گدا گری ایک لعنت ہے

(Sonia Ali, )

گداگری ایک لعنت ہے جو پورے ملک اور خصوصاََ کراچی میں بری طرح پھیل چکی ہے چاہے کراچی میں ایم اے جناح روڈ ،کلفٹن ،صدر ،گلستان جوہر اور پرانی نمائش کے علاوہ دیگر چوراہوں اور سٹرکوں پر بھکاریوں کا راج ہے ایک سروے کے مطابق ایک بھکاری کی روز آنا کی آمدنی چار سے پانچ ہزار روپے ہے جبکہ پوش علاقوں میں بس اسٹاپوں ،سگنلز اور فٹ پاتھوں پر بھیک مانگنے والوں کی آمدنی اس سے بھی کہیں زیادہ ہے چونکہ ان علاقوں میں ایک تو شہر کے امیر لوگ کے علاوہ غیر ملکی افراد بھی آباد ہیں جو ان بھیک مانگنے والے پیشہ ور گداگروں کوڈالر،پونڈ ،ریال ،دینار کے علاوہ یورو تک بھیک میں دے جاتے ہیں جن کو بعد میں یہ بھکاری مختلف منی چینجرز سے پاکستانی روپوں میں تبدیل کرالیتے ہیں جبکہ ان سے بہت سے پیشہ ور گداگر مختلف جیولرز سے گولڈ کے زیورات،سکے اور بسکٹ خرید لیتے ہیں یہ پیشہ ور بھکاری خصوصاََ جمعرات کے روز کراچی کی مختلف مارکیٹوں، بازاروں اور دکانوں پر چار چار پانچ پانچ کی ٹولیوں میں آکر بھیک مانگتے ہیں جن میں زیادہ تر کم عمر بچے ،بچیوں کے علاوہ عورتوں اوخواجہ سراؤں کی بھی بہت بڑی تعداد ہوتی ہے گدا گری کے پیشے میں چونکہ آمدنی آمدنی ہے اور خرچہ کچھ نہیں اس لئے اس انڈسٹری میں لاکھوں افراد کام کر رہے ہیں کراچی میں زیادہ تر دوسرے صوبے سے آئے ہوئے خواجہ سراؤں کے علاوہ کم سن بچے ،بچیوں اور خواتین کے علاوہ ہاتھ پیر سے معزور اور کچھ معزور نہ ہونے کے باوجود اداکاری کر کے لوگوں سے بھیک مانگ رہے ہیں دیکھا جائے تو یہ واحد انڈسٹری ہے جس میں نہ بجلی کا بل ،کا گیس کا بل اور نہ ہی کسی قسم کا ٹیکس ادا کیا جاتا ہے ایک اندازے کے مطابق صرف کراچی میں ایک لاکھ سے زائد دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے پیشہ ور گدا گروں کی فوج موجود ہے جوبھیک مانگنے کے پیشے سے منسلک ہے ان میں بہت سے خواجہ سرا جو زرق برق کپڑے زیب تن کر کے بہترین میک اپ کے ساتھ چواہوں اور سگنلز پر کار کے شیشے کھٹ کھٹا تے اور بھیگ مانگتے نظر آتے ہیں ان خواجہ سراؤں میں سے بعض خواجہ سرا ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں چونکہ اس پیشہ میں تمام شعبوں سے زیادہ آمدنی ہے اس لئے زیادہ تر لوگ یہی پیشہ اپنا رہے ہیں ان پیشہ ور گدا گروں میں بہت سے آپ کو زبردستی کاروں کے شیشے صاف کرنے کے بہانے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں اور یہ مشاہدہ آپ ہر روزکراچی کی سڑکوں پر کرتے ہیں جن میں ہزا روں کم سن بچے بچیاں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں اس کے علاوہ بہت سے بھکاریوں کے ایسے اڈے یا ٹھیے ہیں جن پر کوئی دوسرا فقیر بھیک نہیں مانگ سکتاچونکہ ان بھکاریوں کا بڑا مضبوط نیٹ ورک ہوتا ہے جن میں پولیس کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ بھکاریوں کے اپنے غنڈے بھی موجود ہوتے ہیں اور اگر کہا جائے کہ یہ گداگری ایک مافیا ہے تو بے جا نہ ہوگا اس مافیا میں ان دیکھے بڑے بڑے لوگ شامل ہیں پیشہ ور بھکاریوں نے کراچی کے مزارات کو بھی نہیں چھوڑاان مزارات پر بھی ہزاروں پیشہ رد گدا گر بھیس بنائے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں جوخیرات کے پیسوں سے رات کو نشہ کرتے ہیں بلکہ مزارارت کے اطراف ایسے بہت سے افراد موجود ہوتے ہیں جو یہاں با قائدہ منشیات کی خریدو فروخت کا بڑے پیمانے پر کاروبار بھی کرتے ہیں اور جن کو متعلقہ تھانے کی مکمل پشت پناہی حاصل ہوتی ہے اس لئے ان کا کوئی بھی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور یہاں اس کے علاوہ بھی دیگر جرائم کھلے عام ہوتے ہیں مگر متعلقہ پولیس کے علاوہ دیگر معاشرے نے بھی اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اگر یہ کہا جائے کہ کراچی میں ہر کوئی لوٹ رہا ہے تو بے جا نہیں ہوگا ان گدا گروں سے کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جو بچ گئی ہو ریلوے اسٹیشن ہوں یا آپ کسی بھی ہوٹل یا ریسٹوریٹ پر کھانے پینے کے لئے جائیں تو ان پیشہ ور بھکاریوں کی ٹولیاں آپ کو گھیر لیتی ہیں جن سے جان چھڑانا نہایت مشکل ہوتاہے بلکہ اب توتفریحی مقامات بھی ان کی دسترس سے محفوظ نہیں رہے چاہئے کلفٹن ہو یا کوئی پارک یہ بھکاری آپ کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچ جائیں گے واضح رہے کہ گداگری ایکٹ کے تحت ان کو گرفتار کیا جانا چاہئے مگر ان کو گرفتار کون کرے؟ چونکہ ان کو گرفتار کرنے میں ان لوگوں کی آمدنی ختم ہوجائے گی جو ان کی سر پرستی کرتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ تھانوں کو پابند کیا جائے کہ گداگروں کے خلاف انسداد گداگری کی بھر پورمہم چلائی جائے اور جو لوگ زکوۃ،خیرات ان گداگروں کو دیتے ہیں وہ انہیں نہ دیں چونکہ اس سے نہ صرف ضرورت مند اور مستحق افرادکا حق مارا جاتا ہے بلکہ آپ کے دیئے ہوئے پیسے کسی بھی مجرمانہ سرگرمی یا دہشتگردی میں استعمال ہو سکتے ہیں اس لئے اسے سختی سے روکا جائے اور جوان کاموں میں ملوث ہیں ن کے خلاف ملک گیر پیمانے پر کاروائی کی جائے کیوں کہ اس سے ملک کا تشخص بھی پامال ہو رہا ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sonia Ali

Read More Articles by Sonia Ali: 33 Articles with 15696 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jan, 2018 Views: 616

Comments

آپ کی رائے