مظلوم زینب اور انسانی المیہ

(Salman Ahmed Shaikh, )

مال و دولت کی لوٹ مار انسان برداشت کر بھی لے…… مگر اب تو بات صنفِ نازک کی عز ت کی پامالی پر آگئی ہے ……جنسی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر درندگی کی بدترین مثالیں جنم لے رہی ہیں…… دورِ حاضر میں حواکی بیٹی کی عزت وعصمت بھی محفوظ نہیں ……جب رشتوں کے تقدس اور معاشرتی اقدارسے عاری افراد دہشت ووحشت کے خو گر بن جائیں تو انسانی تاریخ کے بد ترین المیئے ہی جنم لیا کرتے ہیں……ہما رے ملک میں لرزہ خیز دردناک داستانیں جا بجا نظر آتی ہیں ……یہاں ایسے درندے بھی انسانی روپ میں اپنا وجود رکھتے ہیں جو معصوم بچوں کو اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین اور ہوِس کا نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دل دہلا دینے والے واقعات تواتر سے سامنے آ رہے ہیں ،کتنے ہی بچے ان سانحات کے سبب اپنی مسحور کن زندگی کی بہاروں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے موت کی وادی میں چلے گئے ۔ایسا ہی ایک المناک سانحہ گزشتہ دنوں قصور میں پیش آیا جہاں مدرسہ پڑھنے جانے والی ایک سات سالہ بچی زینب کو بہلا پھسلا کر اغوا کرکے زیادتی کے بعد قتل کر کے کچرے میں پھینک دیا گیا ۔

مظلوم زینب کا المیہ لکھوں یا انسانیت کا……قصورمیں کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کے افسوسناک واقعے نے انسانی دل دہلا کر رکھ دیا ہے ۔کیا کوئی اس حد تک بھی جا سکتا ہے کہ ایک ننھی معصوم پھول جیسی بچی کو ہوِس کا شکار بنا ڈالے۔بتا یا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے بھی قصور میں اسطرح زیادتی کے گیارہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں کیا کسی ایک مجرم کو بھی گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا گیا ؟ افسوسناک بات یہ کہ ایسے واقعات کے سد باب کے لئے ابھی تک سنجیدہ اقدامات کیوں نہ اٹھائے گئے؟کیوں معصوموں کو انسان کہلانے والے درندہ صفتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ؟آخرکب ان انسانیت اور سماج دشمنوں کا قلع قمع ہو سکے گا ؟کیا مظلوم زینب کو بربریت کا نشا نہ بنانے والے کو درندہ صفت کو نشان عبرت بنایا جا سکے گا؟ خدا نا خواستہ اگر کسی بڑی شخصیت یا حکمران طبقے کی اولاد کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ہوتا تو کیا ابھی تک رسمی مذمت اور بیانات تک محدود رہا جاتا؟ ۔

ذرائع کے مطابق ملک کے دیگر علاقوں میں بھی بچوں کے ساتھ اخلاقی باختی کے کئی دلسوز واقعات سامنے آئے ۔ جبکہ کئی ایسے واقعات پولیس تھانوں میں رپورٹ ہی نہیں ہو تے یا بعض خاندان اپنی بدنامی کے خوف سے زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکیوں کا معاملہ تھانہ اور عدالت میں لے جانے سے گریز کرتے ہیں اگر ان مکروہ واقعات میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا مل جاتی تو آج شاید سات سالہ ننھی کلی نہ مرجھاتی۔ہما را سماج اس قدر بے راہ رَوی کا شکار ہو گیا ہے کہ معاشرے سے احسن اقدار جیسے رخصت ہی ہوگئیں ہوں۔ معاشرتی برائیاں پھیلتی جا رہی ہیں اس کی ایک وجہ سوشل میڈیاپر حیا سوز مواد کی تشہیر ،انٹر نیٹ پر ایک کلک سے پورن ویب سائٹ پر باآسانی رسائی بھی شامل ہے۔ کیا کوئی ایسا انتظام ہے جس سے عوام خصوصاً نو عمر بچے اس تک نہ پہنچ سکیں؟۔ اگر پورے ملک سے جنسی زیادتی واقعات کے اعداد و شمار جمع کئے جائیں تو ہما را یہ معاشرہ مہذب انسانو ں کے بجائے درندوں کے معاشرے کی عکاسی کر تا نظر آئے ،آج معاشرتی گراوٹ اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ خواتین اور معصوم نابالغ بچیوں کی عزتوں کی پامالی کے روز افزوں واقعات بھی ہمارے معاشرتی بگاڑ کی انتہا کی چغلی کھا رہے ہیں ،معصوم بچی کے ساتھ جس وحشیانہ درندگی کا مظا ہرہ کیا گیا وہ معاشرے کی احسن اقدار کی ٹارگٹ کلنگ ہے ،معاشرتی سطح پر بے راہ روی میں میں اضا فے کا غمازاس امر کی جانب اشارہ کررہا ہے کہ انٹرنیٹ کے بے جامنفی استعمال اور فحش فلموں کا پھلتا پھولتاکاروبار بھی نئی نسل کی گمراہی و تباہی کا سبب ہے۔

معاشرے میں پھیلتے ایسے قبیح جرائم ہما رے اجتماعی شعور کیلئے لمحۂ فکریہ ہیں ، با اثر ملزمان کے قانون و انصاف کے شکنجے سے بچ نکلنااور جرائم کی روک تھام میں حکومتی انتظامی مشینری کی ناکامی بھی منہ چڑا رہی ہے ،۔ لمسن بچوں کے ساتھ زیادتی کے مرتکب افراد کی فوری گرفتاری اور ان کیلئے سخت سزا حالات کا اہم ترین تقاضا ہے ، اگر قانون کا ڈر اور سزا کا خو ف نہ رہا تو کل کو کسی کی بھی عزت و عصمت محفوظ نہیں رہے گی ،جب معاشرے میں انسانیت ناپید ہو اور کسی شخص کو اپنے ضمیر کی طرف سے کوئی قدغن محسوس ہی نہ ہو تو یہ صورتحال کسی کی شخصی مجرمانہ ذہنیت کی عکا سی کرتی ہے۔ ضرورت ایسے اقدامات کی ہے کہ مستقبل میں جنسی تشدد کے مزید واقعات کا سدّباب ہو سکے۔ جب تک ان سنگین جرائم کے مرتکبین کو سخت سزائیں دے کر( ان کی سزا پر فوری عمل کر کے) معاشرے کیلئے نشان عبرت بنا کر پیش نہیں کیا جائے گا تب تک ایسے مجرموں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ ایسے قبیح جرائم کے تدارک کیلئے عوام میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے، اس سلسلے میں مساجد کے ائمہ و خطباء حضرات اور اسکول و کالج کے اساتذہ بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں جس سے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ رَوی کا تدارک کچھ حَد تک ممکن بنا یا جا سکتا ہے ۔ بصور ت دیگر یہی کہنے پر مجبو ر کہ
شب گزرتی دکھائی دیتی ہے دن نکلتا نظر نہیں آتا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Ahmed Shaikh

Read More Articles by Salman Ahmed Shaikh: 14 Articles with 5658 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jan, 2018 Views: 405

Comments

آپ کی رائے