محمدمصطفی ﷺاورجانثارانِ مصطفی کاذوقِ نماز

(Tariq Noman, )

نمازمومن کی معراج ہے اس سے مومن عروج کوپاتاہے اوررب کاقرب حاصل کرتاہے لیکن اس کااہتمام اس طریقے سے کرناچاہیے جس طرح نبی کریم ﷺ نے کیاحضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت اور پرسوز نمازاور کس کی ہوسکتی ہے۔ کون ہے جو آپ سے زیادہ اﷲ کی معرفت کی پہچان رکھتا ہو اور آپ سے زیادہ نماز کی روحانی اسرار اور معنویت سے واقف ہو۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہ تو اس کیفیت کی اس طرح عکاسی فرماتی ہیں کہ نماز کا وقت شروع ہو جاتا تو یوں محسوس ہوتا کہ آپ ہمیں پہچانتے ہی نہیں ہیں۔کبھی کبھی آپ پر نماز کے درمیان رقت طاری ہو جاتی، چشم مبارک سے موتیوں کی لڑی بہنے لگتی، ایک صحابی نے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی نماز کی منظر کشی کچھ یوں کی: میں نے دیکھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی چشم ہائے مبارک سے آنسو جاری ہیں روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا کہ گویا کوئی چکی چل رہی ہے یا کوئی ہنڈیا ابل رہی ہے(ترمذی)

آدابِ نماز
آپﷺ خود بھی نماز کے جملہ آداب بجا لاتے اور دوسروں کو ان کی تعلیم فرماتے۔ ایک بار کسی شخص نے مسجد نبوی میں آکر نہایت عجلت اور تیزی میں نماز پڑھی آپ ملاحظہ فرما رہے رہے۔ آپ نے فرمایا: اے شخص اپنی نماز پھر پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے دوبارہ اسی طرح نماز ادا کی، آپ نے پھر اسی طرح ارشاد فرمایا۔ جب تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا تو اس نے عرض کیا۔ یارسول اﷲ میں کس طرح نمازادا کروں۔ ارشادہوا: اس طرح کھڑے ہو، اس طرح قرات کرو، اس طرح اطمینان اور سکون کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرو(بخاری)
آپ نے ارشافرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا تو وہ خدا کی طرف پوری طرح متوجہ رہے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوجائے اور نمازمیں ادھر ادھر نہ دیکھو کیونکہ جب تم نماز میں ہو خدا سے باتیں کر رہے ہو(طبرانی)

نبی کریم ﷺ کی رات کی عبادت
رات کی خلوتوں میں آپ ﷺجس سوزوگداز اور آہ و بکا کے ساتھ اﷲ کے حضور میں حاضر ہوتے اور کس انہماک سے قیام فرماتے اس کا ادراک سور مزمل کی تلاوت سے ہوسکتا ہے۔

رات کی نماز میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر عجیب ذوق و شوق کا عالم طاری ہوتا تھا، قرآن پڑھتے چلے جاتے، جب خداکی عظمت کبریائی کا ذکر آتاسبحان اﷲ کہتے، عذاب کاذکر آتا تو پناہ مانگتے۔ جب رحم وکرم کی آیتیں آتیں تو دعاکرتے(مسند احمد بن حنبل)

آپ نے فرمایا: کہ (رات کی نفل نماز)نمازدو دورکعت کرکے ہے، اور ہر دوسری رکعت میں تشہد ہے اور تضرع وزاری ہے،خشوع وخضوع ہے، عاجزی اور مسکنت ہے اور ہاتھ اٹھا کر اے رب کہناہے،جس نے ایسا نہ کہا تو اس کی نماز ناقص رہی ۔ (ابوداؤد)

حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما روایت فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا نماز آپ کیلئے محبوب بنادی گئی ہے۔ لہذا آپ اس میں سے جتنا چاہیں اپنا حصہ وصول فرمالیں۔ (احمد، طبرانی)

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ روایت فرماتے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: خوشبو اور عورتیں میرے لئے محبوب بنادی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ (احمد، طبرانی)

حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم ایک دن جلوہ افروز تھے اور لوگ بھی آپکے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: اﷲ تعالی نے ہر نبی کو کسی نہ کسی عمل کا زیادہ شوق عطافرمایا ہے۔ مجھے رات کو نماز پڑھنے سے زیادہ رغبت ہے اس لئے جب میں (اپنی رات کی نفل)نماز کیلئے کھڑا ہوجاؤں تو کوئی میرے پیچھے نماز نہ پڑھے کیونکہ اس کی طوالت کی وجہ سے اسکے لیے اقتدامشکل ہوجائے گی

