دنیا کی محبت اور فکرِ آخرت

(Waseem Ahmad Razvi, India)

از افادات:حضرت مولانا پیر محمد رضا ثاقب مصطفائی نقشبندی (بانی ادارۃ المصطفیٰ انٹرنیشنل)

آقا کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس بات کا کوئی ڈر نہیں ہے کہ میرے بعدتم شرک میں مبتلا ہوجاؤ گے ؛ بُت نہیں پوجو گے تم؛ شرک میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ بلکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ میرے بعد تم دنیا دار ہوجاؤ گے ۔دنیا میٹھا خواب ہے اور اس دنیا کے اوپر ہم آئے ہیں چند دن کے لیے۔ لیکن لگتا ہے کہ یہاں سے ہم نے جانا ہی نہیں ہے۔ ع
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

یہ ڈوبتا سورج ہمیں روز کوئی خبر دیتا ہے کہ جناب! تم بھی ڈوبنے والے ہو۔ یہ سڑکوں کے کناروں پہ بھی قبرستان دکھائی دیتے ہیں اور آبادیوں کے اندر بھی؛ یہ ہمیں بتا تے ہیں کہ تم مٹی کارزق بننے والے ہو۔ یہ بڑھاپا ، یہ ڈھلتی جوانی ؛ حضرت یعقوب علیہ السلام نے جناب عزرائیل سے وعدہ لیا تھا کہ میری روح قبض کرنے کے لیے اچانک نہیں آنا پہلے کوئی قاصد بھیج دینا تاکہ مَیں موت کی تیاری کر لوں۔ حضرت عزرائیل نے وعدہ کرلیا کہ مَیں آپ کو پہلے ضرور بتاؤں گا ۔…… ایک عرصہ گزرا تو حضرت عزرائیل حاضرِ خدمت ہوئے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے پوچھا کدھر آئے ہو؟ کہا قبض روح کے لیے آیا ہوں۔ کہا تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ اچانک نہیں آؤں گا پہلے کوئی قاصد بھیجوں گا۔ تم نے تو کوئی قاصد نہیں بھیجا۔ حضرت عزرائیل عرض گذار ہوئے حضور ! آپ کے سامنے کتنے لوگوں کی موت واقع ہوئی ؛ یہ میرا قاصد نہیں تھا اور کیا تھا؟

ابھی ہم آرہے تھے ؛ تھوڑا سا لیٹ اس لیے ہوئے کہ راستے میں ٹریفک جام تھی۔ آگے کیا تھا کہ کسی گاڑی نے ٹکر ماری اور بیچ چوراہے میں لاش پڑی ہوئی تھی۔ وہ صبح تو ہنستا ہوا گھر سے آیا ہوگا؛ لیکن اب اس کے گھر میں اس کاجنازہ پہنچے گا…… مجھے اور آپ کو نہیں پتا کہ ہمارا اُٹھنے والا اگلا قدم کہاں ہے؟ اور جب ہمیں یہ نہیں پتا ہے…… فرمایا گیا کہ زندگی اور موت کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کہا فجر پڑھی ہے پتا نہیں ظہر پڑھیں گے یا نہیں۔ کہا میری صحبت میں بیٹھ کے اتنی لمبی امیدیں لگائے بیٹھے ہو! کہا ظہر پڑھی ہے جناب عصر پڑھیں گے یا نہیں ایک بولا کہ عصر پڑھی ہے پتا نہیں مغرب پڑھیں گے یا نہیں۔ ایک نے کہا کہ ایک رکعت پڑھی ہے پتا نہیں دوسری رکعت پڑھنا نصیب ہوگی یا نہیں۔ فرمایا یہ سب تمہاری باتیں ہیں۔ مَیں تو کہتا ہوں ایک طرف سلام پھیرا ہے پتا نہیں دوسری طرف سلام بھی پھیر سکیں گے یا نہیں۔ کیا موت اتنی قریب نہیں ہے؟مَیں اور آپ اپنی آخرت کے لیے کیوں نہیں سوچتے؛ اپنی زندگی کو کیوں نہیں بدلتے !!

دنیا کے اوپر جتنے بھی لباس پہنے جاتے ہیں ان کو کئی کئی جیبیں لگی ہوئی ہوتی ہیں ۔ شلوار قمیص ہو یا پینٹ شرٹ ہو۔ کئی کئی جیبیں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ صرف ایک لباس ہے جس پہ کوئی جیب نہیں ہے اور وہ کفن ہے۔ یہ بغیر جیب کے لباس اس لیے ہے کہ یہاں سے کچھ ساتھ لے کر نہیں جانا؛ صرف عمل ساتھ لے کر کے جانے ہیں۔ لیکن حُبِ دنیا اس طرح رچ بس گئی ہے کہ سویرے سے لے کر شام تک بھاگم بھاگ اسی پہ لگی ہوئی ہے۔ جس نے ڈھیروں اکٹھے کر لیے ہیں چین اسے بھی نہیں آرہا، قرار اسے بھی نہیں ملتااور اگر کسی سے پوچھوں تو وہ کہتا ہے جی بس روٹی کے لیے لگے ہیں، پیٹ کے لیے دھندہ کر رہے ہیں۔…… پیٹ تو دو روٹیاں صبح مانگتا ہے؛ دو شام کو مانگتا ہے۔ چلو دو دوپہر کو بھی دے دواس کو ۔یہ اتنا کچھ کیوں ہورہا ہے؟ یہ حب الدنیا و کراہیۃ الموت یہ دنیا کی محبت ہے اور حب الدنیا رأس کل خطیئۃ ہر گناہ کی جڑ دنیا کی محبت ہے۔ تھوڑا سا وقت ہے اس وقت کی حفاظت کیجیے اس کو یادِ الٰہی میں گزاریے ۔ آج موقع ہے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ کل یہ دروازہ بند ہوجائے گا اُس وقت کے پچھتاوے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ آج کا پچھتاوا کل کی بہتری کی ضمانت ہے۔ ؂
وقت پر کافی ہے اک قطرہ بھی آبِ خوش اندام کا
جل گیا جب کھیت برسا مینہ تو پھر کس کام کا

آج موقع ہے۔ روز ایسے وقت نہیں آتے ہیں۔ آج وقت ہے آج توبہ کا در کھلا ہے ۔ آنا تو ہے ہی اس کی چوکھٹ پہ۔ پھر جو لوگ اُٹھا کے لے کے آئیں گے ؛اچھا نہیں ہے کہ خود ہی چل کے جائیں ! پھر جو لوگ کندھوں پہ اٹھا کے لے کے جائیں گے، کل جو کفن میں منہ چھپا چھپا کے جاتے پھریں گے، اس کی رحمتیں آواز دیتی ہیں کھلے منہ آجا ؛ میری رحمتیں تیرا استقبال کریں گی۔
(ماخوذ از افاداتِ مصطفائی، زیرِ ترتیب)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waseem Ahmad Razvi

Read More Articles by Waseem Ahmad Razvi: 82 Articles with 67849 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2018 Views: 1059

Comments

آپ کی رائے