زمہ داری بمقابلہ انتخاب داری

(Sana, Lahore)

دیانتداری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بد دیانتی
ذمہ داری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غیر ذمہ داری
اخلاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بد اخلاقی
سچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھوٹ
یہ بکھرے پڑے ہیں۔
آپ ان میں سے کیا منتخب کرتے ہیں ۔ پھر آپکی حرکات یہ سب کچھ آپکو منتخب کروا رہی ہوتی ہیں۔ یاد رکھئے گا ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ آپ بے ایمانی والی حرکتیں کریں اور سوچیں کہ انتخاب میں نے دیانتداری کا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے لئے یا اپنی اولاد کے لئے۔
سو جو حرکتیں ہیں وہ ہی انتخاب ہو رہا ہوگا زندگی کی ریس میں
جو انتخاب ہو رہا ہوگا ویسی ہی حرکتیں ہوں گی زندگی کے سفر میں

انسان کی خوش قسمتی میرے حساب سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ "ذمہ داری" کو ٹھیک طرح سے اور حقیقی معنوں میں اُٹھانا جانتا ہو۔ ہم دوسروں کی ذمہ داری کو تو جانتے ہیں مگر ہماری اپنی کیا ذمہ داری ہے ، کتنی ہے، کہاں تک ہے، کب تک ہے، کہاں پر نہیں، کس کس بات کے لئے ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ ٹھیک طرح سے نہیں جان پاتے ۔
اگر دیکھا جائے تو ذمہ داری ہے کیا؟ ذمہ کہ آپکے کھاتے آپکے حصے کیا کیا کتنا کتنا کہاں کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کام و رویہ ہے۔
ہمارے ہاں معاشی ذمہ داری، تحفظاتی ذمہ داری، گھریلو ذمہ داری کا تصور ہے۔ ہاں اس کو کون کتنا اٹھاتا ہے یہ فرق ہے۔ کہیں کہیں کوئی نظر آئیگا جو دوسروں کے حصے کی ذمہ داریاں بھی اٹھاتا نظر آئیگا۔ کہیں کوئی اپنے حصے کی بھی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نظر نہیں آئیگا۔
پھر ایک ذمہ داری وہ ہے جسکا جواب ہمیں اللہ کے ہاں دینا ہے۔ انسان اپنے چھوٹے سے چھوٹے ۔۔۔۔۔۔۔ سے لے کر، بڑے سے بڑے اعمال کے لئے اللہ کے ہاں خود جواب دہ ہے ۔ عام تصور یہ ہے کہ اگر کسی نے مجھے گالی دی ہے تو مجھے گالی دینی ہے۔ جواب میں۔ جبکہ ضرورت یا انسان کا اختیار ہوتا ہے کہ انسان گالی کا جواب گالی سے دے یا نہ دے۔
انسان کو کسی نے کتنا ہی بڑا دکھ اور دھوکا دیا ہے تو انسان اس کا جواب کس طرح سے دیتا ہے۔ جواب میں اس سے بڑا دکھ دیتا ہے اس سے کم دکھ دیتا ہے یا سرے سے ہی دکھ نہیں دیتا ۔
1۔ انسان اللہ کے ہاں اپنے قول اور فعل کا ذمہ دار ہے۔ انسان کبھی بھی اپنی گالی کو اپنے ہاتھ سے ماری جانے والی چپیڑ کو یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکے گا کہ اس نے مجھے ماری تھی۔اسی لئے جواب میں ماری۔
2۔ جو بھی انسان کے ساتھ چل رہا ہے وہ چلتا رہے گا خواہ اچھا ہو یا برا۔ہاں انسان اس پر کس طرح سے رد عمل دیتا ہے۔ اصل معاملہ اور اصل ذمہ داری یہ ہے۔ جو کہ ہم سمجھتے نہیں۔