٭نبی کریم ﷺ کی نفل نماز٭
حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ(نفل)نماز میں شریک ہوگیا۔ آپ نے سور بقرہ شروع فرمائی میں نے کہا سوآیتوں پر رکوع کردینگے لیکن آپ پڑھتے رہے۔پھر میں نے کہا آپ اس سور ہ کو دورکعتوں میں پڑھیں گے لیکن آپ پڑھتے رہے۔ پھر میں نے کہا آپ اسے ختم کر کے رکوع کردینگے لیکن آپ نے سورہ نساء شروع کر دی اسے ختم کرکے سورہ آل عمران شروع کر دی اور اسے بھی پورا پڑھ لیا۔آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتے تھے۔ جب آپ کسی ایسی آیت کی تلاوت فرماتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپ سبحان اﷲ کہنے لگتے جب خوف والی آیت سے گزرتے تو آپ پناہ مانگتے پھر آپ نے رکوع کیا اور سبحان ربی العظیم کا ورد کرنے لگے۔ آپ کا رکوع قیام جیسا طویل تھا۔ پھر سمیع اﷲ لمن حمدہ فرماکر کھڑے ہوگئے، اور تقریبا رکوع جتناکھڑے رہے۔ پھر سجدہ کیا اور سبحان اﷲ ربی الاعلی کہنے لگے، آپ کا سجدہ بھی قیام جتنا ہی طویل تھا۔(مسلم)٭دوسری روایت میں ہے کہ حضور نے چار رکعت ادافرمائی میں نے نمازکے بعد حضور سے عرض کیا کہ میں بھی آپکے پیچھے تھا۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا، میں نے عرض کیا قسم اس ذات کی جس نے آپکو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ اب تک میری کمر میں درد ہورہا ہے۔آپ نے فرمایا میری توجہ تمہاری طرف ہوتی تو میں نماز کو مختصر کردیتا۔ (طبرانی)

حضرت ابوبکرصدیقؓ کا ذوق نماز
آپ ﷺ کوجن لوگوں نے ایمان کی حالت میں دیکھایاصحبت پائی وہ پاک جماعت بن گئی جسے صحابہ کرام ؓ کی جماعت کہاجاتاہے انہوں نے آپ ﷺ کی ہراداکواپنایااوررضی اﷲ عنہم ورضوعنہ کاسرٹیفکیٹ دنیامیں ہی پاک نبی ﷺ کی پاک زبان سے حاصل کیانبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذوق عبادت کا اثر صحابہ کرام کی طبیعتوں پر بھی ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نماز میں کھڑے ہوکر قرآن پڑھتے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں ہو جاتا، لہجے میں اتنی نرمی تھی اورترنم تھاکہ اردگرد کا سارا ماحول ایک روحانی کیفیت میں ڈوب جاتا۔ کبھی مسجد حرام میں نماز ادا کرتے تو آپ کے اردگرد قرآن سننے والوں کا ہجوم ہوجاتا۔ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہو جاتے۔ اس پر کفار نے رکاوٹ ڈالنی شروع کی تو گھر کے ایک گوشے میں نماز ادا کرنے لگے لیکن اسے سننے کیلئے پھر لوگ گھر کے باہر جمع ہوجاتے۔

حضرت عمر فارق ؓ کاذوقِ نماز
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ایسے عالم میں بھی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ حضرت مسور بن مخرومہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ دوسرے دن صبح کے وقت ان کے گھر گیا ان پر زخموں کی شدت کی وجہ سے غشی طاری تھی اور ان کے اوپر ایک کپڑا پڑا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا آپ لوگوں کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟ لوگوں نے کہا جیسے آپ مناسب سمجھیں، میں نے کہا آپ لوگ انہیں نماز کا نام لے کر پکاریں،کیونکہ نماز ہی ایسی چیز ہے، جس کی وجہ سے یہ سب سے زیادہ گھبرائیں گے۔ چنانچہ لوگوں نے کہا امیر المومنین نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ اس پر آپ نے فورا آنکھیں کھول دیں، اور فرمایا۔ اﷲ کی قسم جو آدمی نماز چھوڑ دے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے نماز ادا فرمائی اور حالت یہ تھی کہ ان کے زخم سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔

حضرت عثمان ؓ کاذوقِ نماز
حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بھی نماز اور تلاوت کے ذوق سے معمور تھے۔ نماز میں کثرت گریہ سے ریش مبارک آنسوں سے تر ہو جاتی۔ ساری رات نماز پڑھتے اور ایک رکعت میں قرآن ختم کر لیتے۔ عطا بن ابی ریاح کہتے ہیں حضرت عثمان نے ایک مرتبہ حرم میں نماز پڑھائی پھر مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وتر کی ایک رکعت میں سارا قرآن ختم کر دیا۔

حضرت علی ؓاورصاحبزادوں کاذوقِ نماز
حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کا چہرہ اذان سنتے ہی متعیر ہو جاتا، ارشاد فرماتے اس امانت کو ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے، جسے اٹھانے سے زمین و آسمان عاجز آگئے۔ نماز میں ایسی محویت ہوتی کہ جسم میں پیوست ہونے والا تیر کھینچ لیاگیا اور آپ کو مطلق خبر نہ ہوسکی ۔

