ہائے افسوس در افسوس

(Fareed Ahmed Fareed, )

حق لکھتا ہوں اور سچ کہتا ہوں مجھے اس بات سے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑتا کہ آپ میری بات سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں لیکن آپ کی آراء اور مخالفت کو میں اپنی نظر میں ضرور رکھتا ہوں۔دْنیا میں کوئی بھی ایسا واقعہ وقوع پذیر ہو جس میں انسانیت کی تذلیل کی گئی ہو اور انسان اپنے معیار سے گرگیا ہو تو مجھ سے لکھا نہیں جاتا میں دکھ کی اتنی گہری کھائی میں جاگرتا ہوں جس سے میری لیے ابھرنا مشکل ہو جاتا ہے میں اپنے قارئین سے مسلسل رابطے میں رہتا ہوں جن کی پرزور فرمائش پر میں قصور میں ہونے والے انسانیت سوز واقعہ پر قلم اْٹھا رہا ہوں میں حق اور سچ لکھوں گا ایسا سچ ! شاید جسے میں ہی سچ سمجھتا ہوں کیونکہ میں تصویر کو اْلٹا کر بھی دیکھنے کا عادی ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ننھی منی بیٹی زینب کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے کیا دْنیا اتنی جہالت میں ڈوب گئی ہے کہ صرف سات سال کی بچی کے ساتھ درندگی۔ وہ کوئی درندہ ہی ہوگا جس کو زینب بیٹی کی آہ نے بھی نہ رْلایا ہوگا بچہ جس کا بھی ہو اپنا بچہ ہی محسوس ہوتا ہے آپ کہیں جارہے ہیں اور کوئی بچہ روتا نظر آتا ہے تو آپ لاشعوری طور اْس کی طرف جاتے ہیں اور اسے چپ کروانے کی کوشش کرتے ہیں یہ خدا کی طرف سے صفت ہے جو آپ کو وہ بچہ اپنا محسوس کروارہی ہے اور آپ کا دل بے چین سا رہتا ہے جب تک وہ بچہ چپ نہیں ہوتا۔لیکن وہ ہوس کا بھوکا درندہ اس صفت سے بھی محروم تھا جتنی بد دعائیں اْس کے حصے میں آئیں ہیں وہ ضرور اپنے آپ میں مرگیا ہوگا۔زینب بیٹی کے لیے پاکستان کا ہر اک شخص خون کے آنسو رویا ہے ہر آنکھ اشکبار تھی ہر شخص نے اس دکھ کو محسوس کیا ہر شخص سراپا احتجاج تھا اب میں کچھ حقائق کی طرف آتا ہوں جس پہ سوچنا آپ نے گوارا نہیں کیا۔زینب بیٹی فقط سات کی تھی ماں باپ اپنے پندرہ سولہ سالہ بیٹے اور کسی غیر کے حوالے کر گئے ان سے پوچھنے کا حقدار کون ہے؟؟؟کچھ سانحے ایسے ہوتے ہیں جس میں حکومت کو عوام کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے قصور میں ہونے والا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ تھا جس میں سکیورٹی ایجنسیز بشمول پولیس کو عوام کی مدد کی ضرورت تھی لیکن وہاں جنگ کا سماں پیدا کردیا گیا اور اور کئی روز تک افراتفری کی صورتحال بنی رہی جو ابھی تک جاری وساری ہے۔میں مانتا ہوں کہ پولیس میں بہت خرابیاں موجود ہیں جس کا سدباب کرنا بہت ضروری ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عوام میں جو چاہے اْٹھے اور پولیس کو تنقید کرتے ہوئے حد سے گزر جائے۔یہاں ہماری بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے مذہبی رہنما اپنی ’’بلّے بلّے ‘‘ کروانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں اور حکومت کے خلاف تقریر کرکے عوام میں غیض و غضب بھر دیتے ہیں جس سے جنگ کا سماں پیدا ہو جاتا ہے اور عوام اس بدلے میں پولیس کو اپنا دشمن اول گردانتی ہے اور احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے پولیس اپنے بچاؤ کے لیے جو تدابیر اختیار کرتی ہے اسے دہشتگردی گردانا جاتا ہے ایسا کیوں؟؟؟ ہمارا دوغلا پن تو اسی بات سے واضح ہوجاتا ہے۔اس واقعہ کی وجہ سے قصور شہر کو زبردستی تین دن کے لیے بند رکھا گیا جو دیہاڑی دار طبقہ ہے کیا آپ یہ سوچنے کی زحمت گوارا کریں گے کہ ان کے گھر میں تیسرے دن کچھ پکا ہوگا۔یقین مانیے وہاں کی باربر شاپ کا ایک آدمی بتارہا تھا جو تین سو دیہاڑی پہ کام کرتا ہے تین دن شہر بند رہنے کی وجہ سے اْس کے گھر ایک دن فاقہ رہا تھا۔میں سب سے پہلے مذہبی رہنما طاہرالقادری صاحب اور جناب خادم حسین رضوی صاحب سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ وہ وہ عوام کو بھڑکانے سے باز رہیں کیونکہ پہلے دن جب زیادتی ہوئی تھی ان کی تقریروں کی وجہ سے پورے شہر میں خانہ جنگی کا سماں پیدا ہوا تھا’’لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو تمہارے لیے بھی آسانیاں پیدا کی جائیں گی قرآنی آیت کا مفہوم بتارہا ہوں‘‘یہ صرف میرا یا آپ کا مسئلہ نہیں یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے جس کا سدباب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جب ہم آپس میں ہی گتھم گھتا ہوجائیں گے تو کون حل کرے گا اس مسئلہ کو۔اب وقت ایسا ہے کہ جس کے لیے ہم سب کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے ہمیں مل بیٹھنے کی ضرورت ہے ہمیں اپنے بچے کو بچانا ہے میرے پھول مرجھا رہے ہیں میری زینب جیسی پھول بیٹیوں کے ساتھ درندگی کی جارہی ہے ہوس کے پجاری کتوں کی طرح گلی گلی گھوم رہیں ہے۔تو آؤ ! میرے ساتھ عزم کرو مل جل کر کام کرنا ہے اپنی زینب جیسی بیٹیوں کو بچانا ہے کتنی کلیاں مرجھا چکی ہیں سب کو اپنا سمجھنا ہے یہ پولیس والے اور دوسری سکیورٹی ایجنسیز والے بھی آپ کے بھائی ہیں یہ کوئی آپ کے دشمن نہیں ہیں بلکہ یہ سب کچھ آپ کے لیے ہی کرتے ہیں ان سے مل کر چلو اور درندگی کی انتہا کرنے والوں کی گردن دبوچ لو۔اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو وقت کا انتظار کیجیے تب وقت آپ کا منتظر ہوگا سوائے دکھ اور افسوس کرنے کے سوا آپ کچھ نہیں کرسکو گے اﷲ آپ کا حامی و ناصر ہو اور زینب کے قاتل کو عبرت کا نشانہ بنائے۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ahmed Fareed

Read More Articles by Fareed Ahmed Fareed: 27 Articles with 12422 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2018 Views: 338

Comments

آپ کی رائے