ہمارے نابینا سیکورٹی کیمرے

(Abdul Jabbar Khan, Rajan Pur)

انسا نوں کی یہ دنیا جس میں اربوں انسان بستے ہیں ہر انسان کی سوج ‘ کردار اور ز ند گی گز ارنے کے طر یقے الگ الگ ہیں سا رے انسان ایک جیسے نہیں ہو سکتے سارے پاکیز ہ و نیک عمل بھی نہیں ہو سکتے ہیں ۔ اچھا ئی اور برائی کا وجو د انسانوں کے کر دار سے ہی دنیا میں مو جو د رہے گا ۔ دنیا میں جر م اور مجر م کو ئی نئی با ت نہیں بلکہ یہ ہر دور اور ہر تہذیب میں مو جو د تھے پہلے سابقہ ادوار میں بھی جر م ہو تے تھے اور مجرم کبھی پکڑے جاتے تھے تو کبھی کہانیوں اور داستانوں کا حصہ بن جاتے ۔لیکن سابقہ اور مو جو دہ دور میں کا فی فر ق ہے پہلے انسا نی آبا دی کم تھی اور جر ائم کی شر ح بھی کم تھی آبا دی بڑھتی گئی جر ائم بھی بڑھتے گئے پر انے وقتوں میں میں کسی علاقے میں چوری چکاری ہو تی تو پو لیس اور قا نون نافذکر نے اداروں کو اند از ہ جاتا کہ اس میں چوری کو ن کر سکتا ہے یہاں کے نا می گر امی چور کون ہیں ان کے پاس مکمل ریکارڈ مو جو د ہو تا تھا یا پھر اس معا ملے میں علاقے کے کسی بڑے سے مد د حاصل کی جاتی تھی‘ اس کے علا وہ چور کے کھو رے (یعنی پاؤں کے نشان )کو کھو جی شنا خت کر تا اور کھو را یعنی قدموں کے نشان سے مجر م کی سمت اور چال کا اند از لگا یا جاتا اگر کھو جی نے اس چورکی چا ل کو ز ند گی میں ایک مر تبہ بھی دیکھ چکا ہو تا تو وہ اس کی نشاند ہی کر دیتا اس کے علاوہ پولیس بدنام اور نامی گر امی جرائم پیشہ افراد کو پکڑ کر کھوجی کے سامنے چلایا جاتا کھوجی ان کے چال کے اند از سے اس مطلو بہ شخص کی نشاند ہی کر دیتا تھا ۔وقت کے ساتھ سا تھ یہ نظام بھی بے کا ر ثا بت ہو نے لگا مجر م اپنی چال بدل کر واردت کر تے یا پھر کھوجی چوروں کے ساتھ مل جاتا اسے پتہ ہو نے کے باوجو د وہ پو لیس اور متاثرین کو آگا ہ نہ کر تا ۔

کھو جی کے بعد کھو جی کتے مجرم کا کھورا سونگ کر اس کا تعاقب کر تے اور کسی ایسی جگہ پہنچ جاتے جہاں وہ مجرم رہتا ہو یا کسی کے ہاں قیا م کر تا ہو لیکن وقت کے ساتھ یہ بھی نا کارہ ہو گیا اکثر کھو جی کتے غلط نشاند ہی کر نے لگے اور ان کی وجہ سے کئی بے گناہ لوگ مجرم قرار دیے جاتے پیسے کے لالچی لو گوں نے غیر تربیت یا فتہ کتوں کو مجرموں کی کھو ج کے کا م میں استعمال کرنے لگے جس سے تفتیش کے کام میں مد د دینے والا یہ بھی طر یقہ بے کار ہو نے لگا کیونکہ پو لیس کے پاس کھو جی کتے ہو تے بھی ہیں تو وہ بہت کم تعداد کے علاوہ بارود اور منشیا ت کی شناخت کے لئے ہو تے ہیں کیونکہ مجرموں کی کھو ج کا م پر ائیو یٹ ایجنسیاں کر رہی تھیں جن میں سے اکثر غیر رجسٹر ڈ تھیں ۔

دنیا میں ٹیکنالو جی کا استعمال انسانی فائد ے لئے ہو نے لگا تو جرائم پیشہ افراد بھی جد ید ٹیکنالو جی کا استعمال کر کے پو لیس کی نظروں سے بچنے کی کو شش کر نے لگے اور ٹیکنا لو جی کی مد د سے جرم کر تے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کے تمام جرائم پیشہ افراد ٹیکنالو جی کو استعمال کر تے ہو ئے جرم کر تے ہیں روایتی طر یقے سے بھی جرم ہو تے ہیں اگر ایک طر ف دنیا کے کسی کو نے میں ہیکر زہز اروں میل دور کوئی ورات کرتے ہیں تو سٹر یٹ کرائم ‘ڈکیتی ‘اغواء ‘ چوری ‘ مو یشی جوری جیسے جر م بھی ہو رہے ہیں بس ان مجرموں نے کچھ اپنے طر یقہ واردات تبدیل کر لئے ہیں لیکن اس کے با وجو د پو لیس ان کو پکڑنے میں کا میا ب رہتی ہے جو نہیں پکڑے جاتے تو وہ جرم سے توبہ تو نہیں کر لیتے ان کی عادت تو بنی ہو تی ہے وہ کسی نہ کسی مو ڑ پر پو لیس گرفت میں آجاتے ہیں

