دوستی سے زیادہ

(Tooba, karachi)

گلشن کے خاموش علاقہ کا منظر دوپہر ۳ بجے:
دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی وہ کچن میں کام کرنے میں بزی تھیں۔
امی آج پھر اس نے ہمارے ڈسٹبن میں کچرا پھینکا ہے ، ٓآپ اسے منع کیوں نہیں کرتیں۔ وہ ابھی ابھی یونیورسٹی سے لوٹی تو غصے میں ابل رہی تھی۔
رافعہ پانی پیو اور ٹھنڈی ہو جاؤ، رافعہ کی امی نصرت بیگم کچن سے ہاتھ میں پانی کا گلاس لے کر نکلی تو دیکھا وہ پھولے ہوئے چہرے کے ساتھ یہاں سے وھاں ٹھل رہی تھی، تو وہ صوفے کے سامنے والی ٹیبل پر پانی کا گلاس رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگیں۔
امی میں نے آپ سے کہا تھا یہ چوتھی بار ہے آپ اسے سختی سے منع کریں۔ میں ابھی آئی تو کچرے کا ڈسٹبن فل تھا ، ابھی ابھی میں دوبارہ باہر رکھ کر آئی ہوں کچرا۔ کیا یہ میری ڈیوٹی ہے صبح اپنا کچرا اور دوپھر کو اس کا کچرا باہر رکھ کر آو ۔
اچھا وہ یونیورسٹی سے آنے والی ہوگی، میں کرتی ہوں اس سے بات، تب تک تم چینج کرکے آوٗ میں کھانا لگاتی ہوں، یہ کہتے ساتھ ہی نصرت بیگم کچن میں چلی گئیں۔
وہ بھی صوفے پر بیٹھتے ہوئے پانی کا گلاس ختم کرکے اپنے آپ کو پرسکون کیا اور روم میں چلی گئی۔
باہر نکلی تو نصرت بیگم کھانا رکھ چکی تھیں وہ سامنے والی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی اور کھانا کھانے لگی۔
بھائی کو کال کی؟ کب تک آئے گا؟؟؟ بیلنس نہیں تھا ورنہ میں کر لیتی نصرت بیگم نے کھاتے کھاتے اس سے سوال کیے۔
ہاں بھائی کا میسج آیا تھا، وہ دیر سے آئے گا، اسائیمنٹ کے لیے دوست کے گھر جانا ہے، شام ہو جائے گی۔
اچھا۔ تم کھانا کھاؤ تب تک میں زرا سبزی لے آؤں۔
okay آپ جائیں میں جاگ رہی ہوں۔
نصرت بیگم کے جاتے ہی اس نے دروازے کو لاک کیا اور واپس کھانے میں مگن ہوگئی۔
رافعہ فارمیسی کے دوسرے سیمسٹر کی طالبعلم ہے۔ اگر ان کے گھر کے چاروں حضرات پر غور کرو تو سب کا تعلق میڈیکل فیلڈ سے ہے۔ سلیم صاحب (رافعہ کو ابو) ڈاکٹر ہیں اور ان کا کلینک بھی اسی علاقے میں ہے، بھائی رفیق بھی mbbs کے 3rd سیمسٹر کا طالبعلم ہے اور نصرت بیگم نے بھی BSC کر رکھی تھی۔
ان کا گھر دو منزلوں پر مشتمل ہے۔ اوپر، نیچے کی منزل کا اندرونی اور بیرونی سٹرکچر بھی ایک جیسا ہے۔ اوپر کی منزل میں دو افراد تو نیچے کی منزل میں چارافراد شامل ہیں۔ چار چار کمروں کے اس زمینی گھر میں موجود افراد تعلیم یافتہ اور کھلے دماغ کے ہیں۔
موجودہ وقت میں آؤ تو رافعہ اب ٹی وی کے سامنے بیٹھی چینلز چینج کر رہی تھی کہ گیٹ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی لاؤنج کی کھڑکی سے پردہ ہٹا کر دیکھا تو زرنش بیرونی دروازے سے اندر داخل ہو رہی تھی۔ زرنش کے آتے ہی اس کے ماتھے کی تیوریاں چڑھ گئی اور دماغ ابلنے لگا، آج وہ سارے حساب چکتا کرنے کے چکر میں تھی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tooba

Read More Articles by Tooba: 14 Articles with 8476 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jan, 2018 Views: 522

Comments

آپ کی رائے
kia ye qist vaar kahani hai ?
By: Zeena, Lahore on Jan, 29 2018
Reply Reply
0 Like