پاک فوج کے سپاہیوں کے جذبے لازوال،قربانیاں بیمثال

(Safeer Hussain Kazmmi, )
100لفظوں کی کہانی
تحریر: میجر (ر)طاہر علی کاظمی
ستمبر 2005، واہگہ بارڈرپر ہندوستانی حکام پاکستانی قیدیوں کا ایک گروپ پاکستانی حکام کے حوالے کرتے ہیں ۔اس گروپ میں مختلف نوعیت کے قیدی تھے ۔ہر قیدی کے کندھوں پر ایک گٹھڑی تھی ،جس میں کچھ سامان تھا۔لیکن ہندوستانی قید سے رہائی پانیوالے ان قیدیوں میں ایک ایسا بزرگ پاکستانی بھی تھا۔جسکا جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ رہا تھا ،بال اُلجھے ہوئے ،جیسے مدتوں سے ان میں کنگھا نہ کیا گیا ہو۔اس پر المیہ یہ کہ زبان بھی کٹی ہوئی تھی۔لگتا تھا ،جیسے اس بزرگ نے دُنیا جہاں کے مصائب و الام کیساکا سامنا کیا ہو، جس کے پاس کوئی گٹھڑی نہیں تھی ۔مگر اِسکی آنکھوں میں ایک ’’عجیب سی‘‘چمک صاف صاف نظرآرہی تھی ۔پاکستانی حکام کی طرف سے ابتدائی کارروائی کے بعد سارے قیدی فارغ رخصت کردئیے گئے ،مگر بزرگ کپکپاتے ہاتھوں کیساتھ کاغذ پر شکستہ الفاظ لکھ کر پتہ پوچھتا ہے ۔جبکہ ہر کوئی ایک بزرگ سمجھتے ہوئے ’’رہنمائی‘‘کرتا ہے۔چنانچہ کچھ ہی دِنوں میں ’’اپنی منزل‘‘یہ بزرگ پاکستان آرمی کی آزادکشمیر رجمنٹ (بٹالین)تک پہنچ جاتا ہے ۔اور وہاں فوجیوں کے سامنے عجیب سا دعویٰ کردیتا ہے۔لہذا غیرمعمولی دعوے کے پیش نظر اس بزرگ کو کمانڈنگ آفیسر کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے ۔جونہی کمانڈنگ آفیسر کے سامنے جاتا ہے ،اچانک ایک جوان جیسی پھرتی کیساتھ’’سلیوٹ‘‘کرتے ہوئے’’ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہتا ہے’’نمبر335139سپاہی مقبول حسین حاضر ہے سر‘‘ ۔۔۔ ۔۔ اور اپنے کمانڈر کے حکم کا منتظر ہے۔کمانڈنٹ آفیسر بہت حیرانگی کیساتھ بزرج جوان کا سر سے پاؤں تک جائزہ لیتا ہے ،اور سپاہی مقبول حسین کے نام آرمی نمبر کو چیک کرنے کی کارروائی شروع ہوجاتی ہے۔اور رشتہ داروں کو بھی تلاش کرکے لایا جاتا ہے۔جسکے بعد ایک دِل ہلا دینے والی داستان سامنے آتی ہے ۔یہ داستان جانتے ہی پاک فوج کا ہر رینک والا آفیسر، کمانڈرز اس لاغر ،کمزور بزرگ کو سلیوٹ کرنے لگتا ہے ۔۔۔۔یہ سپاہی مقبول حسین تھا ،جو 1965ء کے معرکہ جنگ میں ہندستانی قید میں چلا گیا تھا۔جبکہ جنگ کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی ہوا ،مگر اس (سپاہی مقبول حسین)کا نام موجود نہ تھا ۔اور پھر لاش بھی نہ ملی ،بالآخر پاک فوج نے اسے شہید قرار دیدیا تھا ،اور آزادکشمیر رجمنٹل سنٹر کی یاد گار میں بھی نام لکھا گیا تھا۔۔۔