بدبو

(Maleeha Hashmi, )

فٹ پاتھ پہ چلتے ہوئے ہمیشہ بد بوسامنا کرنا پڑتا ہے۔جس کو شاید بطور قوم ہم نے قبول کر لیا اور یہ بد بو اب ہمارے رویوں میں شامل ہو گئی ۔ پاکی اور ناپاکی کااحساس ختم ہوتے ہی جوماحول وجود میں آیا اس کی خبریں میڈیا کی زنیت بنتی رہتی ہیں۔بچے ، بچیوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں اس بات کی علامت ہیں کہ ہماری زندگیوں سے پاکیزگی اور طہارت ختم ہوتی جا رہی ہے۔پاکیزہ ماحول ہمیشہ اچھی سوچ کو جنم دیتا ہے جس کی ابتداء بھی طہارت ہے اور انتہا بھی طہارت۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اسے نہلا کر پاک صاف کیا جاتا ہے ، انسان جب دنیا سے جاتا ہے تب بھی اسے غسل دے کے کفن پہناکر سپرد خاک کیا جاتا ہے۔
اسلام دین فطرت ہے ، اسی لیے اس کا سب سے پہلا سبق طہارت ہے۔محدثین نے بھی حدیث کی کتب کا آغاز طہارت کے مسائل سے کیا ہے۔ اسلام کی تمام تر عبادات کا انحصار طہارت اور پاکیزگی پر ہی ہے۔ روح کا تزکیہ،لباس و جسم کی طہارت لازم و ملزوم ہیں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر طرح کی تعلیم دیتا ہے نبی کریمﷺ نے راستے اور سائے کی جگہ پر رفع حاجت کرنے سے منع کیا ہے۔(مسلم،، راوی ابو ہریرہ ؓ) اسی طرح خواتین کے لیے بھی رفع حاجت کے لئے پردے کا اہتمام ضروری قرار دیا ہے۔(حضرت انسؓ،،، ترمذی)۔
اسلام صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے لیکن ہم شاید آدھے ایمان والے ہیں۔ اکثر لوگوں کی عادت ہے کہ جہاں حا جت ہوئی،کسی قریبی دیوار کے پاس بیٹھ کر فارغ ہو گئے اور طہارت کیسی ،اُ س کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بقول شاعر
؂ خدا کے واسطے مجھ کو نہ روکو
مجھے تازہ کلام آیا ہوا ہے

بس سٹاپ ہو یاریلولے لائن، آبادی کے درمیان خالی پلاٹ ،کسی عمارت کے ساتھ خالی جگہ،ورکشاپ ہو یا سکول و کالج کی عمارت ،الغرض کوئی جگہ ان کی بد بو سے محفوظ نہیں۔ تعلیم یافتہ افراد بھی بے احتیاطی کر جاتے ہیں اور بعد میں ڈاکٹروں کے چکر ہی ختم نہیں ہوتے ۔ المیہ یہ بھی ہے کہ سرکاری بیت الخلا موجود ہونے کے باجود لوگ چند روپے بچانے کی بچانے کی خاطرکھلی جگہ پر فارغ ہونا زیادہ پسند کرتے ہیں۔دوسری طرف ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ڈھائی ارب افراد کو صاف بیت الخلا کی سہولت دستیاب نہیں ہے، جن میں سے ایک ارب سے زائد افراد کو رفع حاجت کے لئے کھلی جگہ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

بات صرف رفع حاجت کی ہی نہیں ہے۔ نا مناسب صفائی کے باعث جو طبی مسائل جنم لے لیتے ہیں وہ اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سب کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی اور آگاہی نہ ہونا ہے۔ہمارے ہاں تقریباً تین کروڑ افراد کو بیت الخلا کی سہولت حاصل نہیں ہے جن میں ایک قابل ِ ذکر تعداد خواتین کی ہے ،اسی وجہ سے خواتین میں صحت اور دیگر مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وطن عزیز کی 75 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جہاں اکثریت کو صاف بیت الخلا کی سہولت میسر نہیں ہے۔تقریباً بیس سے 23 فیصد افراد فراغت کے لئے کھلی جگہ کا استعمال کرتے ہیں جن میں دونوں شامل اصناف ہیں ۔اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے والی قومی اور بین الاقوامی تنظیمیں کام کر رہی ہیں مگر ان کی سنتا کون ہے مگر ان کے اثرات محدود ہیں ۔ کہنے کو ہماری حکومتیں South Asia Conference on Sanitationمیں شریک بھی ہوتا ہے اور دعوے بھی کرتا ہے مگر عملی طور پر کوئی کام نہیں کیا جا رہا۔ یہی صورت حال تقریباً دنیا کے باقی ممالک میں بھی موجود ہیں۔

بیت الخلا کی مناسب سہولتوں کے فقدان کے باعث بہت سارے طبی اور ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔خواتین کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے یہ صورت حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کی زندگی بہتر بنانے کے لئے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 30 ہزار خواتین اور بچیاں صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولتوں میں فقدان کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کر اپنی جان سے جاتی ہیں۔ یہ اموات کی حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے ہے۔

South Asia Conference On Sanitation میں حکومت ِ پاکستان مختلف میمورنڈم پر سائن کرتی چلی آ رہی ہے ۔ کبھی 2015کے اختتام تک ملک کی 93فیصد آبادی تک صاف پانی اور sanitationکی مناسب سہولتیں پہنچا دی جائیں گی تاکہ کھلی جگہ رفع حاجت کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے ۔تو کبھی اس کو 2023 تک مہلت دے دی جاتی ہے جبکہ عملی طور پر ایسے کوئی اقدامات ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ یہ ایک غیر سیاسی مسئلہ ہے ،لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا معاشرتی مسئلہ ہے جس پر بحث اور آگاہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

ایک مچھر کے خلاف جہاد کیا جاسکتا ہے تو اپنے نصف ایمان کی حفاظت کے لئے جہاد کیوں نہیں۔صفائی نصف ایمان ہی تو ہے مگر ہم اس کی پروا نہیں کرتے ۔ہم نے غیر شعوری طور پر بدبو کو قبول کر لیا ہے ۔ ہمیں اہل مغرب کا یہ رویہ برا لگتا ہے کہ وہ خلوت کا کام جلوت میں کرتے ہیں۔تو جو ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے وہ درست ہے کیا؟نہیں ،ہم اسے کسی صورت درست قرار نہیں دے سکتے۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر ے ۔اس مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے بجٹ مختص کرے ،جیسا کہ خطے کے دیگر ممالک کرتے ہیں۔ بنگلہ دی اپنے بجٹ کا اعشاریہ چار فیصد،، انڈیا اعشاریہ دو فیصد،نیپال اعشاریہ آٹھ فی صد جبکہ پاکستان اعشاریہ چار فی صد تک تک خرچ رکھتا ہے۔ یہ جاتا کہاں ہے ؟سرکاری ادار ے ہی جانتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا ضروری ہے کہ معاشرتی عناصر بھی اپنا اپنا کردار ادا کریں خاص طور پر علما ء اور اساتذہ ۔

تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے اس موضوع کو اپنے نصاب کا حصہ بنائیں تاکہ ایک صحت مندمعاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ معاملات بات چیت اور کانفرس سے آ گے جا چکے ہیں۔اب صرف اور صرف عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ آئیے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے اپنے حصے کی شمع جلائیں کیونکہ یہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maleeha Hashmi

Read More Articles by Maleeha Hashmi: 11 Articles with 6362 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jan, 2018 Views: 502

Comments

آپ کی رائے