امام مظلوم حسین بن علی کربلا کے میدان میں رونق افروز ہوتے ہیں۔ عزیزوں اور دوستوں کی لاشیں میدان جنگ میں نظر کے سامنے پڑی ہوتی ہیں، ہزاروں اشقیاآپ کو نرغہ میں لئے ہوئے ہیں۔ اتنے میں نماز کا وقت آجاتا ہے۔ ایسے عالم میں بھی آپ نماز کو نہیں بھولتے۔

٭حضرت ابوہریرہ کاذوق نماز٭
حضرت ابو عثمان نہدی رحم اﷲ علیہ کہتے ہیں کہ میں سات راتوں تک حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کا مہمان رہا۔میں نے دیکھا کہ آپ،آپ کی اہلیہ اور آپ کا خادم تینوں باری باری اٹھ کر عبادت کیا کرتے تھے اور اس کیلئے انہوں نے رات کے تین حصے کیے ہوئے تھے۔

٭نمازمیں قرآن کی پیاری تلاوت٭
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں ایک رات میں نماز عشا کے بعد قدرے تاخیر سے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ آپ نے مجھ سے استفسار فرمایا۔کہاں تھیں؟ میں نے عرض کیا:آپ کے ایک صحابی مسجد میں (ادائیگی نفل کرتے ہوئے)قرآن پڑھ رہے تھے۔ میں اسے سن رہی تھی۔ میں نے اس جیسی آواز اور اس جیسا حسن قرات آپکے کسی اور صحابی سے نہیں سنا، آپ نے بھی کچھ دیر انکی تلاوت سماعت فرمائی اور میری جانب متوجہ ہوکر فرمایا۔ یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں فرمایا تمام تعریفیں اس پاک پروردگار کیلئے ہیں، جس نے میری امت میں ایسے افراد پیدا کئے

٭عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کاذوق نماز٭
حضر ت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو نماز سے بڑی محبت تھی، وہ زیادہ نفلی روزے نہیں رکھتے تھے۔ عام طور پر مہینے میں تین نفلی روزے رکھتے۔ فرماتے، جب روزہ رکھتا ہوں تو کمزوری محسوس ہوتی ہے اس وجہ سے نماز میں کمی ہوجاتی ہے۔ اور مجھے نماز سے زیادہ محبت ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے کم روزے رکھنے والا کوئی فقیہ نہیں دیکھا، ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا مجھے نماز سے زیادہ رغبت ہے۔ ٭حضرت عبداﷲ بن مسعود السابقون الاولون میں سے ہیں مکہ میں غربت کی وجہ سے اجرت پر بکریاں چراتے تھے۔ صحت کے اعتبار سے نحیف ونزار تھے۔ مشرکین مکہ کی زیادتیوں کا خاص نشانہ بھی بنتے۔ اسکے باوجود بڑی تندہی سے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کرتے۔ جہاد میں سرگرم حصہ لیتے۔ نوافل میں مشغولیت کے علاوہ تحصیل علم اور درس وتدریس سے خصوصی شغف تھا۔ سنت رسول کے ابلاغ میں آپ نے خاص کردار ادا کیا اور بے شمار تلامذہ نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا۔ انہیں وجوہات کی بنا پر زیادہ روزہ کی مشقت نہیں اٹھا پاتے تھے لیکن عبدالرحمن بن یزید کی روایت سے یہ اندازا بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس زمانے میں لوگ فقہا و علما سے کیسی توقعات رکھتے تھے۔

٭حمام المسجد،مسجد کاکبوتر٭
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ساری ساری رات عبادت میں گزار دیتے۔ دن کو روزہ رکھتے اپنا زیادہ وقت مسجد میں گزارتے اس شغف کی وجہ سے ان کا نام ہی حمام المسجد (مسجد کا کبوتر)پڑگیا۔ نماز کیلئے یوں ایستادہ ہوجاتے گویا کہ کوئی ستون ہیں۔ قیام کرتے تو کئی کئی سو سورتیں تلاوت کر ڈالتے۔ برستے تیروں کی بوچھاڑ میں بھی بڑے سکون سے نماز پڑھتے۔

ایک آج ہم ہیں کہ امام صاحب نے ذراسورت لمبی پڑھ اوررکعت کوبھی لمباکردیاتوکھانسی شروع ہوجاتی ہے یہی آج ہماری غفلت کانتیجہ ہے کہ عبادت میں لذت نہیں آتی۔

اﷲ پاک کے پیارے نبی ﷺ اوران کی جماعت صحابہ کرام کاذوق نمازقارئین کی خدمت میں رکھاآپ ﷺ اورصحابہ کرام کی عبادت پہ رب کے فرشتے بھی نازکرتے ہیں کیوں نہ ہم بھی ان کے ذوق عبادت کوپڑھ کراوردیکھ کران ہی کی ادائیں اپنانے کی کوشش کریں اﷲ پاک ہمیں بھی نبی پاک ﷺ اوران کی پیاری جماعت صحابہ کرام ؓ کے نقش قدم پہ چلائے اورہماری عبادت کواپنی دربارمیں قبول ومنظور فرمائے (آمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Noman

Read More Articles by Tariq Noman: 69 Articles with 46236 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jan, 2018 Views: 446

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