جرائم کی روک تھام کے لئے دنیا میں پولیس کے نظام کو جدید بنایا جارہا ہے سانئسی بنیا دوں پر تفتیش کی جارہی ہے فنگر پر نٹ کاریکارڈ ‘ ڈی این اے سے مد د ‘ اور ملزمان کا ڈیٹا بیس تیار کر کے مختلف اداروں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے اور پولیس کی اپنی فرنزک لیب بنا ئی جاتی ہیں جس میں تمام سائنسی شعبہ جات کے ماہر ین کے ساتھ آئی ٹی ایکسپرٹ مو جو د ہو تے ہیں ۔ لیکن ان سب طر یقہ کارے کے باوجو د سب سے اہم چیز جو مجر موں کو پکڑنے اور شنا خت میں کارآمد ثابت ہو نے کے ساتھ واردات میں کمی کا بھی سبب بن رہی ہے وہ ہیں جگہ جگہ لگے سیکورٹی کیمرے جو چوبیس گھنٹے ہر آنے جانے اور ہر حرکت کو ریکارڈ کر رہے ہو تے ہیں ۔پوری دنیا میں اب ان کی ہی مد د سے مجرموں کو پکڑا جاتا ہے بلکہ کسی بھی جر م ہونے کے چند گھنٹے بعد مجرم پو لیس کی گر فت میں ہوتا ہے ۔ پاکستان میں بھی دہشت گردی کے بڑھتے ہو ئے واقعات کے پیش نظر بڑے شہر وں اور اہم و حساس جگہوں پر کیمرے لگا ئے گئے سانحہ آرامی پبلک سکول کے بعد ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کیمر ے لگانا لازمی قرار دیا گیا اور سیکورٹی انتظامات کے مکمل نہ ہونے تک ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند رکھے گئے ۔ ان سیکو رٹی کیمروں سے ہمارے سیکورٹی اداروں کو کا فی معاونت ملی جس کی وجہ سے بڑے بڑے دہشت گردی کے واقعات سے لے کر عام چوری چکاری کے ملز م اسی کی وجہ سے پکڑے گئے لاہور مال روڈ پر ہو نے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں شہید ہو نے والے ڈی آجی جی اور ایس ایس پی ‘ کے مجرم تک ان ہی کیمروں کی مد د سے پہنچا گیا تھا جیسے چند دن میں گرفتار کر لیا گیا تھا ۔لیکن یہ ساری کا میا بی سیف سٹی کیمروں سے حاصل نہیں ہو ئی بلکہ کچھ پر ائیو یٹ کیمروں کی ویڈیو سے کافی فائدہ حاصل ہو ا جو مختلف دوکاندروں نے لگا ئے ہو ئے تھے ۔اب ملک کے بڑے شہر وں اور اہم جگہوں پر کیمرے تو لگا ئے گئے ہیں ان پر کروڑوں روپے بھی خر چ کیے گئے ہیں لیکن وقت کے ساتھ یہ کیمرے ناکارہ ہو تے جارہے ہیں مناسب دیکھ بھال کے ساتھ غیر معیاری کیمرے استعمال کیے گئے ہیں جن کی ویڈ یو کوالٹی انتہائی غیر مناسب ہے جس میں لو گ چلتے پھرتے تو نظر آتے ہیں لیکن ان کے چہر وں کی شنا خت کر نا مشکل ہو جاتا ہے حالتہ قصور میں زینب کے قتل کے واقعہ میں بھی یہی کچھ ہو ا ملز م کی شنا خت سیکورٹی کیمرے کی ویڈیو سے نہ ہو سکی اس کا خاکہ تیا ر کر وانا پڑا پہلا خاکہ بھی مشابہت نہ رکھتا تھا اس کے بعد ایک اور خاکہ تیار کیا گیا ۔ اس کے واقعہ کے بعد ملک میں سیکورٹی کیمروں کو لے کر ایک نئی باعث چل پڑی اگر اس جگہ کیمرہ اچھی کوالٹی کا لگا ہوتا تو مجرم کی شناخت اچھے طریقے سے ہو سکتی جس کے چہر ے کی شناخت نادرہ سے کروا کر مجرم تک جلد پہنچا جاسکتاتھا ۔ ہمارے ہاں جہاں پر کیمرے لگ ہو تے ہیں وہاں ساتھ یہ بھی لکھ دیا جاتا ’’خبردار آپ کو کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے ‘‘ یعنی آپ یہاں کچھ نہ کریں تھو ڑا سا ئیڈ پر ہو کر جو مر ضی کر لیں وہاں کیمر ہ نہیں ہے میرا خیا ل میں ایسا لکھنے کی ضرورت نہیں ہے یہ بس ڈرانے کے لئے ہے کہ کوئی اس وجہ سے جرم نہ کرے لیکن جرم پھر بھی ہو جاتے ہیں ۔اکثر ملز م دنداتے ہو ئے بنک ڈکیتی کر لیتے ہیں ان کی بھی شنا خت نہیں ہو پاتی اس کی بھی یہی وجہ ہے وہاں بھی ایسے پرانے کیمرے لگے ہو ئے ہیں جن کی کوالٹی بھی بے کار ہو تی ہے جب ہمارے کیمرے کی آنکھ ناکارہ ہے تو اس اندھی آنکھ سے ڈرانے کا کیا فا ئد ہ میں اکثر اپنے کالمز میں لکھتا رہتا ہوں ہم ٹیکنالو جی کی دوڑمیں دنیا سے بہت پیچھے ہیں جس کی وجہ سے اب ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مز ید کرنا پڑے گا ۔

