گوادر: ماضی ، حال اور مستقبل

(Shoukat Ullah, Banu)

’’حکومت پاکستان نے ایک علامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق گوادر کی بندر گاہ اور اس سے ملحقہ علاقہ کا انتظام جوکہ 1784 ء سے مسقط اور عمان کے سلطان کے پاس تھا، آج مکمل خود مختارحقوق کے ساتھ پاکستان کے سپرد ہوگیا ہے۔گوادر کے لوگ پاکستانی قوم میں شامل ہوگئے ہیں اور پُورا گوادر اَب اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حصہ ہے۔ میں گوادر کے مقیم لوگوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں اور اُنہیں یقین دلاتا ہوں کہ اُنہیں دوسرے پاکستانیوں کے ساتھ کسی بھی قبیلے ، نسل ، اور مذہب سے بالاتر ہوکر مساوی حقوق اور سہولیات میسر ہوں گی ‘‘۔یہ خوش خبری وزیراعظم پاکستان فیروز خان نون نے 7 ستمبر 1958 ء کو ریڈیو پاکستان کے ذریعے قوم سے خطاب کے دوران دی۔تقسیم ہند کے وقت مغربی ساحل کے چار علاقے بیرونی طاقتوں کے زیرِ تسلط تھے۔ گوا ، دمن اور دیو پر مشتمل بھارتی ساحلی علاقہ پُرتگال کے قبضے میں تھا اور جب کہ پاکستان میں واقع گوادر مسقط کے سلطان کے زیرِ تسلط تھا۔

گوادر دو الفاظ ’’گوا‘‘ اور ’’در‘‘ کا مجموعہ ہے جس کے معنی ’’ہَواکا دروازہ‘‘ ہیں۔بعض لوگ لفظ گوادر کو پشتو لفظ ’’گودر‘‘ سے ماخوذ کرتے ہیں جس کے معنی ’’دریا کا کنارہ‘‘ ہیں۔لفظ گوادر کی وجہ تسمیہ کچھ بھی ہو اس کی تاریخ بہت پُرانی ہے۔اس علاقہ کو وادیٔ دشت بھی کہا جا تا ہے۔مکران ڈویژن کا یہ شہر تاریخی لحاظ سے ہر دور میں اہمیت کا حامل رہا ہے۔ 3 ہزار قبلِ مسیح میں اسکندراعظم کے فوجی لشکر کا گزر اسی راستے سے ہوا، اُنہوں نے اپنے بحری جہاز مکران کی بندرگاہ پر لنگر انداز کیے تھے۔ا س سے قبل یہ علاقہ ہزاروں برس سے فارس کے بادشاہوں کی عمل داری میں رہا تھا۔اس علاقے کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں خشک سالی اور قحط پڑا تو بہت سے لوگوں نے وادیٔ سینا سے وادیٔ مکران نقل مکانی کی۔خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ کے عہد خلافت میں جب فتوحات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا تو مکران بھی اسلامی ریاست کا حصہ بنا۔اس کے علاوہ 711 ء میں محمد بن قاسم نے اس علاقے پر حکومت کی اور مغلیہ دور میں یہ علاقہ مغل حکمرانوں کی سلطنت کا حصہ بھی رہا ہے۔

گوادر پاکستان کے انتہائی جنوب مغربی ساحلی پٹی پر خلیج فارس کے داخلی راستے پر واقع ہے۔جو کہ دنیا کہ سب سے بڑے بحری تجارتی راستے اور اپنے شان دار محلِ وقوع کے اعتبار سے عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔21 ویں صدی کی جدید سہولیات سے آراستہ گوادر بندر گاہ نہ صرف پاکستان بلکہ چین ، افغانستان ، اور وسطِ ایشیاء کے ممالک کی بحری تجارت کا زیادہ تر انحصار اسی بندر گاہ پر ہوگا۔جہاں دنیا کی آبادی کا ایک تہائی سے زائد حصہ آباد ہے۔محلِ وقوع کے اعتبار سے مکران کی ساحلی پٹی پر واقع گوادر‘ کراچی کے مغرب میں تقریباً 460 کلومیٹر ، ایران پاکستانی سرحد کے مشرق میں 80 کلومیٹر اور عمان کے شمال مشرق میں 380 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے پیش نظر سٹریٹیجک اہمیت کی حامل یہ بندرگاہ تین خطوں مشرقی وسطیٰ ، وسطی ایشیا ، اور جنوبی ایشیا اور مغربی چین کی ضروریات پوری کرے گا۔

گوادر سے کراچی اور پھر قراقرم ہائی دے تک توسیعی منصوبے پر تیزی کے ساتھ کام جاری ہے۔جس سے چین کو بحرِ ہند تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔ اس رابطے کی سڑکوں کو سی پیک یعنی ’’پاک چین اقتصادی راہداری ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس راہداری کے ذریعے چین کا دنیا سے فاصلہ کئی ہزار کلومیٹر تک کم ہوجائے گا۔اس وقت چین کا ساٹھ فیصد تیل خلیج فارس سے 16 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے لگ بھگ دو سے تین ماہ میں سخت اور بدلتے موسمی اور سیاسی حالات میں شنگھائی پورٹ پر پہنچتا ہے۔ جب کہ سی پیک یہ فاصلہ سمٹ کر پانچ ہزار کلومیٹر ہوجائے گااور چین کو تیل کی سپلائی سال کے بارہ ماہ جاری رہے گی۔اس کے علاوہ چین کی درآمدات اور برآمدات دونوں اسی رہداری کو استعمال کریں گی، یعنی چین سے گوادر اور پھر گوادر سے دنیا کے مختلف حصوں تک۔پاکستان کو اس کے ثمرات میں محصولات کی صورت میں اربوں ڈالر ملیں گے جو ملکی زرمبادلہ میں مناسب اضافے کا سبب ہوں گے۔آخر میں یہ قوی اُمید کی جاتی ہے کہ مستقبل قریب میں گوادر کا شہر بین الاقوامی صنعتی و تجارتی مرکز بن جائے گا جو نہ صرف صوبہ بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 129268 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2018 Views: 623

Comments

آپ کی رائے