سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ٹرمپ پالیسی

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

امریکی صدرٹرمپ نے اپنے پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا ہے کہ ہماری پالیسی کے چارستون ہوں گے۔امیگریشن، بارڈر سیکیورٹی ، گرین کارڈ،پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی لائیں گے۔امریکی صدرنے اپنی پالیسی کے چارستون بتائے ہیں ۔ اس سے پہلے وہ افغان پالیسی کے نام پرپاکستان پالیسی کااعلان بھی کرچکے ہیں۔سٹیٹ آف دی یونین سے اپنے پہلے خطاب میں ٹرمپ نے اپنی جوپالیسی بتائی ہے۔ اس میں بھی نام لیے بغیر پاکستان کے بارے میں پالیسی بھی شامل ہے۔امریکی صدرنے اپنی پالیسی کاپہلاستون امیگریشن بتایا ہے۔ اس پالیسی پرتواس نے صدارت کاحلف اٹھاتے ہی عمل شروع کردیاتھا۔اس نے صدارت کاحلف اٹھاتے ہی کئی مسلمان ممالک پرامریکہ آنے پرپابندی لگادی تھی۔اس سے اس پابندی کے بعد متاثرہ ممالک کے شہریوں کوپروازوں سے اتاردیاگیاتھا۔ انہیں واپس بھیج دیاگیا۔ٹرمپ کی اس پالیسی پردنیابھرمیں تنقیدہوئی۔امریکی عدالتوں نے بارباراس پابندی کوکالعدم قراردیا۔امریکی عدالتوں میں امیگریشن پالیسی پرشکست کے باوجودٹرمپ ٹس سے مس نہ ہوا۔اس نے پابندی ختم نہ کی۔ایک وقت آیا کہ امریکی عدالت نے بھی امیگریشن قوانین پرٹرمپ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔اپنی اس پالیسی کواس نے پھردہرایاہے۔ اپنے حالیہ خطاب میں امریکی صدرنے کانگریس سے یہ مطالبہ بھی کیاہے کہ وہ نئی قانون سازی کے ذریعے امیگریشن قوانین کودرست کرے۔ ٹرمپ کاکہناہے کہ کھلی سرحدوں کامطلب ملک میں منشیات اورگینگ کی آمدہے ۔ اس نے کہا کہ کانگریس امیگریشن نظام میں وہ خامیاں دورکرے جس کے ذریعے جرائم پیشہ گروہ امریکہ میں آتے ہیں۔ٹرمپ کہتا ہے کہ ایک امیگرینٹ لامتناہی تعدادمیں فیملی امریکالاسکتاہے۔تاہم صرف شوہر،بیوی اورکم عمربچے آنے چاہییں۔میرٹ کی بنیادپرامیگریشن سسٹم لاناوقت کی ضرورت ہے۔ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ امیگریشن قوانین میں خامیوں کی وجہ سے کرمنل گینگ ملک میں آتے ہیں۔گیگزنے ملکی قوانین کے کمزورپہلوؤں کافائدہ اٹھایا۔اس سے پہلے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کاہدف مسلمان تھے۔ اس امیگریشن پالیسی میں مسلمانوں کانام تونہیں ہے۔ اس نے امیگریشن قوانین میں خامیوں کودورکرنے اور قوانین درست کرنے کی بھی بات کی ہے۔قوانین میں خامیاں دورکرنے اورقوانین کودرست کرنے کے بعدہی معلوم ہوسکے گاکہ ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی کاہدف بھی صرف اورصرف مسلمان ہی ہیں یااس کادائرہ دیگرمذاہب اورممالک تک بھی پھیلادیاگیا ہے۔امریکی صدرنے کہا کہ امیگریشن قوانین میں خامیوں کی وجہ سے کرمنل گینگ ملک میں آتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ کھلی سرحدوں کامطلب ملک میں منشیات اورگینگ کی آمدہے۔اس کااشارہ امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی طرف ہوسکتاہے۔