احباب کیا کہتے ہیں۔۔.؟ قسط نمبر (5)

(Amir jan haqqani, Gilgit)
خاطراتِ دل : امیرجان حقانیؔ
:
گزشتہ کئی سالوں سےمختصر عنوانات کے ساتھ خاطراتِ دل احباب و قارئین کے گوش گزار کرتا آرہا ہوں۔ ان سالوں میں کروڈوں الفاظ لکھے لیکن ان کا کوئی ریکارڈ نہیں۔اب ارادہ کیا ہے کہ آئندہ خاطراتِ دل کو محفوظ کرکے شائع کروادوں۔اسی غرض سے تین چار مختصر تحریروں کی ایک قسط بنا کراحباب کی خدمت میں پیش کی جائے گی۔ہر مختصر تحریر کے ساتھ تاریخ بھی دی جائے گی کہ یہ تحریرکب لکھی گئی ہے تاکہ سیاق و سباق اور پیش منظر و پس منظر سے بھی آگاہی حاصل ہوتی رہےتو ملاحظہ کیجیے۔(امیرجان حقانی)

پریشنگ استور کا ایک دلفریب منظور۔۔۔فوٹو بائی حقانیؔ

’’پریشنگ استور سے‘‘
13/09/17
استور کے مضافاتی علاقے بہت ہی خوبصورت ہیں۔ استور ہیڈ کوارٹر کے بالکل سامنے لوس ہے۔ گزشتہ دنوں لوس میں ، میں مدعو تھا۔ معروف سماجی شخصیت کفایت اللہ(ممبر امن کمیٹی استور) کی معیت میں استور کے سب سے زیرک اور بزرگ سیاستدان جناب محبوب علی صاحب کے دولت کدے پر حاضری ہوئی۔ محبوب علی صاحب چار دفعہ گلگت اسمبلی کے ممبررہے ہیں۔استور میں مسلم لیگ ن کو انہوں نے ہی متعارف کروایا ہے۔استور کی ترقی اور قیام امن کے لیے محبوب علی کا بہت ہی بڑا کردار ہے۔ آج بھی وہ امن کمیٹی استور کا متحرک ترین رکن ہے۔محبوب علی خان نے چالیس سالہ سیاست کے نشیب و فراز سے ہمیں آگاہ کیا۔گلگت بلتستان کی سماجیات وسیاسیات پر محبوب علی کی بڑی گہری نظر ہے۔ انہوں نے جی بی کے بڑے بڑے سیاستدانوں کے ساتھ کام کیا ہے۔ مسلم لیگ کی چشم پوشیوں اور کارکنوں کی قربانوں کی قدر نہ کرنے کی وجہ سے محبوب علی خان ن لیگ سے دور ہیں۔ باقی تمام جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی بھی ان کو بلارہی ہیں لیکن وہ سیاسی پارٹیوں سے فیڈ اپ ہوچکے ہیں۔اپنی سیاسی و سماجی خدمات آزادانہ طور پر استعمال انجام دیتے رہتے ہیں۔ہماری تفصیلی ملاقات ہوئی، بہت سے سوالات کیے، کسی کا جواب ہنس کر ٹال دیا، کبھی تلخ لہجے میں یاد ماضی کیا۔ کبھی دھیمے انداز میں گفتگو جاری رکھا۔ہم چونکہ ایسے وقت پر ان سے ملاقات کررہے تھے جب ہماری ٹرانسفری دوبارہ گلگت ہوچکی تھی، محبوب صاحب نے کہا کہ آپ آئے تو لیکن بہت دیر سے آئے۔۔۔پھر ملنے ملانے کا وعدہ ہوا اور ہم نے چل دیا۔ لوس کے مدرسہ فاروقیہ کے مدیر برادرم اسرار سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں لڑکیوں کا ایک چھوٹا سا ادارہ قائم کیا ہوا ہے۔ سال ۲۰۱۷ کے سالانہ امتحان میں وفاق المدارس میں ان کی طالبات کی چھ پوزیشنیں ہیں۔ یعنی گلگت بلتستان کے تمام مدارس سے زیادہ ان کی طالبات کی پوزیشنیں ہیں۔انتہائی پسماندگی کے عالم میں ایک دور دراز گاوں میں اتنی معیاری تعلیم یقیناً حیران کن بھی ہے اور دوسروں کے لیے سبق آموز بھی۔
