یوم جمہوریہ بھارت درحقیقت یوم سیاہ ہے

(Amir Jahangir, Lahore)

3جون 1947ء کے منصوبہ کی تاریخی حقیقت کے مطابق انتقال اقتدار کی وجہ سے ہندوستان سول خانہ جنگی کی آماجگاہ بننے جا رہا تھا اور ہندو مسلم مفادات عروج کمال کو چھو رہے تھے ۔متحدہ ہندوستان میں بغاوت کی سرگوشیاں جنم پذیر ہو رہی تھیں ۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اقتدار کی پر امن منتقلی کے لیے حکومت برطانیہ نے3دسمبر1946ء کو لندن میں گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا ۔گول میز کانفرنس میں برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی کابینہ مشن کے اراکین ،وائسرائے برطانوی ہند لارڈ ویول ،قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے نمائندگان ،نہرو کی قیادت میں آل انڈیا کانگریس کے نمائندوں اور سکھوں کے نمائندے بلدیو سندھ نے نمائندگی کی ۔قائد اعظم محمد علی جناح اس کانفرنس میں ناقابل انکار دلائل دیتے ہوئے ثابت کیا کہ تخلیق پاکستان ایک حقیقت ہے ۔

6دسمبر 1946ء کو حکومت برطانیہ نے کابینہ مشن کے طویل المعیاد منصوبے میں صوبوں کی گروپ بندی اور مجوزہ قانون ساز اسمبلی کے متعلق وضاحت کی ۔یہ وضاحت آل انڈیا مسلم لیگ کے موقف کے عین مطابق تھی ۔20فروری 1947ء کو برطانوی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ انگریز حکومت جون 1947ء تک ہندوستانی راہنماؤں کو تمام اختیارات منتقل کر دے گی ۔اقتدار کی منتقلی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے برطانوی وزیراعظم نے لارڈ ماونٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسرائے بنا کر بھیجا ۔لارڈ ماونٹ بیٹن کے وائسرائے ہند مقرر ہونے کے ساتھ ہی برطانوی ہند سے برطانوی سامراجیت کا سورج غروب ہو گیا ۔22مارچ 1947ء کو لارڈ ماونٹ بیٹن ہندوستان پہنچا اور 24 مارچ کو برطانوی حکومت کی طرف سے آخری اور ہندوستان کے انتیسویں گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹحایا ۔لارڈ ماونٹ بیٹن نے ہندوستان کے تمام راہنماؤں سے تفصیلاً ملاقاتیں کیں ۔ان ملاقاتوں کے بعد وائسرائے ہند اس نتیجے پر پہنچا کہ متحدہ ہندوستان کی خواہش ایک ایسا خواب ہے جو کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔اس حوالے سے لندن کے ایک اخبار Sunday Observer نے لکھا کہ؛
’’ان ابتدائی ملاقاتوں نے یقینا وائسرائے اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ تقسیم ہی انتشار کو ختم کرنے کا سبب بن سکتی ہے ‘‘۔