پاک کی قومی غیرت کی علامت اس سپاہی نے دوران قید کمینے دشمن کے ظلم و ستم برداشت کئے ،پاکستان کو ’’مردہ باد‘‘کہنے سے انکار کی پاداش میں اپنی زبان بھی کٹوادی ۔چالیس سال ہندوستانی درندوں کی قید و بند ظلم و ستم ’’سپاہی مقبول حسین ‘‘کے اندر کاجانباز شکست نہیں کھایا ۔جسکی کی دلیل یہ ہے ،کہ جب رہا ہوکر واہگہ سے پاکستان میں داخل ہوا ،باقی لوگوں کی طرح گھر تلاش کرنے کو اہمیت نہ دی ۔بلکہ اپنی بٹالین کا اَتا پتا معلوم کرکے وہاں پہنچا۔۔۔۔نائیک محمد حسین شاہ شہید نے فوج جوائن کی ۔جس طرح آرمی میڈیکل کور میں بطور نرسنگ سولجر سروسز کا آغاز کیا ۔جاری رکھتے تو زیادہ ممکن ہے ۔ریٹائرڈ ہوکر واپس گھر آتے۔اس سپاہی نے بھی نرسنگ سولجر کے طور پر محض پانچ سال کا عرصہ گزارا ،اور انفنٹری میں جانے کو ترجیح دی ۔1965ء کی لڑائی میں بھر پور حصہ لیا ۔چھ ماہ سے زائد عرصہ پر محیط ایک آپریشن میں حصہ لیا ۔اور اس طرح فوجی نوکری میں چودہ سال مکمل ہوئے ۔این سی او (نائیک )بنے ۔مشرقی پاکستان میں دشمن کی سازشوں اور کچھ دوستوں کی حماقتوں سے شروع ہونے والے کھیل نے اپنا اثر دکھایا ۔اور سقوط ڈھاکہ کی نوبت آن پہنچی ۔سیاسی حماقتوں نے دشمن کو وہاں گھسنے کا موقع دیا۔اسی دوران مغربی پاکستان کے مشرقی باڈر پر بھی لڑائی شروع ہوگئی ۔اس لڑائی میں نائیک سید محمد حسین شاہ شہید نے جان دیکر پاکستانی سپاہی کا وقار بلند کیا ۔اور یہ پیغام دیا کہ وطن کا سپاہی کبھی موت سے نہیں ڈرتا ۔سپاہی ایسے ہوتے ہیں،جس وطن کے سپاہی ایسے ہوں ،اُس وطن کو کون مٹا سکتا ہے؟؟؟؟؟ زلزلہ ہو ،سیلاب ہو،دہشتگردی ہو ،یا کوئی اور مشکل ہر مقام پر سب سے پہلے ’’پاک فوج‘‘قوم کا دُکھ درد بانٹتی نظرآتی ہے۔ کچھ لوگوں کا مسئلہ نفسیاتی ہے۔جنہیں قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید سے زیادہ موثر کوئی اور ترکیب نہیں سُوجھتی ،شاید اڑوس پڑوس ،خطہ اور دُنیا میں پاکستان مخالف قوتوں کی ’’توجہ ‘‘ تودرکارہوتی ہے ۔پاکستان آرمی کا ایک سپاہی ،دشمن کی قید میں اپنے وطن کیخلاف ایک لفظ نہیں کہتا ۔زبان کٹوا دیتا ہے ۔دورسا سپاہی خود انتخاب کرکے انفٹری سولجر بنتا ہے۔اور کسی محاذ پر ضرورت پڑی ایک قدم آگے لیتاہے۔ایسے سپاہیوں کی موجودگی میں کوئی پاکستان کو نقصان کیسے پہنچاسکتاہے؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safeer Hussain Kazmmi

Read More Articles by Safeer Hussain Kazmmi: 9 Articles with 3734 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jan, 2018 Views: 502

Comments

آپ کی رائے