اسی طرح ایک دن ہم نے پریشنگ کے معروف علمی و دینی شخصیت مولانا اکرام اللہ سے ملاقات کا پلان بنالیا۔ جناب کفایت اللہ اور مفتی ایوب(سابق چیئرمین زکواۃ و عشر) کی معیت میں ہم پریشنگ کی طرف روانہ ہوئے۔مولانا علاقہ پریشنگ میں رہتے ہیں۔پریشنگ :گھوٹوم سر،تھینگئی، مشکے،رام کھا، شیپے، پلیاٹ،کھمرول وغیرسات گاوں پر مشتمل ایک معروف علاقہ ہے۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی چیئرمین اور معروف بین الاقوامی شخصیت جناب مرحوم امان اللہ خان صاحب بھی پریشنگ کے رہنے والے تھے۔ ان کے گھر کی زیارت ہوئی۔ تریشنگ انتہائی خوبصورت علاقہ ہے۔
ہم نےتقریبا تیس کلومیٹر کی مسافت طے کرکے پریشنگ میں مولانا اکرام اللہ ثاقب کے دولت کدے پر حاضری دی۔مولانا ایک ملنسار علمی انسان ہے، بڑی خوشدلی سے ہمارا استقبال کیا۔ مولانا اکرام اللہ ثاقب نے ۱۹۹۸ میں تریشنگ عمرآباد(رام کھا) میں معارف القرآن نام سے طالبات کا ایک مدرسہ قائم کیا ہے۔ جس میں آجکل ۲۰۰ طالبات اسکول، ناظرہ و حفظ کے ساتھ درس نظامی کی تکمیل کررہی ہیں۔اسی طرح ۲۰۰۸ میں جناب امان اللہ خان صاحب (چیئرمین لبریشن فرنٹ) اور اس کی فیملی نے پریشنگ مشکےمیں پندہ کنال زمین وقف کی اور مولانا اکرام اللہ صاحب کو متولی بنایا۔ جہاں انہوں نے ایک شاندار مدرسہ قائم کیا ۔ اسی کا نام بھی معارف القرآن ہے جو صرف طلبہ کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ ایک معیاری مسجد بن رہی ہے۔ حفظ وناظرہ کی کلاسیں چل رہی ہیں۔مسجد و مدرسے۔ کا تعمیراتی کام جاری ہے اندازہ یہی ہے کہ یہ ایک معیاری دینی درسگاہ بن جائے گی۔ امان اللہ خان صاحب کی فیملی بالخصوص ڈی سی عطی اللہ صاحب،ڈاکٹر نورجلیل اور حاجی قدم خان نے مل کر مولانا کو متولی بنایا اور یوں مولانا اکرام اللہ مدرسے کو قیام عمل میں لانے میں کامیاب ہوئے۔ مولانا اکرام اللہ تنظیم اہل سنت والجماعت ضلع استور کے امیر بھی ہیں۔بہت ہی ملنسار اور ہنس مکھ انسان ہیں۔ ان کے گاوں میں ہم نے بڑی دیر تک پیدل سیر کی۔ پرانی عمارتوں کی تصاویر لی اور کھیتوں میں چل کر سفید لوبیا(بوکک) کھایا۔ جو فصلوں میں پک کر تیار تھا۔ مولانا نے اپنی مدرسۃ البنات کا وزٹ بھی کرایا اور مستقبل کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ ان کی مثبت سوچ دیکھ کر دل و دماغ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
رام کھا سے پریشنگ کے تمام گاوں دکھائی دیتے ہیں۔ اور راما اور نانگاپربت کا منظر تو بہت ہی پیار لگتا ہے۔ رام کھا سے دس کلومیٹر کی مسافت پر گوٹو موداس کا علاقہ ہے۔ یہ علاقہ بھی بہت ہی خوبصورت ہے۔ گوٹوموداس سے پانچ کلومیٹر کی مسافت پر ایک خوبصورت جھیل ہےجسے اللہ والی جھیل بھی کہا جاتا ہے۔ پریشنگ کےدریا کا پانی انتہائی شفاف ہے۔اس پانی سے ہی مشکے میں پاور ہاوس بنایا گیا ہے۔استور سے واپس آتے آتے اگر پریشنگ کی سیر نہ کرتے اور اس کی حسین وادیاں دیکھنے سے محروم رہ جاتے تو یقینا زندگی بھر قلق رہتا لیکن ہم نے واپسی سے ایک دن پہلےہی اس وادی میں گھوم پھیراپنا دل بہلا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الوداع استور
