شہر میں خستہ و شکستہ اور بوسیدہ عمارتیں

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

آئے دن اخبارات میں بوسیدہ مکانوں کے زمین بوس ہونے کی خبریں شائع ہوتی ہیں اور ان میں کئی مکین ہلاک یا پھر شدید زخمی ہو جاتے ہیں اس کے باوجود ایسی بوسیدہ اور پرانی عمارتوں کے لئے کوئی خاص لائحہ عمل ترتیب نہیں دیا گیا ہونا تو یہ چاہیئے تا کہ ان عمارتوں کی نشاندہی کی جائے اور اور ان میں رہائش پذیر مکینوں کو مناسب جگہ پر منتقل کیا جائے تا کہ مزید حادثوں سے عام شہری کو محفوظ بنایا جا سکے ۔شہر میں غیر قانونی عمارتوں کو تو گرایا جا رہا ہے لیکن ان خستہ اور بوسیدہ عمارتوں کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے جن کے گرنے سے بہت سے معصوم لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

ایسے ادارے جن کا فرض ہے کہ وہ ایسی عمارتوں کی نشاندہی کریں وہ اس غافل کیوں نظر آتے ہیں یہ بھی ایک سماجی مسئلہ ہے جس پر عمل کر کے کئی خستہ حال عمارتوں کے مکینوں کی جان بچائی جا سکتی ہے کیوں کہ ابھی بھی شہر میں ایسی کئی عمارتیں موجود ہیں جو خستہ حال اور بوسیدہ ہو چکی ہیں خاص کر بارشوں کے موسم میں ایسے واقعات بڑھ جاتے ہیں اور ان عمارتوں کے زمین بوس ہونے سے کئی مکینوں کی جان چلی جاتی ہے ۔پرانے لاہور کی گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے زمین بوس عمارتوں میں دبے افراد کو ریسکیو کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کام کرتے ہیں اور ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے تک دیر ہو چکی ہوتی ہے شہریوں کا بھی فرض ہے کہ ایسی خستہ اور بوسیدہ عمارتوں میں رہائش پذیر نہ ہوں تا کہ کسی بھی آنے والے خطرے سے بچا جا سکے خاص طور پر جب برسات کا موسم ہوتا ہے تو ان عمارتوں کا خالی کر دینا چاہیئے تا کہ قیمتی جانیں بچ سکیں۔

کیونکہ ان عمارتوں میں رہنے والے زیادہ تر لوگ بہت غریب ہوتے ہیں اور ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ کسی دوسری جگہ منتقل ہو سکیں یا اپنی شکستہ عمارت کی مرمت کر سکیں تو ایسے مجبور لوگوں کی مالی مدد حکومت کا فرض ہے اگر ان لوگوں کو کوئی متبادل جگہ نہ دی گئی تو پھر ایسے سانحہ ہوتے رہیں گے اور لوگ مرتے رہیں گے ہمیں ان غریب اور لاچار لوگوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو سکیں خستہ حال عمارتیں صرف لاہور میں ہی نہیں ہیں بلکہ یہ ان تمام پرانے اور تاریخی شہروں میں بھی موجود ہیں ان کی نشاندہی کرنا یا مرمت میں مکینوں کی مدد کرنا ریاست کو بھی فرض بنتا ہے کیونکہ ا ن غریب لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں امید کرتے ہیں کہ مزید حادثات سے محفوظ رہنے کے لئے ریاست ان کی نشاندہی کر کے مکینوں کے مسائل کو ضرور حل کرے گی اور ان غریب لوگوں کی دعائیں لے گی۔

ان عمارتوں کے گرنے کا سبب ان کے ساتھ بننے والے نئے گھر بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ خستہ حال گھر زمین بوس ہو جاتے ہیں ان عمارتوں کے ساتھ گھر شروع کرنے سے پہلے وہاں کے مکینوں کو کسی دوسرہ جگہ منتقل کر دینا چاہیئے تاکہ کسی جان کے جانے کا اندیشہ نہ ہو کیونکہ ہر جان قیمتی ہے چاہے وہ کسی غریب کی ہو یا امیر کی ہو وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ لوگ منتقل نہیں ہوتے تو ایسی حالت میں ان کی مدد ضرور کریں تا کہ وہ کسی بھی انجان حادثہ سے محفوظ رہ سکیں۔

شہر میں نئی بننے والی عمارتوں کی بھی نگرانی کی ضرورت ہے تا کہ وہ کسی نقشہ اور منظور شدہ ڈیزائن سے تعمیر کی جائیں ۔شہر میں کئی کئی منزلہ عمارتیں بنائی جا رہی ہیں لیکن دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ تعمیراتی معیار کے مطابق تعمیر کی جا رہی ہیں ؟کیونکہ یہاں پر سارا کام ٹھیکدار کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور وہی اس عمارت کو منزل بہ منزل تعمیر کرتا جاتا ہے حقیقت میں ایسی عمارتوں کی تعمیر سٹرکچل انجینئر کی زیر نگرانی ہونی چاہیں تا کہ نئی بننے والی عمارتوں کو محفوظ بنایا جا سکے ۔

یقیناً ان خستہ و شکستہ عمارتوں کی نشاندہی تو مخصوص اداروں نے کر دی ہو گی لیکن ان کی مرمت پر توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے آئے دن ان عمارتوں کے گرنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ہمیں مزید کسی عمارت کے گرنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیئے اور بروقت ان کی مرمت پر توجہ دینی چاہیئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1325820 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
11 Jan, 2018 Views: 416

Comments

آپ کی رائے