چین نے سیکو رٹی کیمر وں کی ٹیکنا لوجی میں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑدیا ہے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی سے لیس چین کی شاہروں پر لگے کیمرے بچنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے۔ ان جدید ٹیکنالوجی کے حامل کیمر وں کی رینج میں آتے ہی کسی شخص کی شناخت اور پھراس کا ریکارڈ فورا اسکرین پر آجاتا ہے۔ چین میں نگرانی کے اس نظام کا جائزہ لینے کے لیے برطانوی صحافی نے تجر با تی طور پر پولیس ریکارڈ میں خود کو مشکوک درج کرایا۔جب وہ متعلقہ شخص مانیٹرنگ نظام کی رینج میں آیا تو اسے چند منٹ میں پولیس نے اسے حراست لے لیا ۔چین میں مانیٹرنگ کے اس جد ید نظام کے لیے 17 کروڑ کیمرے نصب کیئے جاچکے ہیں‘ چینی حکومت 2020 تک ہائی ٹیک سی سی ٹی وی کیمروں کی تعداد 45 کروڑ تک لے جانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔مستقبل میں یہ نظام ہر شہری کی نقل و حرکت کے رویوں کی بنیاد پر ایک ریٹنگ بھی مرتب کرتا رہے گا۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام سے نہ صرف جرائم کو روکنا بلکہ جرم ہونے سے پہلے ہی آگاہ رہنے میں مدد ملے گی ۔ چین کے ایک بینک نے تو چہرہ شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر صارفین کو اے ٹی ایم کارڈ رکھنے اور پاس ورڈ یاد کرنے کی مشکل سے نکال دیا ہے۔صارفین اے ٹی ایم میں لگے کیمرے میں چہرہ شناخت کرا کر رقم نکال سکتے ہیں.لیکن دوسری طر ف ہمارے ہاں اے ٹی ایم میں نو سر با ز اپنا نظاملگا کر عوام کو لو ٹ رہے ہیں

اگر ملک میں جرائم کا خاتمہ کرنا ہے تو قانون میں اصلاحت کرنے کے ساتھ بہت ساری تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ایسا قانون اور نظام بنانے کی ضرورت ہے جس میں امیر غریب کا فر ق نہ ہو معاشی طور پر بہتری لانے کے ساتھ روزگار کے نئے مواقعے تلاش کرنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی پولیس کی تفتیش میں معا ون ثا بت ہونے والے سیکورٹی کیمروں کو جد ید کرنے کی اشد ضرورت ہے اکثر اہم اور حساس جگہوں پارکس ‘ ہسپتالوں ‘سکولوں ‘ چوہاروں ‘پٹرول پمپ ‘ سروس اسٹیشن وغیرہ میں لگے کیمروں کو چیک کرنے کی اشد ضرورت ہے ‘ اس کے علاوہ بڑے دوکاندار ‘ بازاوروں ‘ مساجد ‘ گلی محلوں میں بھی کیمرے لگا ئے جائیں ہر دوکاندار کو پابند کیا جائے کہ کیمر ے لگا ئیں خاص کر باہر کا ویو واضع اور زیادہو‘اور گورنمنٹ ان کے ساتھ کسی بھی ٹیکس کی مد د میں رعایت دے کران سے کیمرے لگوا سکتی ہے ملک میں محلے کی ہر بڑی مسجد میں کیمرے لگوائے جائیں جن میں خاص کر باہر والے کیمرے کا ویو زیا دہ ہو ایسے بڑے گھر وں و محلے کی سطح پر لگا ئے جائیں بلد یاتی نمائندے محلہ کمٹیاں بنا کرایسا کر سکتے ہیں اگر یہ نظام زیادہ پیمانے پر پھیل جاتا ہے تو پولیس کو جرائم پیشہ افراد تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی اور جرم کی شرح میں خاطر خواہ کمی ہو گی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Jabbar Khan

Read More Articles by Abdul Jabbar Khan: 151 Articles with 77128 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2018 Views: 693

Comments

آپ کی رائے