3۔ آپکے ماں باپ بھی انسان پہلے ہیں ، ماں اور باپ بعد میں۔ ان سے ہونے والی غلطیاں یہ تو ثابت کرتی ہیں کہ آپ کے حوالے سے وہ کوئی ذمہ داری اٹھا نہیں سکے۔ مگر آپ اولاد ہونے کے حوالے سے انکی ذمہ داری ٹھیک سے نہ اٹھائیں جس طرح اٹھانے کا حکم ہے تو یہ آپکا گناہ ہوگا۔ یہ آپکی ذمہ داری میں کوتاہی ہوگی۔
4۔ آپ کو صحتمندانہ اصول ایک اچھی زندگی کے لئے جو سنت سے بتائے گئے ہیں ۔ آپ ان پر کتنا عمل کرتے ہیں یہ آپکی ذمہ داری ہے۔ مگر جو کچھ باہر کھانے پینے کی اشیا کے حوالے سے گند کھلایا جارہا ہے اس پر شور مچاتے رہتے ہیں۔
تو آپ اپنی صحت کو بہتر بنانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری اٹھا نہیں رہے بلکہ دوسروں کو الزام دییے جارہے ہیں۔
5۔ آپکو اپنے رشتہ داروں سے بے شمار گلے اور شکوے ہیں۔ مگر جو رشتہ داروں کا حق ہے وہ آپ انکو دیتے نہیں۔ انکی ایک بدتمیزی کے جواب میں چار گنا بدتمیزی کر سکتے ہیں تو یہ آپکی غلطی ہے۔ آپ اپنی ذمہ داری اٹھا نہیں رہے۔ دوسروں کو کوس رہے ہیں۔
آپ سے آپکی ذمہ داری کا پوچھا جائیگانہ کہ رشتہ داروں کے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔
6۔ یہ سچ ہے آج ہم جس وقت میں ہیں یہاں پر ایماندار سے ذیادہ آسان بے اییمان ہونا ہے۔ بے حیا ہونا ذیادہ آسان ہے۔
لیکن ہم کس حد تک اپنی روح اور مزہبی رجحان کے لئے کام کرتے ہیں یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ دوسروں کو کتنا کہتے ہیں۔ یہ بعد میں آئیگا۔
پہلے خود تو ٹھیک ہو لیں۔
7۔ یہ کام میرے لحاظ سے سب سے مشکل ہے۔ آپ ایک اخلاق والے انسان ہوں اور وہ بھی اپنی مرضی سے اپنے انتخاب سے۔
جب بھی کوئی آپکے ساتھ بدتمیزی کر رہا مگر آپ پھر بھی تحمل کا دامن نہ چھوڑیں۔
جب بھی کوئی آپکو نقصان پہنچانے پر ہے آپ کو اتنا شعور ہو کہ خود کو بھی نقصان سے بچائیں اور دوسرے کا بھی کم سے کم نقصان کریں۔ اگر معاملہ ایسا ہو تو دوسرا کسی اور کو نقصان نہ پہنچا دے اسکا بھی خیال رکھیں۔
8۔ اس دنیا میں
غم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوشی
دیانتداری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بد دیانتی
ذمہ داری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غیر ذمہ داری
اخلاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بد اخلاقی
سچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھوٹ
یہ بکھرے پڑے ہیں۔
آپ ان میں سے کیا منتخب کرتے ہیں ۔ پھر آپکی حرکات یہ سب کچھ آپکو منتخب کروا رہی ہوتی ہیں۔ یاد رکھئے گا ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ آپ بے ایمانی والی حرکتیں کریں اور سوچیں کہ انتخاب میں نے دیانتداری کا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے لئے یا اپنی اولاد کے لئے۔
سو جو حرکتیں ہیں وہ ہی انتخاب ہو رہا ہوگا زندگی کی ریس میں
جو انتخاب ہو رہا ہوگا ویسی ہی حرکتیں ہوں گی زندگی کے سفر میں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 178722 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
08 Jan, 2018 Views: 416

Comments

آپ کی رائے