کانچ کی چوڑیاں

(Prof Abdullah Bhatti, Lahore)

جنوری کی ٹھنڈی یخ رات رات کاآخری پہر برفیلی ہواؤں نے ہر چیز کو جما رکھا تھا کُہرے نے پورے شہر بلکہ ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھاشدید سردی کی وجہ سے برقی قمقمے بھی ٹھٹرتے نظر آرہے تھے بلکہ اُن کی روشنی بھی مانند پڑ چکی تھی شدید بر فیلی سردی گرم رضائی اور گداز بستر بھی مجھے نیند کی وادی میں اتا رنے میں بے بس تھے میں بہت سارا وقت نرم و گداز گرم بستر میں گزار کر بھی نیند کی دیوی سے محروم تھا معصوم کلی کا لہولہان چہرہ کانچ کے ٹکڑے بن کر میری آنکھوں اور جسم وروح کو چھلنی چھلنی کر چکا تھا میں بار بار سونے کی کو شش کر رہا تھا لیکن معصوم کلی کا چہرہ میری نیند کومجھ سے کو سوں دور بھگا دیتا ۔ دیر تک کروٹیں لینے کے بعد بھی جب نیند نہ آئی تو میں گلی میں آگیا جہاں پر سردی کا مکمل راج اور سناٹا تھا انسان اپنے گھروں اور جانور چرند پرند اپنے گھو نسلوں میں دبک چکے تھے شدید سردی لیکن میرے اندر کئی آتش فشاں پھٹ رہے تھے میں سردی سے بے پروا ہو چکا تھا معصوم چہرہ بار بار دما غ کی پر دہ سکرین پر اُبھرتا ۔ جسے میں جھٹکنے کی کو شش کر تا لیکن معصوم چہرہ اُس کی آنکھیں اور سراپا تو میرے حواس پر طار ی تھا میں کتنی دیر شدید بر فیلی ٹھنڈ میں گھو متا رہا بر فیلی ہوا ئیں میرے چہرے سے ٹکراتی رہیں لیکن معصوم نو خیز روح کا گلا ب کی پتیوں سے بنا جسم بکھرا ہوا کچھرے کے ڈھیر پر بے دردی سے مسلا ہوا اور پھر اس خیال کے ساتھ ہی دل و دما غ جگر نے پگھل کر آنکھوں کے راستے بر سنا شروع کر دیا آنکھوں سے بر ستا گرم پا نی اور بر فیلی ہوا ؤں کا میرے چہرے سے ٹکرانا ‘میری بے قراری بے چینی اضطراب دکھ تکلیف کر ب بے بسی نقطہ عروج پر تھی مجھے کسی پل بھی قرار نہیں تھا قصور شہرکی سات سالہ زینب پھو لوں کی طرح نرم و نازک جسم جنسی درندوں کے پاس کتنے دن رہا اور پھر دم گھٹنے لگا ایسے واقعات تو پتھر کے دور میں ہو تے تھے جب انسان جانور تھے درندے تھے نبی رحمت مسیحا دو جہاں آقا کریم ﷺ کے آنے کے بعد تو ایسے واقعات کا خاتمہ ہو گیا