15/09/17
استور انٹر کالج میں ایک سال گزارا۔ لاریب استور میں گزرے ایام، میری زندگی کے حسین ترین ایام میں شامل ہیں۔ان ایام میں استور کے اکثر خوبصورت مقامات دیکھنے کو ملے۔۔۔۔۔۔کچھ اہم مقامات رہ بھی گے۔زندگی رہی تو وہ بھی دیکھ لیں گے۔اپنی بساط کے مطابق ان تمام مقامات کی خوبصورتیوں کو پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں اجاگر بھی کیا۔۔۔استور کے بعض احباب نے بے حد محبتوں کا مظاہرہ کیا۔جن میں بالخصوص جناب قاری عبدالحکیم صاحب(سابق ممبر اسمبلی) جناب کفایت صاحب (ایل ایس او) اور میرے استاد محترم عبدالحلیم صاحب و برادارن قابل ذکر ہیں۔۔ کچھ استور میں براجمان دیگر اضلاع کے آفیسران نے بھی پرخلوص گیدرنگ سے دل جیت لیا جن میں بالخصوص ڈی سی رحمان شاہ صاحب، ڈسٹرکٹ اٹارنی شہاب الدین صاحب اور انتہائی قابل قدر برادرم جناب ڈاکٹر مدثر سہیل(ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک)نے اپنی محبتوں سے دل جیت لیا۔۔ کالج کے طلبہ و اساتذہ اور دیگر عملے کے ساتھ بھی اچھی یادیں وابستہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب کا ممنون و مشکور ہوں۔۔۔تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔؟
……………………
میں نے اللہ کو جوابدہ ہونا ہے۔
15/11/2017
''آپ'' کی آنا کی تسکین کے لیے میں جلد کچھ کر لونگا۔۔۔
میں نہ چاہتے ہوئے بھی یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ میں نے اللہ ہی کو جواب دہ ہونا ہے۔۔۔۔لکھنے سے پہلے ہمیشہ یہی سوچتا کہ '' کل قیامت کے دن اللہ کو جواب بھی دینا ہے''
تو ''وہ'' احباب خواہ مخواہ میری لکھاوٹ سے پریشان کیوں ہوتے ہیں۔ ایک چیز کو میں درست سمجھتا ہوں تو لکھ لیتا ہوں، ہاں میں قطعا یہ دعویٰ نہیں کرتاکہ یہ درست ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ممکن ہے وہ سو فیصد غلط ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت ساری چیزوں کو لکھ کر رجوع یا ڈیلیٹ بھی کردیا جب سمجھا کہ درست نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔لہذا وہ احباب جو میری تحریروں بلکہ فیس بک کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں۔۔۔۔۔۔پلیز اپنی انرجی ضائع مت کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نوٹ کرلیں، میں جلد اپنی راہ بنالوں گا یا راہ لونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انشاء اللہ تب تو اپ کو مکمل تشفی ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کسی کو بھی کوئی نقصان ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واللہ العظیم، آج تک کسی کے متعلق تھوڑا سا بھی نگیٹیوو نہیں سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا کیجیے، آپ کی تشفی کے لیے میں جلد ہی کچھ کرلونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاکہ کم از کم آپ کی آنا کو تسکین تو مل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور شاید کچھ فائدہ بھی ہوآپ کو۔۔۔۔
تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
…………
انعام، تنقید اور مخالفت
14/10/17
گزشتہ کئی سالوں سےمسلسل لکھتے آرہا ہوں اور ہمیشہ سے تنقید اور مخالفت کا سامنا ہی کرنا پڑ رہا ہے۔ اور مزے کی بات مخالفت وہ لوگ بھی کرتے ہیں جن کے حق میں بھی لکھتا رہا۔۔یعنی میں ہمیشہ تنقید کے چوراہے پر کھڑا کیا جاتا ہوں۔۔یہ پہلی دفعہ ہوا کہ میری کسی تحریر( آج کے کالم ’’ جنگ آزادی گلگت بلتستان وکشمیر‘‘)پر ایک صاحب علم و قلم نے بہت حوصلہ افزائی کی اور نقد ایک ہزار (1000) روپیہ سے نوازا، وہ مجھے کوئی قیمتی گفٹ عنایت کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے سختی سے منع کیا کیونکہ وہ قیمی چیز انہیں بھی کسی ذمہ دار اور بڑے انسان نے بطور ہدیہ پیش کیا تھا۔۔ایسے متبرک تحفے سنبھال کر رکھے جانے چاہیے۔۔۔۔۔۔اس میں دو رائے نہیں کہ تنقید کرنے والے کو تنقید خوش دلی سے برداشت کرنا چاہیے اور اختلاف کرنے والے کو آداب اختلاف سے بھی آگاہی ہونی چاہیے۔آپ گواہ ہیں کہ میرا معاملہ یہ ہے کہ مجھے پر تنقید اور مجھ سے اختلاف کرنے والوں کا خندہ پیشانی سے سامنا کرتا ہوں۔۔۔میں تو ان لوگوں کو بھی کچھ نہیں کہتا جو مخالفت اورتضحیک کرتے ہیں۔۔۔بہر صورت انسان انعام کا بھی متقاضی رہتا ہے۔ تنقید اور مخالفت و تضحیک کے ساتھ کبھی کبھی انعام بھی ملنا چاہیے تو آج پہلی دفعہ یہ انعام وصول کرکے بے حد خوشی ہورہی ہے۔۔۔تو احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔۔؟
……………
کراچی کی آنٹی
12/12/17
کراچی میں میری ایک مہاجر(اردو سپیکنگ) آنٹی ہے جو انتہائی درجے کی نیک خاتون ہیں۔میری والدہ کی طرح مجھے دعائیں دیتی ہیں۔ ان کے شوہر میاں(جن کو میں نذیر بھائی کہتا ہوں) میرے والد صاحب سے عمر میں کافی بڑے ہیں۔جب طالب علم تھا ان کے گھر جاتا تھا دعوتوں پر۔۔ایک دفعہ رمضان کے مہینے میں، میں نے گھر پر فون کیا۔ بھائی نذیر نہیں تھے۔ آنٹی سے بات ہوئی۔۔میں نے عرض کیا کہ آنٹی ہم آپ کے گھر آرہے ہیں۔ پندرہ منٹ میں پہنچ رہے ہیں۔۔ آنٹی نے کراچوی لہجے میں کہا، بیٹا کیا افطار یہی پر کریں گے۔۔؟ میں نے انتہائی معصومیت سے کہا کہ بالکل وہی پر کریں گے افطار اور کہاں کریں گےآنٹی۔۔۔آج ٹھیک نو سال بعد جب بھائی نذیر نے فون پر یہ لطیفہ سنایا تو بہت مزہ آیا سن کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج انٹی نے سپارٹ لہجے میں بذریعہ نذیر بھائی حکم صادر کیا کہ ’’فوری گلگت کے میوہ جات پہنچنے چاہیے‘‘ اور نماز میں مشغول ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔تو نذیر بھائی نے پرانا لطیفہ سنایا اور کہا کہ آپ دونوں کے دستور بھی نرالے ہیں۔اپنائیت میں یہی ہوتا ہے۔۔خدا سلامت رکھے میری آنٹی، جس کے ہاتھوں کے پکے بہت سارے کھانے اور ڈشیں کھانے کو ملی ہیں۔تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔؟
۔۔………..