امرکی صدرکہناچاہتا ہے کہ امیگریشن قوانین میں خامیوں کی وجہ سے جرائم پیشہ افرادامریکامیںآجاتے ہیں ۔نئی امیگریشن پالیسی کے تحت ٹرمپ امیگرینٹ کے ساتھ لاتعدادفیملی کوامریکاآنے سے روکناچاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امریکاآنے والے امیگرینٹ کے ساتھ لامتناہی فیملی نہ آئے بلکہ صرف شوہر، بیوی اورکم عمربچے ہی آئیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ بیرون ملک سے کم سے کم افرادکوامریکامیں آنے دیناچاہتے ہیں۔وہ اپنے ملک میں غیرملکیوں کی آمدکوکم سے کم کرناچاہتے ہیں۔ٹرمپ نے میرٹ کی بنیادپرامیگریشن سسٹم لاناوقت کی ضرورت قراردیا۔ابھی تو اس بارے کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ امریکامیں امیگریشن کے لیے کیامیرٹ بنایاجاتا ہے۔میرٹ بناتے وقت کیامعیاراختیارکیاجاتاہے۔ یہ تومیرٹ امیگریشن سسٹم سامنے آنے بعدہی معلوم ہوسکے گا۔جومیرٹ اپنایاجائے گاوہ وقت آنے پرہی معلوم ہوسکے گا۔ ایک بات واضح ہے کہ امیگریشن سسٹم میں میرٹ سسٹم نافذ کرکے ٹرمپ امریکامیں باہرسے آنے والوں کی تعدادکم سے کم کرناچاہتے ہیں۔وہ مختلف پالیسیوں، قوانین اورمیرٹ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کوامریکامیں آنے سے روکناچاہتے ہیں۔امریکی صدرکہتا ہے کہ بغیردستاویزات والدین کے ساتھ آنے والوں کوتعلیم کی بنیادپرشہریت ملے گی۔شہریت کی یہ شرط بھی امریکا میں غیرملکیوں کی آمدکوکم کرناہے۔امریکی صدرنے اپنی پالیسی کے چارستون بتائے ہیں۔اس کی پالیسی کے پہلے ستون امیگریشن پالیسی پرعمل ہوجائے توبقیہ تین ستونوں پربھی عمل ہوجائے گا۔امریکی صدرکاکہناہے کہ کھلی سرحدوں کامطلب ملک میں منشیات اورگینگ کی آمدہے۔اس سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ امریکامیں منشیات کاکاروباربھی پھیل چکاہے اوروہاں منشیات کے استعمال کرنے والوں کی تعدادمیں اضافہ ہورہا ہے۔ٹرمپ امریکامیں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کوامیگریشن قوانین میں خامی کی وجہ سمجھتے ہیں۔ٹرمپ کی حالیہ امیگریشن پالیسی سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ مختلف پالیسیوں، قوانین اورمیرٹ کے ذریعے باہرسے آنے والے زیادہ سے زیادہ لوگوں کوروکنے کامقصدامریکاکومحفوظ بنانابھی ہوسکتاہے۔امریکی صدرکی حالیہ امیگریشن پالیسی کامقصدامریکاکومحفوظ بنانا اور دہشت گردوں کی آمدکوروکناہی ہے تویہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ امریکاکومحفوظ بنانے کے لیے مختلف مسلمان ممالک پرجنگیں مسلط کرنے، مسلم ممالک کوبرائی کامحورقراردینے، مسلمان ملکوں پرامریکاکے لیے خطرہ قراردے کرحملے کرنے، ڈیڑھ دہائی تک پاکستان میں ڈرون حملے کرنے ،امریکامیں آنے والے مسلمانوں کی تلاشی کے نام پرتذلیل کرنے اور دہشت گردی کے خلاف ڈیڑھ دہائی سے جاری جنگ کے بعدبھی امریکاپہلے سے بھی زیادہ غیرمحفوظ ہوگیا ہے۔ہماری اس بات کی تصدیق ٹرمپ کی اس بات سے بھی ہوتی ہے جس میں امریکی صدرنے کہا ہے کہ ہم سب مل کرامریکاکومضبوط، محفوظ اورقابل فخربنارہے ہیں۔