات سامنے لائیں گے جس سے بھارت اوراسرائیل کا اپنے اتحادیوں سمیت مقابلہ کرنانہ صرف ناممکن ہوجائے گابلکہ دفاعی میدان میں پاکستان کومزیدناقابل تسخیربنانے میں مدد ملے گی،یہی وجہ ہے کہ موساد''را''اورسی آئی اے کے ایجنٹوں کی پوری توجہ بلوچستان اورخیرپختونخواہ پرمرکوزہے۔

کوئٹہ میں دہشتگردی کے اگلے روزہی کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کواڑانے کی ایک گھناؤنی کوشش ناکام بنادی گئی۔بم ڈسپوزل اسکواڈنے ٹریک کے قریب نصب بم ناکارہ بنایاہے جس سے خاکم بدہن کسی مسافرٹرین کونقصان پہنچانے کا منصوبہ تھا۔تخریب کاری کے مزیدواقعات کی بھی خفیہ ذرائع سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اس لئے اب پوری قوم کوچوکنارہنے کی ضرورت ہے۔اس میں شک نہیں کہ کوئٹہ بڑے المیہ سے بچ گیااورایک پولیس اہلکار نے توبہادری کا بے مثل مظاہرہ کرکے پوری قوم کاحوصلہ بڑھایاہے مگراب بھی فول پروف تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت اپنی جگہ موجودہے جس پر تمام ذمہ داروں کواوّلین ترجیح کے تحت توجہ دیناہوگی۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231882 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Dec, 2017 Views: 340

Comments

آپ کی رائے