جنید جمشید اور ایک عیسائی لڑکا
7/12/2016
غالبا 2008ء کی بات ہے۔ محترم جنید جمشید جامعہ فاروقیہ کراچی تشریف لائےتھے۔ نماز مغرب کے بعد انہوں نے ایک نظم پڑھی جس سے دل بہت محظوظ ہوا۔۔۔۔۔اور کچھ نعتیہ اشعار بھی۔۔۔۔ جنید جمشید کی آمد کا سن کرہنگامی بنیادوں پر عوام کا ایک جم غفیر فاروقیہ میں جمع ہوا تھا۔ نماز مغرب کی باجماعت آدائیگی ہورہی تھی، میرے ساتھ متصل ایک کالا کلوٹا لڑکا ادائیگی نماز میں مصروف تھا، اس کے رکوع اور سجدوں کے اندازسے پتہ چل رہا تھا کہ پہلی دفعہ نماز ادا کررہا ہے۔ سلام کے بعد دیکھا تو شاہ فیصل کالونی کا ایک عیسائی لڑکا ہے جوباجماعت نمازمسجد میں اداکرہا ہے۔ چونکہ میں ان کا ہمسایہ تھا تو پوچھ لیا بھائی خیریت۔۔۔۔۔۔؟ دیکھا تو اس کے متصل تین اور عیسائی لڑکے تھے جو کچرا اٹھایا کرتے تھے ہماری گلی میں۔۔۔ کہا بھائی خاموش ہوجاو، ہم جنید جمشید(رحمۃ اللہ،اف) کو دیکھنے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔آپ نے بتادیا تو کوئی ہمیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، میں نے انگلی سے انکو خاموشی کروایا(شکرہےان تینوں کے ساتھ کوئی پکا مسلمان نہیں ٹکرایا ورنا ان بیچاروں کا کچومر نکالا جاتا(
آج جنید جمشید کی موت کی خبر نے وہ واقعہ بھی یاد دلایا۔۔۔۔۔۔۔کتنے عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو بلامذہب، رنگ و نسل اور ملک و علاقہ اور جغرافیائی حدود کے امتیاز کے، ہر کوئی دل سے چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔؟
۔۔۔۔۔
آزاد کشمیر کا سیٹ اپ کیا ہے۔۔؟
19/11/17
تواتر سے یہ بات دھرائی جارہی ہے کہ گلگت بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے۔۔۔۔آزاد کشمیر کا سیٹ اپ کیا ہے۔۔۔؟ مجھے آگاہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ کیا یہ مکمل خود مختار ریاست ہے۔۔؟
۲۔ کیا اس کی اپنی خارجہ پالیسی ہے۔۔؟
۳۔ کیا یہ اپنا بجٹ اپنی ریاستی آمدنی سے پورا کرتا ہے۔۔؟
۴۔ کیا کانا ڈویژن طرز کاکوئی سیکرٹری اسلام آباد سے اس کو کنٹرول نہیں کرتا۔۔؟
۵۔ کیا یہ اپنے انتظامی ، مالی، تعلیمی، معاملات میں قانون سازی کے لیے مکمل خودمختار ہیں۔۔؟
۶۔ کیا آزاد کشمیر کا باقاعدہ آئین ہے ۔۔؟
۷۔ کیا آزاد کشمیر کسی بھی ریاست سے آزادانہ تجارتی، عسکری، تعلیمی اور دیگر معاہدے خود کرسکتا ہے۔۔؟
۸۔ کیا کشمیر کی اپنی فوج ہے۔۔۔؟
۹۔ کیا کشمیر کا الگ شناختی کارڈ ہے۔۔۔؟
۱۰۔ کیا کشمیری شہریت الگ ہے۔۔۔؟(پاکستان کا آئین تو یک شہریت کی اجازت دیتا ہے)
ایسے کئی سوالات ہیں جو تشنہ ہیں۔۔کم از کم میرے علم میں نہیں۔۔۔
اور ہاں اگرگلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جاتا ہے تو پھر ریاست پاکستان کا جی بی میں کیا رول ہوگا۔۔۔؟ کیا سی پیک جیسے دیگر پروجیکٹ کے لیے چین اور پاکستان کو گلگت بلتستان سے بھی الگ سے معاہدے کرنے ہونگے۔۔۔؟اس کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔۔؟
صرف ان احباب سے گزارش ہے جو ریاست کشمیر کے سیٹ اپ پر گہری نظر رکھتے ہیں، رہنمائی کیجیے۔۔۔۔تاکہ تشنگی باقی نہ رہےاور اگر کسی دوست کے پاس کشمیر سیٹ اپ کا مسودہ ہے تو براہ کرم شیئر کیجیے۔۔۔اردو،عربی یا انگلش میں۔۔۔۔تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔؟
جاری ۔۔۔۔۔۔۔ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 335 Articles with 180665 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More
12 Jan, 2018 Views: 371

Comments

آپ کی رائے