وقت گزاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذمہ داری

(Sana, Lahore)

ایک کام جو کہ ان خبرناموں والے چینلز کی بڑھتی تعداد نے بہت خوبی سے کیا ہے وہ یہ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں کو وقت گزاری اور زندگی گزاری کا ایسا ذریعہ مہیا کر دیا ہے ۔ جس کے بارے میں ہم لوگ سوائے" باتوں "کے کچھ نہیں کر سکتے۔پھر ان موضوعات پر باتیں اور صرف باتیں کرنے میں دن پر دن ور وقت پر وقت ایسا لگتا ہے کہ انسان اور کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔
انسان معاشروں کے ان موضوعات پر کُڑھ کُڑھ کر اور بات کر کر کے اپنا بی پی بھی ہائی کر لیتا ہے اور جن چیزوں کے بارے میں اسکو واقعی میں کچھ کرنا چاہئے اور کرنا ہوتا ہے۔ انکے بارے میں سوچتا نہیں اور کھوجتابھی نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسان کو کس حد تک ذمہ داری لینی ہے کس چیز کی لینی ہے کتنی لینی ہے کب تک لینی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب باتیں کھوہ کھاتے چلی جاتی ہیں اور انسان اپنی قیمتی زندگی جسکے بارے میں اُسے بتانا ہے ۔ جسکے ایک ایک پل کا اُسے حساب دینا ہے
یہ سچ ہے انسانوں کے پاس آج سہولتیں آ گئی ہیں اور انسان ایک دوسرے کو پہلے جیسا اہم بھی نہیں سمجھتے جیسا کہ ایک وقت میں خیال کرتے تھے۔ مجھے تو اب یوں لگنے لگا ہے کہ انسان تو خود کو بھی اپنے وقت کو اپنی زندگی کو بھی ویسا اہم نہیں سمجھ رہے جیسا کہ ان کو سمجھنا چاہئے اور ایک وقت میں سمجھتے تھے۔
انسانوں نے ارد گرد اتنے اکثر مصنوعی سے مسائل اور پیمانے بنا لئے ہیں گھڑ لئے ہیں کہ ان پر پورا اُترتے اُترتے انسان کے پاس اصل پیمانے تک پہنچنے کا وقت تو ہے ہی نہیں۔ انسان کچھ کرنا چاہے تب بھی اُسے سمجھ نہیں ۔ انسان نے خود کو ایسا حالات کے رحم و کرم پر اور دوسروں کی سوچ پر چھوڑا ہوا ہے۔ انسان خود کو اب کچھ سمجھتا ہی نہیں۔
یہ بیوقوفی ہے اکثر جو بے بسی ہمیں مختلف میڈیا ذرایع سے بتائی جاتی ہے۔ یہ بھ بیوقوفی ہے جو طاقت ہمیں اکثر میڈیا ذرایع سے دکھائی جاتی ہے۔
1۔ انسان کو اللہ نے ہاتھ پیر آنکھ کان زبان دماغ دیے ہیں اور انسان کو ذمہ دار بنایا انکے استعمال کا اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ انسان کو انکے استعمال کا حساب اور جواب دینا ہو گا کہ کب کیسے کیوں کتنا استعمال کیا۔
2۔ انسان کے اوپر علم حاصل کرنا اسی لئے فرض کیا کہ انسان کو یہ پتہ ہو کہ انسان کو حالات کا زندگی کا تجزیہ اور عمل کیا کرنا ہے۔
3۔ انسان کو سفر کرنے کا بھی کہا گیا تو اسی لئے کہا گیا کہ انسان دنیا کو جانے اور پھر فیصلہ لینے اور کام کرنے کے قابل بنے۔
4۔ انسان کو لوگوں سے معاملات کرنے کے لئے اصول و ضوابط بتائے گئے۔
5۔ انسان کو زندگی کا ایک ایک دن گزارنے کا طریقہ بتایا گیا۔
6۔ انسان کےلئے یہ لازم ہے کہ وہ خود کو ذمہ دار سمجھے وہ خود کو حالات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے۔
7۔ آُپ کسی انسان اور ادارے کے اصول و ضوابط کو چھوڑ دیں۔ صرف اور صرف جو اللہ نے ہدایات دیں ہیں انکا علم حاصل کریں۔ انکے بارے میں گہرائی میں جانیں ۔ انکو پرکھیں۔ ان پر غور کریں۔
8۔ ان کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں۔ آپ تب جانیں گے کہ واقعی میں انسان کتنا شدید ذمہ دار ہے ۔ انسان کے لئے کتنا ضروری ہے۔ "جاننا" اسی لئے تو پڑھنے پر زوردیا گیا۔
9۔ اس سے پہلے کہ ہم زندگی کے اس موڑ پر آ جائیں جب ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا جواب دینا ہو۔ لیکن ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا پتہ ہی نہ ہو۔
10۔ ہر انسان اپنی ذمہ داری کے لئے جواب دہ ہے۔ خواہ وہ اپنی ذمہ داریاں کو جانتا ہو یا نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سو انکے بارے میں جانئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 182768 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
08 Jan, 2018 Views: 564

Comments

آپ کی رائے