موت

(Kanwal Naveed, Karachi)

موت ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہم سب چاہتے نہ چاہتے بانٹتے ہیں ۔مگر کبھی کبھی کوئی موت روحوں کو جھنجھوڑدیتی ہے۔

صاف ستھرے بڑے گھروں کے لوگوں میں ہودل کی گندگی توصاف نظر آتی ہے
انسان جب پہنچ جاتا ہے خوب اونچائی پرانسانیت قدموں میں اس کی سمیٹ جاتی ہے
وہ تیز تیز کتاب کی ورق کردانی کرتے ہوئے شعروں کو جانچ رہی تھی ، ابھی اسے بہت کچھ کرنا تھا۔ سارے کاموں کی فکر دماغ میں جاری تھی جبکہ اس کی نظریں اس جدو جہد میں تھیں کہ کوئی دل کو تسکین دیتا شعر اس کے اذہان کو راحت دے۔تب ہی اس کی نظر اس شعر پر پڑی ۔
موت و زندگی کی حقیقت سے نا آشنا ہم لوگ ، مٹی سے گرد سے دور بھاگتے ہیں
آشکار ہو جاتی ہے موت جب راز کی طرح، مٹی پھر کیسے ہم سے لپٹ جاتی ہے۔
یہ شعر کیسے پہلے والے شعر سے میل کھاتا ہے ۔ اس نے دوبارہ پہلےوالے شعر کو پڑھا ہی تھا کہ فون پر بیل بجی ۔ ماہم کا فون تھا اور ندا نے فون لیتے ہی کہا خیر تو ہے آج صبح ہی ، سامنے لگی ہوئی گھڑی پر اس کی نظر پڑھی تھی جو گیارہ بجنے کا اشارہ دے رہی تھی۔ ندا نے ماہم کی بات سنی ،تمہیں پتہ نہیں چلا ندا ۔ ماہم کی بات پر چوکنی ہو گئی ۔ ۔زینب کا ۔ وہ زینب مل گئی۔ ندا نے خوشی سے کہا ۔ اچھا یہ تو بہت خوشی کی بات ہے ۔ کیسی ہے وہ ۔ کہاں تھی کچھ بتایا اس نے۔ ماہم نے روتے ہوئے کہا۔ یار کسی نے بہت بُرا کیا ،ذیادتی کی گئی ہے ،اس چھوٹی سی بچی کے ساتھ۔ کسی نے لاش پھینک دی ہے اس کی کچرے میں ،یہ کہہ کر ماہم رونے لگی ۔ اس کے ساتھ ساتھ ندا بھی رونے لگی ۔ اس کی طبعیت خراب ہو رہی تھی ۔ وہ پانچ ماہ سے امید سے تھی ۔ کچھ دنوں سے محلے کی ایک بچی جس کا نام زینب تھا غائب تھی ۔ سارے لوگ پریشان تھے ۔ بچی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ ندا نے آخری بار اسے شادی میں دیکھا تھا۔ اپنی امی کے ساتھ ، امی مجھے یہ نہیں کھانا۔ مجھے صرف آئس کریم چاہیے ۔ میری مرضی کے فلیور کی۔ ماں نے مسکراتے ہوئے اسے سینے سے لگا لیا تھا۔ ندا نے روتے ہوئے کہا۔ایسے کتوں کو کوئی گولی کیوں نہیں مار دیتا۔ ماہم نے افسردگی سے کہا۔ کیونکہ وہ کاٹنے کے بعد منہ دھو لیتے ہیں ۔ ان کے کتے ہونے کا پتہ کہاں چلتا ہے۔
کچھ دیر دونوں اس ذلیل انسان کو کوستی رہی جو نہ جانے ذہنی بیماری کا شکار تھا ،یا پھر گندی تربیت کا نتیجہ ،مگر ایک بات صاف ظاہر تھی کہ وہ اسی معاشرے کا حصہ تھا۔ جسے ظلم کرتے ہوئے ایک بار بھی احساس نہیں ہوا کہ اسے سزا مل سکتی ہے یا ملے گئی ۔ ندا باظاہر تو اپنے گھر کے کاموں میں مصروف ہو گئی لیکن اسے عجیب تنگی اور گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے دونوں بیٹے سکول گئے ہوئے تھے اور اس کے شوہر آفس ،وہ کام کرنے کے بعد لیٹی ہی تھی کہ اچانک اسے پیٹ میں درد محسوس ہونے لگا۔
ندا نے پریشان ہو کر آصف کو فون کیا، آصف نے ندا سے با ت کی تو اس نے اسے فوراً سے ہوسپٹل جانے کا مشورہ دیا۔ آصف نے اسے تسلی دی کہ وہ تھوڑی دیر میں ہی ہوسپٹل پہنچ جائے گا۔ ندا نے رکشہ سے جانے کا ارادہ کیا۔ اسے عجیب خوف محسوس ہو رہا تھا۔ کچھ دن پہلے ہنستی کھیلتی بجی یہاں ہی تو چلتی تھی ۔ اس نے رکشہ روکا اور ارد گرد ایسے دیکھا جیسے وہ جنگل میں کھڑی ہو اور جلد ہی کسی بھیڑیے کے نمودار ہونے کا خطرہ ہو۔ ابھی وہ پریشانی کے عالم میں ارد گرد دیکھ ہی رہی تھی کہ رکشہ والے نے پوچھا ۔ باجی جانا ہے۔

