قرآنی انقلاب اور اسلام کے فطری نظام نے مغربی قوتوں کے عزائم خاک میں ملا دئے

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)

اسلام انسانیت کا مذہب ہے، اسی سے ایوانِ باطل مضطرب ہے، سسکتی انسانیت کو بالآخر قرار اسلام میں ہی ملنا ہے۔ انسانی فطرت میں تلاش و جستجو کا مادہ ابتدا ہی سے رہا ہے اور جیسے جیسے یہ ارتقا سے ہم آہنگ ہوا اسلام کی سچائی نکھرتی گئی۔ یورپ کے صنعتی انقلاب اور پھر اس سے منسلک سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز فتوحات نے جہاں مادیت کو بڑھاوا دیا وہیں اس رجحان کو بھی تقویت ملی کہ اب اسلام ’’جدیدیت‘‘ کے آگے ٹک نہ سکے گا۔ صہیونیت اپنے زعم میں مبتلا تھی کہ اسلام جدید تقاضوں کی کسوٹی پر ناقص ثابت ہوگا۔ لیکن وقت اور حالات نے اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ: اِنَّ الدِّ یْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ (سورۃ آل عمران:۱۹) ’’بے شک اﷲ کے یہاں اسلام ہی دین ہے‘‘ اور یہ دین ’’دین فطرت‘‘ ہے جس کے ہر ہر اصول کی تائید و تصدیق روحانی ذرائع کے ساتھ ساتھ عقلی ذرائع سے بھی ہوتی ہے۔

جدیدیت کی تعبیر اسلام کی راہ میں حائل نہ ہو سکی۔ دہریت نے سر ابھارا لیکن اس کے ساتھ ہی سائنس کی نئی نئی تحقیقات نے خدا کے وجود پر ایمان کو پختہ کیا۔ نظام کائنات میں ہونے والی جستجو کا حاصل وجود باری کا اقرار ٹھہرا اس طرح قرآن کی صداقت اجاگر ہوتی گئی۔قرآنی فیصلوں کا حسن کھلتا گیا۔ پھر صہیونیت نے اسلام کے مقابل ’’ماڈرنائزیشن‘‘ کا پرچار کیا۔ جسے ہم تہذیبی و ثقافتی حملہ بھی کہہ سکتے ہیں، اس کے حسی اصولوں میں یہ شامل ہے کہ انسانی حیات کے لیے اسلام مکمل طور پر نمائندگی نہیں کر سکتا، متوازن اور کامل زندگی کا تصور ماڈرنائزیشن میں ہے یا مغرب کی تقلید میں!…… دین اسلام کی اکملیت کا قرآن نے پہلے ہی اعلان کر دیا، جس کی رو سے انسانیت کے لیے یہ مجموعۂ قوانین ہے، دین مکمل ہونے کا مطلب واضح ہے کہ اس میں حیات انسانی کے جملہ اصولوں کا احاطہ کر لیا گیا ہے، قرآن کے اعلان پر غور کریں:اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِ سْلَامَ دِیْنًا (سورۃالمائدۃ:۳)’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا‘‘ …… اس میں واضح اظہار ہے کہ نجات پسندیدہ دین ’’اسلام‘‘ میں ہے۔