تھا آقا کریم ﷺ کے آنے سے پہلے کفار مکہ اپنی بچیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیتے تھے ایسے ہی ایک با پ نے جب سرور کونین ﷺ کے سامنے اپنے گنا ہ عظیم کا اقرار کیا کہ کس طرح میں اپنی معصوم بیٹی کو زمانہ جہا لت میں گھر سے لے گیا تھا بیٹی خو شی خو شی با پ کے ساتھ چل پڑی اور پھر جب با پ نے گڑھا کھود کر اپنی ننھی منی پری کو زمین میں دبا نا شروع کیا اُس پر مٹی ڈالنی شروع کی تو نبی رحمت ﷺ کا چہرہ مبا رک آنسوؤ ں سے تر ہو گیا پھر محسن انسانیت نے سختی سے منع فرما یا کہ بیٹی کسی بھی باپ کے لیے با عث رحمت ہو تی ہے جو بیٹیوں کی تربیت اچھے طریقے سے کر ے گا اُس کے لیے جنت واجب ہو جا ئے گی پھر محسن دو عالم ﷺ کی بدولت عورت اوربیٹی کو اُس کا مقام مل گیا عورت اوربیٹی شافع دو جہاں ﷺ کے سایہ رحمت میں آگئی لیکن قصور شہر میں زینب پر ہو نے والے ظلم نے ملک کے چپے چپے میں ماتم کی چادر بچھا دی زینب پر ہو نے والے ظلم پر بو ڑھا آسمان بھی خو ب رورہا ہو گا زینب کے غم میں ہوا ؤں فضا ؤں نے بھی ما تمی لبا س پہنا ہوا ہے آسمان سے بھی سوگواریت کی بر سات جا ری ہے مائیں ڈری سہمی اپنی بیٹیوں کو سینے سے چمٹا ئے گھروں میں دبکی بیٹھی ہیں گھر ما تم کدہ بن چکا ہے خو ف و ہراس اور غم نے پو رے ملک کو لپیٹ میں لے لیا ہے کس کا ما تم کریں کس کو روئیں معصوم زینب کے ظالم قتل اور جنسی درندگی نے سخت سے سخت دل کے انسان کو بھی جھنجوڑ ڈالا ہے ادھیڑ کر رکھ دیا ہے جنسی درندے اِس حد تک جا سکتے ہیں کو ئی سوچ بھی نہیں سکتا روز اول سے انسان ظلم و جبر کے کارنامے کر تا آیا ہے لیکن قصور کے جنسی درندوں نے اپنے نا مہ اعمال کو اتنا سیا ہ کیا ہے کہ بڑے سے بڑا ظالم بھی رو پڑا ‘انسان اِس درجے گر سکتا ہے کو ئی سوچ بھی نہیں سکتا معصوم زینب کا خیا ل آتے ہی گلشن زندگی میں ویرانی کا احساس ہو تا ہے ظلم و حشت درندگی اِس درجے کی کو ئی سوچ بھی نہیں سکتا دکھ درد ظلم ایسا کہ دما غ شل اور سکتے کی حالت میں ہے بقول شاعر کے ۔
کہہ دوں تو دل سے خون کا چشمہ ابل پڑے
اور چپ رہوں تو منہ سے کلیجہ نکل پڑے