ندا نے رکشہ والے کو گھورتے ہوئے کہا ۔ ہاں بھائی وہ جوقریب ڈاکڑ ریاست کا ہوسپٹل ہے نا وہاں اتار دو۔ جتنی دیر وہ رکشہ میں بیٹھی رہی ارد گرد دیکھتی رہی جہاں تھوڑا کچرا نظر آتا اسے زینب کی لاش نظر آتی ۔ جو اس کےحلق کو خشک کر جاتی ۔ اس کی تکلیف میں اضافہ ہو رہا تھا۔

جیسے ہی وہ ہوسپٹل پہنچی اس کا الٹرا سونڈ ہوا ۔ اس نے بے دلی سے پوچھا ڈاکٹر لڑکا ہے کہ لڑکی ۔ ڈاکٹر نے پوچھا ۔ آپ کو کیا چاہیے؟ وہ چپ ہو گئی ۔ پہلے تو وہ ہر کسی سے کہتی تھی کہ میرے دو بیٹے ہیں دُعا کریں کہ لڑکی ہو جائے ۔ میرا گھر پورا ہو جائے گا۔ آج اسے چپ لگ گئی اس نے دھیرے سے کہا۔ پتہ نہیں۔

ڈاکٹر نے کہا آپ کی بیٹی ہے ۔ تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ اس کی طبعیت اور خراب ہو گئی ۔ ڈاکٹر نے اسے تسلیاں دینی شروع کی۔ اتنے میں آصف بھی ہوسپٹل پہنچ چکا تھا۔ ڈاکٹر نے افسردگی سے کہا۔ آپ کی بیوی کسی چیز کو بہت ذیادہ سر پر سوار کیے ہے۔ ان سے پوچھیں انہیں کیا پریشانی ہے۔ بچے پر ماں کی ہر چیز اثر انداز ہوتی ہے۔ کیا آپ لوگ بیٹی نہیں چاہتے۔ بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں ۔ بیٹیاں نہیں ہوں گئی تو بیٹے کہاں سے ہوں گئے۔ عجیب لوگ ہیں ۔ ڈاکٹر اب ندا کو انجکشن لگا رہی تھی مگر رونے کی وجہ سے اس کی حالت اور بگڑ رہی تھی۔ ندا سے آصف نے کہا۔ مسلہ کیا ہے ،تم تو چاہتی تھی کہ تمہاری بیٹی ہو ۔ اور تم ہی۔
 
اس کی تکلیف اور بڑھ گئی ۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ اپنا بچہ کھو چکی تھی۔ ڈاکٹر نے اس کو ایک دن ہوسپٹل میں رہنے کا مشورہ دیا۔ آصف اور ندا دونوں ہی افسردہ اور پریشان تھے۔ آصف نے انکھوں سے چھلک پڑنے والے آنسووں کو صاف کیا اور دھیرے سے کہا۔ صبح تم بلکل ٹھیک لگ رہی تھی۔ کیا ہوا؟ تم نے خیال کیوں نہیں رکھا۔ تمہیں خیال رکھنا چاہیے تھا۔ ندا کے ذہین میں ابھی بھی زینب سوار تھی ۔ اس نے روتے ہوئے کہا۔ انسان کے بس میں ہے خیال رکھنا ۔ سچ میں ایک ماں بچا سکتی ہے اپنی بچی کو۔آصف نے افسردگی سے کہا۔ تم کیا کہہ رہی ہو۔ ندا نے روتے ہوئے کہا۔ میں زینب کی بات کر رہی ہوں ۔ موت زندگی کا ایک لازمی جز ہے مگرزینب کے ساتھ جو ہوا۔ آصف کو اب سمجھ آ چکی تھی کہ کیا ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ ندا کس قدر حساس ہے۔ اس کی انکھوں سے آنسو چھلکنے لگے ۔ اس نے افسوس سے کہا ، مجھے مرد ہونے پر شرم آ رہی ہے۔ندا نے روتے ہوئے کہااور مجھے خوف محسوس ہو رہا ہے ۔ اسی خوف نے ہم سے ہماری بیٹی چھین لی۔ کاش کہ اس طرح کے جرم کرنے والوں کو سنگین ترین سزائیں دی جائے کہ کوئی بھی ایسا عمل کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچے کہ وہ بخشا نہیں جائے گا۔ میں اپنی بیٹی کی موت پر راضی ہوں مگر مجھے زینب کی موت نہیں قبول ۔

وہ دونوں رو رہے تھے۔ مگر ان کا درد اس لامتنائی درد سے جڑ چکا تھا،تو ہمارا معاشرہ اپنے اندر ناسور سمیٹنے کی وجہ سےہر پل محسوس کرتا ہے۔معاشرے کے ناسور کی موت ہی اصل میں ہماری زندگی ہے۔ کبھی کبھی موت زندگی سے ذیادہ خوشگوار ہوتی ہے۔
میں نے اپنے اندر کی بُرائی کو جب مار دیا
اک عجیب خوشبو سے معطر تھا وجود فانی
لمحوں میں جب سمیٹ دی حیات کنول
تب جا کر بنی تھی سمجھانے کو ایک کہانی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182279 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
05 Feb, 2018 Views: 477

Comments

آپ کی رائے