ٹریفک حادثات میں انسانی جانوں کا ضیاع

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

 انسانی جان بہت قیمتی اور باری تعالیٰ کی امانت ہے ۔ا سکی حفاظت ہمارے منصبی فرائض میں شامل ہے۔ ہم لوگ فلو سے بچاؤ کیلئے گرم کے بعد ٹھنڈا مشروب پینے میں بھی احتیاط کرتے ہیں۔ سر درد سے بچاؤ کیلئے پیرا سیٹامول بھی اپنے بیگ یا پرس میں رکھتے ہیں۔صحت کے متعلق اتنے فکر مند اور محتاط۔ الحمد ﷲ۔۔ لیکن تعجب اس وقت ہوتا ہے جب ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ کر اس قدر لا پرواہ ہوجاتے ہیں کہ اپنی اور دیگر ہم سفروں کی جان کی حفاظت کو بھی بھول جاتے ہیں۔ حماقتیں خود کرتے ہیں لیکن جب کوئی حادثہ پیش آ جائے تو پھر کہتے ہیں ’’ اﷲ کی مرضی‘‘۔ اﷲ تو قرآن کی سورہ البقرہ آیت نمبر 195 میں فرماتا ہے کہ ’’ اپنے آپ کو اپنے ہی ہاتھوں ہلاکت میں مت ڈالو اور اچھے کام کیا کرو۔ بے شک اﷲ تعالیٰ اچھے کام کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ راقم نے پچھلے چند ہفتے پاکستان میں گزارے اور دیکھا کہ ہماری ان بے احتیاطیوں کے ہوش ربا اور خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں۔’’عالمی ادارہ صحت‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 30 310 افراد ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں کی رپورٹ سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 15افراد روزانہ کسی حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔ حادثات کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ 2015 کے مطابق غریب یا ترقی پزیر ممالک میں موجود گاڑیوں کی تعداد اگرچہ ترقی یافتہ ممالک سے بہت کم ہے تاہم یہاں ہونے والے حادثات دنیا میں سالانہ ٹریفک حادثات کا نوے فیصد ہیں۔ پاکستان میں سرکاری سطح پر ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کے اندراج کا کوئی قابل اعتمادانتظام نہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات ٹریفک حادثات کے اعدادو شمار پولیس کے پاس درج مقدمات کی بنا پر کرتا ہے جس میں کئی سقم موجود ہیں ۔ٹریفک حادثات کے معاملے میں شماریات کے قومی ادارے کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ اس ادارے کے پاس ملک میں ٹریفک حادثات کا جو تازہ ترین مواد دستیاب ہے وہ چار سے پانچ سال پرانا ہے۔ ادارہ شماریات کے تین سال پرانے ڈیٹا کے مطابق 2004 سے 2013 کے دوران پچاس ہزار لوگ ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوئے۔ گزشتہ سال کے دوران پاکستان میں کل 8 ہزار 885 ٹریفک حادثات رپورٹ کیے گئے۔ عالمی ادارہ صحت کی ’’روڈ سیفٹی‘‘ کے بارے میں ’’گلوبل اسٹیٹس رپورٹ ‘‘کے مطابق موجودہ حالات و واقعات اگر برقرار رہے تو ٹریفک حادثات 2030تک ناگہانی اموات کی پانچویں بڑی وجہ بن جائیں گے۔ بغور جائزہ لیا جائے تو دہشت گردی میں اتنے لوگ ہلاک نہیں ہوتے جتنے کہ ٹریفک حادثات میں ہورہے ہیں۔ اس طرف بھرپور توجہ کی ضرورت ہے لیکن بات وہی ہے کہ ہماری ترجیحات اور عوامی ضروریات میں موافقت کا واضح فقدان ہے ۔ٹریفک قوانین کا احترام مہذب قوموں کا شعار ہے، مہذب معاشروں میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لیے نہ صرف سخت قوانین موجود ہوتے ہیں بلکہ عوامی شعور کی بیداری کے لیے مختلف ادارے بھی قائم کیے جاتے ہیں، دیگر شعبوں کی طرح پاکستان میں ٹریفک کے مسائل بھی اسی طرح حل طلب ہیں جس طرح دوسرے بڑے اور سنگین مسائل۔