گدا گری پیشہ یا مجبوری

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

کل میں بھانجی کی شادی سے فارغ ہو کر بائی روڈ کھاریاں سے لاہور کی طرف روانہ ہوا تو راستے میں جہاں کہیں بھی ٹول پلازہ آتا تو مجھے ایک لمبی لائن گدا گروں کی نظر آتی ان میں عورتیں ،بچے اور معذور سبھی شامل تھے ہو سکتا ہے ان میں سے کچھ مجبوری کی وجہ سے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو گئے ہوں لیکن زیادہ تر ایک مافیہ کے تحت ہی کام کرتے ہیں جس طرح کسی چیز کی فروخت کے لئے ٹھیکہ دیا جاتا ہے اسی طرح گدا گری کا بھی ٹھیکہ اور مخصوص علاقے ہوتے ہیں گداگری بھی ایک پیشہ کی شکل اختیار کر گئی ہے اور اس میں ملوث ایسے لوگ یقیناً مجبور ،لاچار اور معذور افراد سے رابطہ کرتے ہوں گے اور انہیں سڑک کے کنارے لا کر بھیک مانگنے پرمجبور کرتے ہوں گے ۔

گورنمنٹ نے کئی بار ان کے خلاف کاروائی کی مگر سب بے سود رہا اور یہ لوگ پھر سے اسی پیشہ کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں لاہور شہر میں مانگنے والوں کی کمی نہیں ہے اور ابھی بھی یہ جا بجا نظر آتے ہیں ان میں سے کچھ ایسے افراد یا خواتین ہیں جو گلیوں محلوں میں گدا گری کے بہانے چوری چکاری کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ایسے گروہوں کے خلاف حکومت کو سخت ایکش لینے کی ضرورت ہے تا کہ یہ جرائم پیشہ افراد اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکیں زیادہ تر بھکاری نقلی زخم یا معذوری ظاہر کرتے ہیں اور اس طرح لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کی غمازی ہے کہ ریاست اسے مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

موجودہ ریاست کا کام ہے کہ ان گداگروں کا مکمل خاتمہ کرے اور ان کے لئے ایسے ٹرینگ سنٹر بنائے جائیں جہاں انہیں مختلف ہنر سکھائے جائیں اور ان کے لئے مناسب ملازمت کا بندوبست کر دیا جائے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے پیشہ ور گداگر کام سے نظریں چراتے ہیں کیونکہ ان کو مفت کا مال کھانے کی عادت ہو چکی ہوتی ہے محنت کئے بغیر وہ کافی پیسہ کما لیتے ہیں ہمارے ہاں ابھی بھی چاہے کوئی غریب ہو یا امیر ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق نادار کی مدد ضرور کرتا ہے اور اسی کمزوری کا گداگر فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ گداگری ایک لعنت کی شکل میں ہمارے معاشرے میں موجود ہے اس کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے تا کہ پیشہ ور افراد سے شہریوں کی جان چھڑائی جا سکے ان پیشہ ور گداگروں کی موجودگی کی وجہ سے نادار لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ہمیں کھبی بھی ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیئے۔چلیں اگر معذور یا لاچار شخص ہو تو بات بنتی ہے لیکن ہم اکثر مسجدوں اور خانقاہوں کے باہر اچھے خاصے ہٹے کٹے افراد کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھتے ہیں در اصل یہی لوگ پیشہ ور ہیں اور محنت کرنے سے جی چراتے ہیں ایسے افراد کے خلاف ریاست کو سخت کاروائی کرنی ہو گی تا کہ یہ افراد بھیک مانگنے کی بجائے محنت مزدوری سے اپنے بچوں کا پیٹ پالیں۔

میں نے ایسے افراد بھی دیکھے ہیں جو معذور ہونے کے باوجود بھیک جیسی لعنت سے دور ہیں اور پانے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لئے چھوٹا موٹا کاروبار کر رہے ہیں حدیث بھی ہے کہ مانگنے والے ہاتھ سے دینے والا ہاتھ بہتر ہے عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ رمضان شروع ہوتے ہیں بٖڑے شہروں میں گداگروں کا رش بڑھ جاتا ہے لیکن اب حکومت پنجاب نے جب سے سختی کی ہے رمضان میں ان گداگروں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے ۔ریاست کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم ایسے پیشہ ور گداگروں کو بھیک نہ دیں اگر ہم ذرا غور کریں تو ہمیں اپنے آگے پیچھے ایسے کئی سفید پوش لوگ مل جاتے ہیں جنہیں ہماری مدد کی اشد ضرورت ہوتی ہے اس کے عالوہ ایسے مجبور ماں باپ بھی ہوتے ہیں جن کی بیٹیاں جوان ہو چکی ہیں لیکن وہ ان کے ہاتھ پیلے نہیں کر سکتے ہمیں ایسے لوگوں کی مدد ضرور کرنی چاہیئے ۔ملک میں عشر و زکوۃ اور بیت المال کا محکمہ موجود ہے لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کی تعداد میں ذرا برابر فرق نہیں پڑتا اس سے لگتا ہے کہ یہ حکومت کی کمزوری ہے اس پر مکمل عمل درآمد کروانے کی اشد ضرورت ہے تا کہ حق داروں تک ان کا حق پہنچ جائے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1326802 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
03 Jan, 2018 Views: 413

Comments

آپ کی رائے