ہمارے سامنے ٖغیرمعمولی چیلنجزتھے۔جوشایدکوئی تصوربھی نہ کرسکے۔ٹرمپ کاکہناہے کہ پچھلے ایک سال میں توقع سے بڑھ کرکامیابی ملی۔ہماراعزم ہے کہ امریکاکوعظیم تربنایاجائے۔جوہری اثاثوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدرنے کہا ہم ان کی ایسے حفاظت کریں گے جیسے کبھی کسی نے نہیں کی ہوگی۔ہم امریکی جوہری ہتھیاروں کومزیدجدیدبنائیں گے۔امریکی جوہری ہتھیارکتنی تباہی مچاسکتے ہیں اس کااندازہ امریکہ کی طرف سے جاپان کے دوشہروں میں گرائے جانے والے دوبموں کی تباہی سے لگایاجاسکتاہے۔امریکی صدرنے ان جوہری ہتھیاروں کوجدیدبنانے کااعلان کیا ہے۔اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکی صدر جاپان میں امریکی بموں کی تباہی کوکم سمجھتاہے۔وہ چاہتا ہے کہ امریکی جوہری ہتھیارزیادہ سے زیادہ تباہی مچائیں۔ایک طرف دنیاکومحفوظ بنانے کے لیے امریکادہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے تودوسری طرف تباہی مزیدتباہی مچانے والے ہتھیاربنانے کااعلان بھی کررہا ہے۔ اس سے دنیااوربھی غیرمحفوظ ہوجائے گی محفوظ نہیں۔امریکی جوہری ہتھیاروں کوجدید، مضبوط اورمحفوظ بنانے کااعلان شمالی کوریاکے صدرکی اس دھمکی کاجواب بھی ہوسکتا ہے جس میں شمالی کوریا کے صدرنے کہاتھا کہ جوہری ہتھیاروں کے بٹن میری میزپرپڑے ہیں۔ہماری اس بات کی تصدیق ٹرمپ کی اس بات سے بھی ہوجاتی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ شمالی کوریاسے بڑھنے والے خطرات کوکم کریں گے۔امریکی صدرنے شمالی کوریاکوبگڑاہواکہتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ٹرمپ نے خبردارکیاکہ بیانگ یانگ کی جانب سے ایٹمی میزائلوں کی تیاری کے اندھادھندپروگرام سے بہت جلدہمارے ملک کوخطرہ لاحق ہوسکتاہے۔ہم اسے روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤڈالنے کی مہم شروع کررہے ہیں۔امریکی صدرنے کہا کہ یروشلم کواسرائیل کادارلحکومت تسلیم کیاتوجنرل اسمبلی میں امریکاکے خلاف قراردادمنظورکی گئی ۔ٹرمپ کاکہناہے کہ ہمارے خلاف ووٹ دینے والوں کوامریکی امدادبھیجی گئی۔وعدہ کرتے ہیں امریکی ٹیکس دینے والوں کاپیسہ امریکاکے دوستوں کوامدادکی مدمیں ملے گا اوردشمنوں کونہیں ملے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے خلاف ووٹ دینے والے ممالک کوبیس ارب ڈالرکی امدادبھیجی گئی۔امریکی امداددشمنوں کی بجائے دوستوں کے پاس جانی چاہیے۔امریکی صدرکس کس کوامریکاکادوست اورکس کس کودشمن سمجھتے ہیں۔ اس بات کااعلان ٹرمپ نے اپنے پہلے سٹیٹ آف دیونین خطاب میں کر دیا ہے۔ جس جس ملک نے امریکاکی طرف سے یروشلم کواسرائیل کادارلحکومت تسلیم کرنے کے خلاف جنرل اسمبلی میں لائی گئی قراردادمیں امریکاکے حق میں ووٹ دیاوہ امریکاکادوست ہے اورجس جس ملک نے امریکاکے خلاف ووٹ دیاوہ دشمن ہے۔