انگلی آپ پربھی اٹھ سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔

(Muhammad Ashraf, Karachi)
زینب کے واقعہ پر مجرم کو سزا نہ دینا ناانصافی ہے اور اس واقعہ کی آڑ میں ماموں اور چاچو کے رشتہ کو پراگندہ کرنا بھی بہت بڑا ظلم ہے ۔

زینب جیسی معصوم کلی کو ہوس کا نشانہ بنانے والے کو عبرتناک سزانہ دینا ظلم کی آخری حد کو پار کرناہوگی ۔ایسے واقعات کا رونما ہونے کی سب سے بڑی وجہ مجرموں کی سزاؤں میں غیر معمولی تاخیر اور سیاسی اثر ورسوخ ہی ہوسکتی ہے ۔قانونی کاروائیوں میں ایسے الجھتے ہیکہ یاتو مجرموں کی سیاسی ضمانتیں ان کی پناہ گاہ بن جاتی ہیں یا پھر ان کی عمریں جیل خانوں کی زینت بن جاتی ہیں ۔یہاں پہ حال یہ ہیکہ اس واقعہ کو زیادہ دن نہیں گزرے کہ اب میڈیا نے قریبی رشتہ داروں کو آڑے ہاتھوں لیاہے ۔ اور تو اور قریبی رشتہ داروں کا تعین بھی ہوگیا۔ بقول ان کے قریبی رشتہ داروں سے مراد چاچو اور ماموں ہے۔یہ وہ رشتے ہیں جن کووالد کا درجہ اور باپ کی مانندقراردیاگیا ہے ۔ ہائے افسوس در افسوس !کہاں یہ باپ نمارشتے۔۔۔۔اورکہاں اب یہ قوم کے بچے، قوم کے مستقبل۔۔۔۔ جن کو یہ سمجھایا جارہا ہے کہ آپ لوگ اپنے چاچو اور ماموں کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہوں۔معصوم ذہنوں میں ماموں اور چاچو کے مقدس رشتے مشکوک بنانے کی پوری فضا بنادی گئی ہے۔ان کا احترام اور عزت کا جنازہ بچوں کے دلوں سے نکالنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ ایسا لگتاہے ہماری عقلوں پہ ایسے قفل لگ گئے ہیں کہ جن کی چابیاں کہیں کھو گئی ہوں اور چاپی میکر وں نے جیسے ہرتال کی لمبی کال دیں دی ہو ۔ حالانکہ اکثر گھرانوں کے بچے ایسے ہیں، جن کے نورنظر ، امیدوں کے مرکزاورلاڈ اٹھانے کی جائے پناہ ان کے ماموں اور چاچو ہوتے ہیں ۔ اسکول ہو یا ٹیوشن ، سیروتفریح ہو یا گھومانے کی ذمہ داری ماموں اور چاچو کے سر ڈال کر، ماں باپ دنیا مافیہاسے بے فکر ہوجاتے ہیں ۔ یہ ماموں اور چاچو ہی ہوتے ہیں کہ بچے ان کا دامن تھام کر فرمائشوں کی رونقیں سجاتے ہیں ۔والدین کی ڈانٹ ڈپٹ سے بچنے کے لیے چاچواور ماموں کو ڈھال بنادیا جاتاہے۔ افسوس صد افسوس اب ماموں اور چاچو کو مشکوک نگاہوں کے تیر کھانے کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔

ایسے واقعات رونما ہوتے وقت تالا ب میں ایک مچھلی گندی ہونے کی وجہ سے سب کو پراگندہ سمجھنا بے وقوفی ہے ۔ اس ایک واقعہ کی وجہ سے خانی نظام اور مقدس رشتوں کوپال نہیں کرسکتے ۔ سب لوگوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا بہت بڑی ناانصافی ہے ۔ قریبی رشتہ داروں سے دور کرکے بچوں کو احساس برتری اور خود اعتمادی جیسی دولت سے محروم رکھ کر ڈر ڈر کے جینے پر مجبور کرنا کہاں کی عقل مندی ہے ۔ پانچوں انگلیوں کو ایک سمجھنا جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔لہذا بچوں کے معصوم ذہنوں کو اس مقدس رشتہ کی پامالی سے بچائیے ورنہ انگلی آپ پر بھی اٹھ سکتی ہے کیونکہ آپ بھی کسی کے ماموں اور چاچو ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashraf

Read More Articles by Muhammad Ashraf: 2 Articles with 583 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jan, 2018 Views: 303

Comments

آپ کی رائے