زینب امین صاحب کی بیٹی نہیں پورے معا شرے ملک کی بیٹی تھی کتنے ظلم کی با ت ہے کہ پاکستان جو اسلام اور کلمے کے نام پر وجود میں آیا یہاں ہر روز 11گیارہ معصوم پھو ل جنسی درندگی کا شکا ر ہو تے ہیں لیکن غریب عزت دار لو گ غربت اور اپنی عزت بچانے کی خا طر اپنی زبا ن بند رکھتے ہیں اورنہ ہی خو د پر ہو نے والے ظلم پر احتجاج کر تے ہیں ملک میں عوام کش نظام زندگی طاقت ور اور با اثر طبقے کی حکو مت کیوجہ سے بہت سارے مظلو موں کو طاقت دھمکی اور روپے دے کر چپ کر ا دیا جا تا ہے ما ضی میں بھی ایسے ہی دلخراش واقعات ہو ئے لیکن مجرموں کو سزا ئیں نہ دی گئیں قصور شہر میں ہی سینکڑوں بچوں کے ساتھ جنسی درندگی اور ویڈیوز بنا نے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا سر گو دھا میں معصوم بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات اور ویڈیوز بنا نے والو ں کو کیفر کردار تک پہنچا یا گیا نہیں فیصل آباد میں نر سوں کی ویڈیوز بنا نے والوں کو قانون کے شکنجے میں کسا گیا راولپنڈی میں ویڈیو سکینڈل پر کیا ہوا لا ہور کے گلی محلوں میں جنسی ویڈیوز بنا نے والوں کو پکڑ کرپیسے لے کر چھو ڑ دیا جا تا ہے وطن عزیزمیں جب بھی کو ئی ایسا شرمناک واقع پیش آتا ہے تو پہلے تو ٹی وی چینل پر مسا لے لگا کر اُس واقعے کو خو ب پیش کیا جا تا ہے پھر اِس مر دہ بانجھ معا شرے کا ہر فردٹی وی پرآکر جگالی شروع کر دیتا ہے حکو متی عہد دار کی بھا گ دوڑ بھی دیکھنے والی ہو تی ہے آج ہر پا رٹی کا بند ہ سخت سزا کی با ت کر رہا ہے لیکن ما ضی کے ہو نے والے واقعات کے نتائج دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہر بڑے مجرم کے پیچھے کو ئی نہ کو ئی سیا سی راہنما ہو تا ہے زینب کا مجرم تو انشا ء اﷲ پکڑاہی جا ئے گا لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دوبار ہ ایسا کو ئی واقعہ نہ ہو یہ اُسی صورت میں ممکن ہے ۔ جب معا شرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کر ے پھر ملک کے نظام عدل کو حقیقی بنیادوں پر استوار کیا جا ئے اور سب سے بڑھ کراسلا می سزاؤں پر سختی سے عمل کیا جا ئے سزا دیتے وقت سفارش طا قت ور امیر کو بلکل نہ دیکھا جا ئے ملزم جتنا بھی طاقت ور با اثر ہو اُس کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سزا دی جا ئے ایسے ملزموں کو سر عام سزائیں دی جا ئیں ہما را معا شرہ جو بنجر اور بانجھ ہو چکا ہے اُسے بھی اپنی ذمہ داریوں کا خیال کر نا ہو گا معصوم بچوں کی تربیت بھی ضروری ہے یہ تر بیت ماں کو پھر سکول میں بھی ہو نی چاہیے بچوں کو اپنے جنسی اعضا ء کی آگا ہی ہو نی چاہیے اِس لیے گھر محلے اور با شعور لو گ اور اساتذہ کو اپنا کر دار ادا کر نا چاہیے بچوں کو آگا ہ کر نا چاہیے جنسی تعلیم سے آگا ہی کیا ہے اس میں اپنی حفاظت کس طرح کر نی ہے بچوں کو گھروں میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے کسی کے ساتھ اکیلا نہیں بھیجنا چاہیے جب تک ہم اجتماعی ذمہ داری پو ری نہیں کریں گے معا شرے کا اجتما عی شعور بیدار نہیں ہو گا ایسے دلخراش شرمناک واقعات ایسے ہی ہو تے رہیں گے کیونکہ آئے روز ایسے درد ناک واقعات کا ہو نا اِس با ت کا ثبو ت ہے کہ ہما رے معا شرے میں ایسے نفسیا تی جنسی عفریب مو جود ہیں جو معصوم کلیوں کو ہی اپنا نشانہ بناتے ہیں معاشرے کو خو د بیدار ہو نا ہو گا ایسے لوگوں پر نظر رکھنی ہو گی معاشرے کی اجتما عی اخلا قیات پر زور دینا ہو گا ۔ تا کہ جنسی درندوں کی درندگی سے معصوم پھو لوں کو بچایا جا سکے ہر بات پر گور نمنٹ کے پیچھے پڑ جانا عقل مندی نہیں ہے جب تک ہما را اجتما عی شعور بیدار نہیں ہو گا تب تک ایسے دلخراش واقعات ہو تے رہیں گے جب تک ہم عورت کو اُس کا اصل مقام نہیں دیتے ہما را مسئلہ حل نہیں ہو گا عورت کو جو حق اورمقام اسلا م نے دیا ہے ہمیں وہ دینا ہو گا ماں کو اپنا کر دار بخو بی نبھا نا ہو گا کیونکہ زینب جیسی معصوم کلیاں کا نچ کی وہ نا زک چوڑیاں ہو تی ہیں جو ذرا سی ٹھوکر سے ٹو ٹ جا تی ہیں جو پھر کبھی نہیں جڑتیں اِن نرم و نازک کا نچ کی چوڑیوں کی کر چیاں ماں باپ کاروگ بن جا تی ہیں اور پھر ایسے ماں باپ زندہ لا شوں کی طرح اپنی با قی زندگی گزارتے ہیں اے رب کائنات اب اِس دھرتی کو ایسے جنسی درندوں سے پاک کر دے ہم پر رحم فرما ہما ری حفاظت فرما آمین ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Abdullah Bhatti

Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 580 Articles with 298433 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jan, 2018 Views: 610

Comments

آپ کی رائے