یہ بات توپوری دنیاجانتی ہے کہ اس قراردادمیں کتنے ممالک نے امریکاکے خلاف ووٹ دیااورکتنے ملکوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ا مریکاکی دوستی اوردشمنی کے اس معیارکودیکھاجائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیامیں اب امریکاکے دشمن اس کے دوستوں کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔اس کی وجہ امریکی دوغلی پالیسیاں ہیں۔امریکی صدرنے ایک اورمسلمان ملک کوبھی اس کانام لیے بغیر امریکاکادشمن قراردیا ہے وہ ملک ہے پاکستان۔ پاکستان کوٹرمپ کس طرح امریکاکادشمن سمجھتاہے ۔ اس بات کوسمجھنے کے لیے یہ پڑھیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کانام لیے بغیراسٹیٹ آف دی یونین سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں امریکاکی فوج نئے ضوابط کے ساتھ لڑرہی ہے اورہم مصنوعی ڈیڈلائن بتاکرافغانستان میں دشمنوں کوچوکنانہیں کریں گے۔افغانستان میں اس وقت پاکستان، بھارت اورامریکاکرداراداکررہے ہیں۔امریکابھارت کونہ پہلے اپنادشمن سمجھتاتھا نہ اب سمجھتاہے۔ ہندوستان پہلے بھی امریکاکادوست تھاسواب بھی وہ اس کادوست ہے۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ٹرمپ نے پاکستان کوہی دشمن کہا ہے۔اب آتے ہیں امریکی صدرکی اس بات کی طرف جس میں اس نے کہا ہے کہ امریکی امدادامریکاکے دشمنوں کونہیں دوستوں کوملنی چاہیے۔جیساکہ پہلے لکھاجاچکا ہے کہ امریکی صدرنے کہا کہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ امریکی ٹیکس دینے والوں کاپیسہ امریکاکے دوستوں کوملے گادشمنوں کونہیں۔کسی اورملک کے بارے میں توکچھ نہیں کہاجاسکتا یہ بات ضرورواضح ہے کہ دوستی اوردشمنی کے معیار، پیمانے اورمیرٹ کی پالیسی کے تحت پاکستان کی امداد ضرور بند کرنے کی بات کی گئی ہے۔جس نے جنرل اسمبلی میں امریکاکے خلاف ووٹ دیا وہ امریکادشمن ہے۔ پاکستان نے بھی امریکاکے خلاف ہی ووٹ دیا بلکہ یہ قرارداد پاکستان نے ہی پیش کی تھی۔جس نے امریکاکے خلاف ووٹ دیاوہ توامریکاکادشمن ہوااورجس نے اس کے خلاف جنرل اسمبلی میں قراردادپیش کی وہ تو اس کاسب سے بڑادشمن کہلائے گا۔ادھرافغانستان میں جس ملک کوٹرمپ نے دشمن کہا ہے وہ پاکستان ہی ہے۔پاکستان کی ہی امددبندکی جارہی ہے۔ا مریکی امدادبندکرنے کی دھمکی ٹرمپ پہلے بھی کئی باردے چکے ہیں۔ پاکستان کی امدادمستقل بندکرنے کابل امریکی سینٹ میں بھی پیش کیاجاچکاہے۔سٹیٹ آف دی یونین سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ کانگریس یقینی بنائے کہ داعش اورالقاعدہ کے خلاف جنگ میں ہم دہشت گردوں کوگرفتارکرسکیں گے۔یہ بات کرکے ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکابمباری توکرسکتاہے دہشت گردوں کوگرفتارنہیں کرسکتا۔اس نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ امریککازمینی جنگ بھی نہیں لڑسکتا۔یہ اعتراف بھی ہوسکتاہے کہ افغانستان میں ڈیڑھ دہائی سے جاری جنگ کے باوجودامریکااب بھی افغانوں کازمینی جنگ میں مقابلہ نہیں کرسکتا۔یہ ٹرمپ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شکست کااعتراف بھی ہے۔امریکی صدرکاکہناتھا کہ بیرون ملک سے گرفتارکیے جانے والے دہشت گردوں سے دہشت گردوں والاسلوک کیاجاناچاہیے۔