دوستی سے زیادہ قسط ٥

(Tooba, Karachi)

نصرت بیگم سڑک کنارے بیٹھی تھی اور پاس آٹو والا تھا۔ اس کے ہاتھ سے فائل اور اس کا پرس سب گر گیا، اسے شاید ہوش بھی نہیں تھی ان چیزوں کی۔۔۔۔ وہ بھاگ کر ان کے پاس آئی تھی۔ قریب سے دیکھا تو ان کے سر سے خون بہنے کے سوا کچھ اور دیکھائی ہی نہیں دے رہا تھا، پاوں پر بھی چوٹ لگی تھی، اور نیم بہوش تھیں وہ۔
آنٹی کیا ہو ا آپ کو۔۔۔ وہ ٹنشن میں با مشکل بول پائی۔۔۔
کچھ لوگ آٹو والے کو باتیں سنا رہیے تھے ۔۔۔ اسے تو شاید کوئی آواز نہیں آرہی تھی بس نصرت بیگم کا خون دیکھا ئی دے رہا تھا۔۔
اسنے اسی آٹو والے سے چیخ کر کھا جلدی سے ہسپتال چلو۔۔
آٹو والا بھی اس کی آواز سن کر ان کے پاس آکر آنھیں اٹھایا کہ ایک طرف زرنش نے پکڑا تھا دوسری طرف آٹو والے نے،
بس آٹو میں بیٹھ کر اس نے بھی طوفانی سپیڈ میں گاڑی چلائی۔
ہسپتال بھی زیادہ دور نہ تھا۔ دس منٹ میں پہنچ گئے ۔۔۔ آٹو والا معافی بھی مانگتا رہا۔۔۔ مرہم پٹی تک بھی وہ رہا۔خدا کا شکر تھا کہ زخم زیادہ گہرے نہیں تھے، نصرت بیگم کو بھی جلد ہوش آگیا۔ ان سے بھی معافی مانگنے لگا ۔ انھوں نے کھلے دل سے معاف کیا ۔۔ ویسے بھی وہ کافی بزرگ لگ رہے تھے اور شرمندہ بھی تھے ورنہ آج کل کے زمانے میں کوئی اپنی غلطی مانتا ہے بھلا۔ پیسے بھی ادا کرنا چاہ رہے تھے مگر نصرت بیگم نے منع کر دیا ، گھر تک بھی اس نے چھوڑا مگر پیسے نہیں لیے۔ اس سارے لمحات میں زرنش بلکل خاموش تھی۔ راستے میں نصرت بیگم نے اس سے کہا کہ وہ یونی چلی جائے مگر اس نے جواب نہیں دیا۔ گھر پہنچ کر وہ بھی معافی مانگنے لگی۔۔۔ نصرت بیگم نے اسے سمجھایا کہ اس کی غلطی نہیں ہے ، پر وہ پھر بھی شرمندہ تھی، اس نے نصرت بیگم کو روم میں لیٹایا، اور ان کے لیے زبردستی کھانا بھی بنایا، اور ان کے پاس ہی بیٹھی رہی، کسی کو کال کرنے کے لیے انھوں نے منع کیا تھا۔ مگر اس نے پھر بھی سب کو کال کر کے بتا دیا اور آنٹی نے بات کر کے تسلی بھی دے دی تھی کہ سب ٹھیک ہے وہ اپنے ٹائم پر ہی گھر آئیں اور اب دوایوں کے زیر اثر وہ سو رہیں تھیں ۔ پھر اسے خیال آیا کے اس کی چیزیں تو وہ وہی پھینک آئی تھی۔
اس نے اپنے روم میں آکر اپنی ڈائڑی سے نمبر نکالا ، ( شکر مجھے ڈائڑی میں نمبر لکھنے کی عادت ہے) کال کر کے کہے دیا، اس کی دوست سمرین نے پہلے ہی وہ چیزیں وہاں سے اٹھا لی تھیں، اور اس کا کھنا تھا کہ فائل سبمٹ کروا دی ہے اور سر کو تمھاری ایمرجنسی کا بھی بتا دیا تھا۔۔ مگر سر نے کہا کہ پریزنٹیشن کے مارکس کٹیں گے۔۔ ایسے اس کی پرواہ بھی نہیں رہی تھی ، بس آنٹی ٹھیک ہیں یہی کافی ہے۔