آل انڈیا کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے نمائندوں اور سکھوں کے نمائندوں کے موقف کو سننے کے بعد وائسرائے ہند اس نتیجے پر پہنچا کہ متحدہ ہندوستان میں Dominion Statusکے حامل دو ریاستوں کا قیام ہی ہندوستان کے مسائل کا حل ہے ۔برطانوی ہند نے اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے 18مئی1947ء کو برطانیہ روانہ ہو ا اور برطانوی کابینہ نے باہمی مشورے سے وائسرائے ہند کو 28مئی 1947ء کوہندوستان کے معاملے میں مکمل طور پر بااختیار کرتے ہوئے واپس ہندوستان کی طرف بھیجا۔30مئی 1947ء کو وائسرائے ہند نے ہندوستان پہنچ کر 2جون 1947ء کوہندوستان کے تمام راہنماؤں کا اجلاس طلب کیا اور اپنا منصوبہ پیش کیا۔آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگرس نے اس منصوبے کو اصولی طور پر منظور کیا۔3جون 1947ء کولارڈ ماؤنٹ بیٹن نے آل انڈیا ریڈیو پر برطانوی حکومت کی طرف سے تقسیم ہندوستان کا منصوبہ پیش کیا۔3جون 1947ء کا منصوبہ درج ذیل نکات پر مشتمل تھا۔
1۔ برصغیر میں دو الگ الگ مملکتیں قائم کر دی جائیں جو شروع میں نوآبادیاتی حیثیت کی حامل ہوں گی۔
2۔ پنجاب اور بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا اور حدبندی کمیشن بھی مقرر کیے جائیں گے۔
3۔ سندھ اور آسام کے مستقبل کا فیصلہ ان صوبوں کی اسمبلیاں کریں گی۔
4۔ صوبہ سرحد اور آسام کے اضلاع میں استصواب رائے کرایا جائے گا جس کے بعد یہ فیصلہ ہو گا کہ وہاں کے باشندے کس ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
5۔ ریاستوں کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ ہر دو مملکتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لیں۔
6۔ برصغیر کی مسلح افواج اور مشترکہ اثاثوں کی تقسیم کر دی جائے گی۔
آل انڈیا مسلم لیگ نے 9جون 1947ء کے منعقدہ اجلاس میں3جون 1947ء کے منصوبے کو"As a basis for Compromise"کے طور پر منظور کیا۔ آل انڈیا کانگرس نے بھی یہ منصوبہ قبول کیااور برصغیر سے برطانوی سامراج آخری ہچکیاں لینے لگا۔4جولائی1947ء کو برطانوی پارلیمنٹ میں مسودہ قانون پیش کیا گیا۔15جولائی دارالعوم اور 16جولائی دارالامراء سے اور18جولائی1947ء کو شاہ برطانیہ نے اس قانون کی منظوری دی۔اس کو قانون آزادی ہند 1947ء کہا جاتا ہے۔اسی قانون کے تحت تقسیم ہند عمل میں آئی لائی گئی اور برطانوی سامراجیت آخری ہچکیاں لینے لگی۔ قانون آزادی ہند کے اہم نکات درج ذیل ہیں؛
1۔ دو نئے ممالک پاکستان اور بھارت بنائے جائیں گے۔
3۔ دونوں ممالک مکمل طور پر آزاد و خود مختار ہوں گے ان پر برطانوی حکومت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔
4۔ دونوں ممالک کی اپنی مجالس قانون ساز ہوں گی جو ان ممالک کے لئے آئین بنائیں گی۔
5۔ جب تک نیا آئین نہیں بنتا اس وقت تک 1935ء کا آئین رائج رہے گا دونوں ممالک کی اسمبلیاں اس آئین میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہیں۔
6۔ حکومت برطانیہ اور ہندوستانی شاہی ریاستوں کے درمیان تمام معاہدے ختم کئے جاتے ہیں۔
7۔ حکومت برطانیہ کو یہ اختیارات نہیں ہونگے کہ وہ کسی ملک کی قانون ساز اسمبلی کے بنائے ہوئے قانون کو رد یا منظور کریں یہ اختیارات اس ملک کے گورنر جنرل کو حاصل ہیں۔
8۔ شاہ برطانیہ کے خطابات میں سے شہنشاہ ہند کا خطاب ختم کیا جاتا ہے۔
قانون آزادی ہند کے تحت 14اگست1947ء کو پاکستان کا اعلان ہوااور 15اگست 1947ء ہندوستان کی آزاد ی ہوئی۔یہ کہنا درست ہے کہ 14اگست1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی مسلم ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔

3جون 1947ء کے منصوبے کے تحت ریاستوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ہر دومملکتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کریں گی۔ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں نے 19جولائی 1947ء کو قرارداد الحاق پاکستان منظور کرتے ہوئے اپنا مستقبل پاکستان سے وابسطہ کر دیا تھا۔24اکتوبر1947ء کو آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد رکھی گئی اور27اکتوبر1947ء کو بھارت نے ریاست جموں و کشمیر کے ایک حصے پر غاصبانہ قبضہ کیا۔قانون آزادی ہند کے مطابق جب تک نو زائیدہ ممالک کانیا آئین نہیں بنتا اس وقت تک 1935ء کا آئین رائج رہے گا اور دونوں ممالک کی اسمبلیاں اس آئین میں ترمیم کا مکمل اختیار رکھتی ہیں۔26 جنوری 1950ء کو بھارت میں انگریزوں کے قانون گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ1935ء کی جگہ بھارت کے آئین نے لی اور اسے نافذ العمل کیا گیا۔ یہ آئین 26نومبر 1949کو منظور ہوااور26جنوری کو بھارت میں نافذ کیا گیا۔اور اس موقع پر پہلی بار ہندوستان کی مکمل آزادی کے لئے قرارداد منظور کی گئی۔ دستور ہند کے نفاذ کے بعد ہندوستان میں جمہوری طرز حکومت کا آغاز ہوا۔ بھارتی آئین کے نفاذ کے بعد سے یہ دن یوم جمہوریہ کے طور پر منایاجانے لگا۔ایک طرف بھارت یوم جمہوریہ بنا رہا ہے اور دوسری طرف ریاست جموں وکشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے۔25جنوری کو کشمیری دنیا بھر میں بھارت کے یوم جمہوریہ کی اصل حقیقت بے نقاب کرنے کے لئے دنیا کے سامنے بھارتی نام نہاد جمہوریت کا بھیانک آمرانہ چہرہ سامنے لانے کے لئے یوم احتجاج مناتے ہیں۔اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ بھارت کا یوم جمہوریہ درحقیقت یوم سیاہ ہے۔
(٭٭٭٭٭٭٭٭٭)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AMAR JAHANGIR

Read More Articles by AMAR JAHANGIR: 33 Articles with 15507 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jan, 2018 Views: 314

Comments

آپ کی رائے