کراچی ادبی میلہ اختتام کو پہنچا

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتما م نواں کراچی لٹریچر فیسٹیول اختتام کو پہنچا۔ادبی میلے کا آغا 9 فروری کو کراچی کے ساحلِ سمندر نیٹی جیٹی پرواقع ایک بڑے ہوٹل میں میں ہوا جو تین جاری رہنے کے بعد آج11 فروری کی شام کو اپنے اختتام کو پہنچا۔ کراچی کے عوام نے بڑی تعداد میں تینوں دن اس ادبی میلے میں شرکت کی۔ میلے میں لوگوں کی گہما گہمی دیدنی تھی۔ کھانے پینے کے اسٹال، رہنمائی،معلومات و رجسٹریشن ڈیسک، کھانے پینے کے اسٹال، کتابوں کی نمائش، بڑے پنڈال میں مختلف ادبی موضوعات پر گفت و شنید، سیمینار، مذاکرے، موسیقی کے پروگرام کا سلسلہ جاری رہا ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے ادبی میلے کی ابتدا 2010میں ہوا تھا، ہرسال میلے میں شریک ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ موجودہ میلہ اپنے سلسلے کا نوا میلہ تھا جس میں تینوں دن میلے میں آنے والوں کی تعداد ڈھائی لاکھ بتائی گئی ہے۔ راقم نے آخری دن میلہ میں شرکت کی۔ میلہ دیکھ کر جس قدر دل شاد ہوا، خوشی ہوئی، گفتگو کا پروگرام سن کر مسرت کا احساس ہوا وہیں ایک افسوس ناک خبر بھی اسی میلے میں سننے کو ملی۔ پاکستان کی معروف ہر دلعزیز شخصیت جن کا تعلق میڈیا سے تھا جناب قاضی واجد انتقال کر کے۔ وہ پانچ روز قبل عمرہ کی ادائیگی سے واپس لوٹے تھے۔ قاضی واجد میرے ایک بہت ہی قریبی دوست عبد الصمد انصاری کے کزن تھے۔ صمد انصاری ان کا ذکر بہت کیا کرتے تھے۔ ایک بار صمد کے ساتھ قاضی واجد سے ملاقات بھی ہوئی۔ ان کے علاوہ ماہر قانون اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے اچانک انتقال کی خبر نے غمگین کر دیا۔ رات ہی تو عاصمہ جہانگیر کو ایک ٹی وی ٹاک شو میں دیکھا اورسنا تھا۔ موت کس کو کب آجائے کسی کو نہیں معلوم ۔ جانا تو ہر ایک کو ہے۔یہ خبر سننے کے بعد میلے میں جی نہیں لگا اور واپس لوٹ آیا۔

اس ادبی میلے میں سابقہ سالوں کی بہ نسبت زیادہ سیشنز ہوئے جن کی تعداد 76بتائی جاتی ہے ان میں 325مقررین نے شرکت کی۔ اختتامی تقریب میں ہندوستان سے آئے ادیب مانی شنکر ایار بھی موجود تھے ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کو آپس کے تمام مسائل گفت و شنید سے حل کرنے چاہیے۔ اسی میں دونوں ملکوں کی بھلائی اور خیر خواہی ہے۔ ادبی میلے میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی موبائل لائبریری اور موبائل بک شاپ بھی رکھی تھی۔ ادبی میلے میں کتب کی نمائش میں کتب کے عاشقوں کا ہجوم رہا جو اپنی پسند اور ضرورت کی کتب خریدرہے تھے۔ ادبی میلے کا آخری اور اہم ایونٹ ادبی انعامات ہوا کرتا ہے ۔ اس موقع پر بھی KLF-Getz Pharma Prize، KLF-Infaz Foundation Urdu Literature Prize,اور KLF-German Peace Prizeسے مستحقین کو نوازا گیا۔ یہ پرائز جرمن کونسلیٹ کے اشتراک سے دیا جاتا ہے۔ منتظمین ادبی میلہ قابل مبارک باد ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے اہل کراچی کو گھمبیر اور مشکل سیاسی حالات میں علمی اور ادبی ماحول فراہم کیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 755 Articles with 641948 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
11 Feb, 2018 Views: 489

Comments

آپ کی رائے