اوور لوڈنگ، سڑکوں کی خستہ حالی، ٹریفک قوانین سے عدم واقفیت، تیز رفتاری، ون وے کی خلاف ورزی، غلط اوور ٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیور، ون وہیلنگ، تیز لائٹس، ہیڈ لائٹس کا نہ ہونا، پریشر ہارن، بغیر ہیلمٹ یا بیلٹ کے سفر، ڈرائیونگ کے دوران سیل فون اور / یا نشہ آور اشیا کا استعمال، غلط پارکنگ وغیرہ جیسی ٹریفک کی خلاف ورزیاں اور اس کے علاوہ بریکوں کا فیل ہو جانا اور خراب / مدت پوری کر چکے ٹائروں کا استعمال معمول بن چکے ہیں جو ان حادثوں کی اہم وجوہات ہیں۔علاوہ ازیں ہمارے تعلیمی نظام میں ٹریفک سے متعلقہ باضابطہ تعلیم نہیں دی جاتی۔ترقی یافتہ ممالک میں افراد کومعاشرے کاکارآمدشہری بنانے کے لئے ہرضروری تعلیم اورتربیت دی جاتی ہے مگرہمارے ہاں اس قسم کی تعلیم کاکوئی رواج نہیں ہے۔سکول سے کالج اورکالج سے یونیورسٹی تک صرف اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ کیسے زیادہ نمبرزلینے ہیں اور پاس ہونا ہے،معاشرے کا مفیدشہری کیسے بننا ہے اس پرکوئی توجہ نہیں دیتا۔حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ سکول،کالج اور یونیورسٹی ہردرجے پرباقاعدہ کورس ہوں کہ سٹرک پرکیسے چلنا ہے؟ٹریفک کے قوانین کیاہیں؟مختلف اشارے کیا بتاتے ہیں؟ اورحکومت کو ٹریفک کنٹرول عملہ کو بہتر ٹریننگ دے کر اور جدید طریقہ کار اپنا کر ان کی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کرنا چاہئے۔ لیکن وطن عزیز میں نہ ہی ٹریفک قوانین کی پابندی کی جاتی ہے اور نہ ہی گاڑیوں کی فٹنس پر توجہ دی جاتی ہے جبکہ کم سن بچے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چلا رہے ہوتے ہیں اور ان کے والدین اور بزرگ ان کے ہمراہ بیٹھے ہوتے ہیں۔ رکشہ اور موٹر سائیکل رکشے ہر طرح کے اصول ضابطے اور قانون کی پرواہ کئے بغیر خود کش بمبار کی طرح سڑکوں پر دوڑ رہے ہوتے ہیں اور ان کی اس لاقانونیت کا نوٹس بھی نہیں لیا جاتا۔ ٹریفک حادثات سے بچاؤ کے لیے حکومتی اقدامات کے علاوہ عام شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے سڑکوں کو حادثات سے محفوظ بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں، اپنے سفر کا آغاز مسنون دعا سے کریں اور دوران سفر جلد بازی سے احتیاط کرتے ہوئے دوسری ٹریفک کا خیال رکھیں اور بالخصوص پیدل افراد کو راستہ دیں۔ ریاست کے چوتھے ستون پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عام آدمی میں ٹریفک قوانین پر عمل درآمدکاشعور اجاگر کرنے اور ٹریفک مسائل کے تدارک میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ ہر حادثے کے بعد اہل اقتدار کی جانب سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر محض اظہار افسوس کیا جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کرتے ہوئے شہریوں کی سوچ اور رویوں میں بہتری لائی جائے۔ ڈرائیورز کو ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا پابند کیا جائے، سڑکوں کے درمیاں موجود کھلے مین ہول ختم کئے جائیں، ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے، سلو موونگ گاڑیوں کے ڈرائیورز کو تربیت دی جائے، ڈرائیورز کو لائن اور لین کا پابندکیا جائے تاکہ ہماری سڑکیں حادثات سے محفوظ ہوں اور ٹریفک حادثات کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع اور لوگوں کو معذور ہونے سے بچایا جاسکے۔اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ ٹریفک کے اکثرحادثات، غفلت، جلدبازی اورٹریفک کے اصولوں پرعمل نہ کرنے کی وجہ سے ہی پیش آتے ہیں۔ٹریفک اوردیگرتمام معاملات میں ہرایک یہی سمجھتا ہے کہ دوسرے تواپنی ذمہ داریاں پوری کریں جبکہ خوداس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 126811 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
29 Jan, 2018 Views: 433

Comments

آپ کی رائے