اب وہ آنٹی کے روم میں بیٹھی تھی اور سو بھی گئی تھی کون کب آیااسے نہیں پتا۔
اب جب اس کی آنکھ کھلی تو سامنے رافعہ کھڑی تھی، اٹھ جاو کچھ کھا لو، کہ کر چلی گئی اس کے پلٹتے ہی وہ بھی فریش ہونے لگی۔
لاونج میں آئی تو سب موجود تھے نصرت بیگم بھی صوفے پر بیٹھی تھی سر ، پاوں میں پٹی بندھی تھی اور سلیم انکل اور اس کے ابو اندر روم میں کھلے دروازے کے پار نظر آرہے تھے، آنٹی نے تب ہی رافعہ کو آواز دی کھانا لانے کے لیے۔ انھیں یقین تھا کہ ان کو کھانا کھلانے کے بعد بھی اس نے کچھ نہیں کھایا ہوگا اور ایسا ہی تھا، وہ اس سے خفا ہو رہی تھی ساتھ میں مسکرا بھی رہی تھیں۔سلیم اور احمد صاحب بھی اسے دیکھ کر دوبارہ باتوں میں بزی ہو گئے ،رفیق بھی وہی بیٹھا تھا، اور کہے رہا تھا: تم کیا بھوک ہر تال پر ہو، کھانا نہیں کھاو گی تو تمھیں بھی ھسپتال داخل کر وانا پڑے گا؟؟
رافعہ کھانا لے آئی اور اس کے سامنے رکھتے ہو ئے کہا ، جلدی ختم کرو پھر ہمیں رات کا مینیو بھی ڈسکس کرنا ہے۔ آج رافعہ اسے خود کہے رہی تھی مل کر کھانا بنانے کے لیے ورنہ وہ ہمیشہ اس سے زبردستی پوچھتی تھی کہ وہ کیا کام کرے یاکیا ہیلپ کرے ، اس نے رافعہ کو غور سے دیکھا اور پھر کھانا کھانے لگی۔
اب دونوں کچن میں کھڑی کام میں مصروف تھیں۔
زرنش نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی ، سنو تمھیں کچھ کہنا نہیں مجھ سے؟
ہاں تمھارا شکریہ کرنا تھا۔
(کایا پلٹ) اور کہا تو صرف اتنا کہ ہیں؟؟
چلو ہاتھ چلاو جلدی سب کو بھوک لگی ہے۔
(ہمیشہ دو لفظوں میں بات ختم کر دیتی ہے) زرنش نے سوچا اور سر جھٹک کر کام کرنے لگی۔
کھانا کھانے کے بعد رافعہ پھر سے اس کے پاس آئی اور اسے کہا کہ اس کے روم میں آئے بات کرنی ہے۔
جب وہ روم میں آئی تو رافعہ بیڈ پر بیٹھی تھی اور موبائیل یوز کر رہی تھی۔ اسے دیکھ کر موبائیل رکھ دیا
ہاں بولو۔
یہاں بیٹھو ، اس کے بیٹھتے ساتھ ہی سوال کر لیا تم پریشان کیوں ہو؟
میں؟؟ نہیں تو وہ بس آنٹی کی وجہ سے
امی تو اب ٹھیک ہیں۔ تم کسی اور بات سے پریشان ہو۔ وہ اسے کھوجتی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔۔ اسنے سر جھکا دیا۔
وہ نمبر تمھیں پریشان کر رہا ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tooba

Read More Articles by Tooba: 14 Articles with 8712 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Feb, 2018 Views: 535

Comments

آپ کی رائے