گوانتاموبے جیل کھلی رکھنے کااعلان بتارہا ہے کہ ٹرمپ مستقبل کی پلاننگ رکھتے ہیں۔گوانتاموبے کاعقوبت خانہ کھلارکھنے کا اعلان یہ بھی بتارہا ہے کہ امریکی ظلم اورجبروتشددمیں مزیداضافہ ہونے جارہا ہے۔ا س جیل میں قیدیوں پرکیے جانے والے انسانیت سوزسلوک کے ختم ہونے کا ابھی کوئی امکان نہیں ہے۔یہ جیل بندنہیں ہوگی تودہشت گردی کے خلاف جنگ بھی جاری رہے گی۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے عوام اپنے کرپٹ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے توامریکانے ان کاساتھ دیا۔ٹرمپ بھول گئے یاجان بوجھ کران جان بن گئے کہ ایران کی عوام نے امریکاکاساتھ دینے کاجواب اس کے خلاف تاریخی احتجاج کرکے دے دیا ہے۔اس لیے ایران کی عوام کاساتھ دینے پرٹرمپ کوافسوس کرناچاہیے۔ٹرمپ کاکہناہے کہ داعش کے خلاف اتحادنے عراق اورشام میں سوفیصدحصہ آزادکرالیاہے جب کہ ابھی مزیداقدامات باقی ہیں۔ابوبکربغدادی سمیت کئی دہشت گردایسے تھے جنہیں امریکانے پکڑاپھررہائی دی۔ایسے دہشت گردوں کاپھرمیدان جنگ میں سامناکرناپڑاہے۔امریکاکے علاوہ دنیامیں کوئی اورقوم ایسی نہیں ہے جوبھاری چیلنجزکوقبول کرے۔ہمیں آپس کے اختلافات کوبھی ختم کرناہے تاکہ ہم ترقی کے لیے مزیدآگے بڑھ سکیں۔ٹرمپ نے روزگار،انفراسٹرکچر،امیگریشن، تجارت اورقومی سلامتی پربھی اظہارخیال کیا۔
امریکی صدرٹرمپ کے ہرخطاب کاہدف بلواسطہ یابلاواسطہ، نام لے کریانام لیے بغیرپاکستان ہی رہا ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ نے جب بھی خطاب کیایاکوئی ٹویٹ جاری کیا تواس میں پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی کوضروربیان کیا۔یوں لگتا ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی اورامریکی امدادروکنے کی پالیسی کاہدف صرف اورصرف پاکستان ہے۔اس سے پہلے وہ پاکستان کوکولیشن سپورٹ فنڈز کے تحت دیے جانے والے پیسہ کوامریکاکی غلطی قراردے چکے ہیں۔ٹرمپ کے باربارپاکستان کونشانہ بنانے کامقصدیہاں کی حکومت اورعوام پردباؤڈال کراپنی مرضی کے فیصلے اوراقدامات کرانابھی ہوسکتاہے۔ٹرمپ کویہ ذہن نشین کرلیناچاہیے کہ پاکستان اب اس کے کسی دباؤ یالالچ میں نہیں آئے گا۔امریکااب پاکستان سے کوئی بات نہیں منواسکتا۔امریکاآرڈرپاکستان پرچلاتاہے اوردوستیاں بھارت سے نبھاتاہے۔امریکی صدرکے سٹیٹ آف دی یونین خطاب ڈیموکریٹس نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ٹرمپ کی طرف سے اپنے پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں چین کوامریکی اقدارکے لیے خطرات کی فہرست میں شامل کرنے پرچین نے تنقیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکاسردجنگ کی ذہنیت کوترک کردے۔ٹرمپ نے اپنے اس خطاب میں کہا کہ چین اورروس ہمارے مفادات ،ہماری معیشت اورہمارے اقدارکے لیے ایک چیلنج بن گئے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 338 Articles with 154727 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jan, 2018 Views: 587

Comments

آپ کی رائے