اسلام کی اسی فطرت سے مغربی قوتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہے، جس کا اظہار گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے، توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کر کے ناموس رسالت پر مسلسل حملہ اسی ناپاک مشن کا حصہ ہے۔جب کہ پاکستان میں ختم نبوت سے متعلق قانون میں ترمیم کی کوشش بھی مغربی فکر کا شاخسانہ ہے؛ جس کا واضح اشارہ یہ ہے کہ مسلم کہلانے والے حکمراں اسلام کے نہیں امریکہ و اسرائیل کے وفادار ہیں۔ نئی تعبیرات مثلاًاسلامو فوبیا، شدت پسندی، بنیاد پرستی، ٹیررزم اسلام سے نفرت کا منصوبہ بند صہیونی اظہاریہ ہے۔ماضی میں امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک چرچ کی قرآن مقدس کو جلانے کی ترغیب اسلام کی مقبولیت سے گھبراہٹ کی دلیل ہے۔پھر مسلم ممالک میں اصلاحات کے نام پر اسلامی نظریات سے جدا قوانین کی تشکیل اسی مہم کا حصہ ہے۔سعودی عرب میں ائمہ و خطبا کے بیانات سے یہود ونصاریٰ کی مذمت والے مواد کا اخراج۔ ہمیں معلوم ہے کہ مغرب کی منفی فکر مکمل کامیاب نہ ہو سکے گی تاہم مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب کا ایک دور ضرور شروع ہو چکا ہے۔ قرآن مقدس سے متعلق مغربی منفی رجحانات سے باطل نے یہ گمان کر لیا کہ ’’تشکیک‘‘ اور ’’تحریف‘‘ کے رجحانات کو تقویت ملے گی، لیکن ان کا جواب بھی قرآن مقدس نے تقریباً ۱۴؍صدی پہلے ہی دے دیا تھا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّالَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (سورۃالحجر:۹) ’’بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں‘‘…… مغربی فکر سے اسلام کا تو کچھ نہیں بگڑے گا ہاں! ضرور عقلیت کے متوالے غور کریں گے کہ قرآن سے بوکھلاہٹ کیوں؟ اور یہ سوچ قرآن سے قریب کرنے کا ذریعہ بنے گی، جس کا نتیجہ ’’قبول حق ‘‘ کی صورت میں سامنے آئے گا لیکن یہ صہیونیت کا طرز عمل ہمارے لیے ایک چیلنج ہے۔ اس طرح کہ وہ تو قرآنی تعلیمات سے خوف زدہ ہیں اور ہم قرآن سے ہی دور ہوتے جارہے ہیں ؂
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
ہم خوار ہوئے تاریک قرآں ہو کر

نبی کونین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل ہونے والی یہ کتاب آج بھی پوری انسانیت کے لیے رہبر و رہنما ہے، ہمیں انسانوں کے ہاتھوں بنائے ہوئے ان اصولوں کی کیا ضرورت جو کل زوال سے دوچار ہوں گے، مستقل کامیابی اور انسانیت کی فلاح تو قرآن کے احکام اور دامن مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے وابستگی میں ہے۔ گلوب لائزیشن کی اصطلاح آج رائج ہوئی لیکن اسلام کی آفاقیت و عالم گیریت ختم المرسلین نبی مختار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد سے مزید مستحکم ہوئی جسے ہم ’’عالمی ہدایت‘‘ سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں، قرآن سے عداوت رکھنے والے اس سے بھی خوف زدہ ہیں کہ انسانیت کی عالم گیر رہنمائی قرآن کر رہا ہے، جب تک قرآن رہے گا انسانیت اسلام کے دامن میں قرار پائے گی، مولانا عبدالعلیم میرٹھی رضوی کے الفاظ میں: (حضرات انبیاے کرام علیہم السلام باری باری) تشریف لا کر اپنا اپنا کام (یعنی خلق کی ہدایت) کرتے گئے حتیٰ کہ ایک ایسا وقت بھی آ گیا جب حیات انسانی ایک عالم گیر تاریکی میں محصور ہو گئی…… عالم گیر اصلاح کے لیے ایک عالم گیر پیغام کی ضرورت تھی اور جس خداے واحد و یکتا نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک سب رسولوں کو وحی بھیجی تھی، حضرت محمد مصطفی علیہ الصلاۃ والسلام والتحیۃ والثناء کو بھی وحی بھیجی۔ وہی جنھوں نے تاریخ انسانیت میں بالکل پہلی بار خدائی حکم کے مطابق یہ دعویٰ کیا: یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (پ۹،ع۱۰) ’’اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اﷲ کا رسول ہوں‘‘…… اور یہی اسلام کی عالم گیر رہنمائی پر دال ہے، عقلی تحریک کے نمائندوں کو اس زندہ حقیقت پر غور کرنا چاہیے۔
٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 149734 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jan, 2018 Views: 392

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