سچائی کی بے خوف آواز خاموش ہوگئی ․․․․

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952کو لاہور میں پید ہونیوالی ایک بہت بڑے قد کی قانون کو سمجھنے ولی خاتون آج 12فروری 2018کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہو کر اپنے معبودِ حقیقی سے جا ملی۔ان کی خدمات کا کینوس بے حد وسیع رہا ہے۔وہ جب حق کی آواز بن کر سامنے آتی تھیں تو ایک نا قبل تسخیر چٹان بن جاتی تھیں۔کوئی بڑے سے بڑا ڈکٹیٹر بھی اس چٹان کو ہلا نہیں سکتا تھا۔وہ ہر قوت سے نبرد آزما ہونے اورسے ٹکرانے کی مکمل صلاحیت اپنے اندر رکھتی تھیں۔جب انہوں نے 1978میں قانون کی ڈگریپنجاب یونیورسٹی سے حاصل لی کر تو اسی وقت سے انہوں نے طاغوتی قوتوں سے قانونی جنگ لڑنے کا تہیہ اور عزم کر لیا تھا۔ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا۔ان کے والد ملک غلام جیلانی نے جب سول سروس کو خیر باد کہا تو اس کے بعد وہ عملی سیاست کے میدان کے شہسوار ثابت ہوئے۔جنہیں بنگالیوں کے خلاف فوجی ایکشن اور قتال پر بات کرنے پرنا صرف نظر بندی بھگتنا پڑی بلکہ جیل بھی جانا پڑ گیا تھا۔وہ اپنی نو عمری میں ہی اپنے والد کی قید وبند کے خلاف فوجی آمر جنرل ایوب خان کے خلاف احتجاج کرنے پر قید وبند کے سعوبتیں براداشت کرنے پر مجبور کر دی گئی تھیں۔عاصمہ جہانگیر کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے اپنی جدوجہد کے نتیجے میں کئی بین القوامی ایوارڈز بھی حاصل کئے۔

عاصمہ جہانگیرسے لاکھ اختلافات ہونے کے باوجو د میں اور ہر پاکستانی، اس خاتوں قانون دان کو قدر کی نگاہ سے اس کی بے باکی جراء ت اور دلیری کی وجہ سے دیکھتا تھا۔ جو ایک جانب انسانی حقوق کی بڑی علمبردار تھی تو دوسری جانب (ان کے ذاتی عقدے سے ہٹ کر)یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق پر کھل کر اپنا اظہارِ خیال کرتی تھیں۔ وہ ہر ناجائز فعل پر کھل کر بولاکرتی تھیں۔اپنی بے باکی اور جراء ت کی وجہ سے وہ کبھی ہائی کورٹ طلب کیجاتی رہیں تو کبھی سُپریم کورٹ میں ۔جمہوریت کی علمبردار بننے پر انہیں 1983میںPDAپاکستان میں بحالیِ جمہوریت کی تحریک میں حصہ لینے پرجنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دورن بھی جیل کی ہوا کھانی پڑ گئی تھی۔مگر ان کے پایہِ استقلال میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا۔وہ ؑعدالتی فیصلوں کی غلطیاں کھل کر بیان کرتی تھیں۔ اکبر بکٹی کے خلاف پرویز مشرف کے ایکشن کی عاصمہ جہانگیر بلا خوف و خطر کھل کر مذمت کرتی رہیں۔ موجودہ پاناما کیس میں اقامے پر نواز شریف کو نا اہل کئے جانے پر عاصمہ کھل کر بولیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلوں کے بولنے کی بجائے ججز سیسلین مافیہ اور اور گاڈ فادر جیسے الفاظ الفاظ بول کو اپنی جانبداری ظاہر کرتے دیکھے گئے، جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔عاصمہ ایک جانب ڈکٹیٹرز کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہیں ۔تو دوسری جانب سیاست دانوں کے غیر جمہوری رویوں کی بھی کھل کر مخالفت کیا کرتی تھیں۔وہ ہمیشہ خواتین اور بچوں کے حقوق پر بھی بھر پور آواز اٹھانے میں کبھی دیر نہیں کرتی تھیں۔غرض یہ کہ انسانی حقوق کی جہاں بھی جہاں بھی قانون کی خلاف وارزی ہوتی عاصمہ جہانگیر وہاں ہراول دستے کی سالار ہو کر سامنے آتی تھیں۔وہ انصاف کے تقاضوں کے انحراف پر ہر عدالت کے مد مقابل دیکھی جاتی تھیں۔غرض یہ کہ عاصمہ جہانگیر او ر انسانی ،سماجی سیاسی ،خواتین اور بچوں کے حقوق کی وائلیشن پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند سامنے ہوا کرتی تھیں
قید سے رہائی ملنے کے بعد 1986میں عاصمہ جہانگیر جنوا چلی گیئں ۔جہا ں وہ بچوں کی دفاعی تنظیم DCI کی وائس چیئر پرسن بنادی گیئں۔ وہ اس عہدے پر 1988تک بچوں کے حقوق کے حوالے سے سر گرمی کے ساتھ کام کرتی رہیں۔1987سے انہوں ہیو من رائٹ پاکستان کی معاونت کرنا شروع کردی اور اس تنظیم کی جنرل سیکریٹری بنا دی گیئں۔اس کے بعد وہ ساؤتھ ایشیا ہیومن رائٹ کی کو چیئرمن بنائی گئیں اورپھر انہیں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کی نائب صدر بھی بنا دیا گیا،جس پر وہ 1983تککامکرتی رہیں۔ اس طرح عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی شحصیت بن کر ساری دنیامیں نمایاں مقام کی حامل پاکستانی خاتون بن کے سامنے آئیں۔

محترمہ عاصمہ جہانگیر کوایک مرتبہ پھر2007میں گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔عاصمہ جہانگیر پا کستان میں وہ پہلی اور آج تک آخری خاتوں تھیں جو سپُریم کورٹ بار کی صدر منتخب کر لی گئیں۔ اس انتخاب سے پہلے جب انہوں نے اپنے سینئر ساتھیوں سے بار کے الیکشن میں حصہ لے نے کے سلسلے میں مشورے کئے تو ہر ایک نے ان کو اس عہدے کے لئے انتخاب نہ لڑنے کا مشورہ اپنے سابقہ تجربات کی بنیاد پر دیا۔مگروہ دھن کی پکی ہونے کی وجہ سے اس عہدے کے لئے میدان میں اتریں اور کامیاب ہوگئیں۔ جولائی 2010میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے پینل پر سری لنکا میں انسانی حقوق کی وائلیشن کے حوالے سے خدمات کی انجام دنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ انہیں اسرائیل میں بھی انسانی حقوق کے ضمن میں حقائق معلوم کرنے پر متعین کیاگیا تھا ۔جہاں انہوں نے فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت پر حقائق کو سامنے لانے کا بھر پور موقع ملا۔انسانی حقوق کی مقبوضہ جموں د کشمیر میں وائلیشن پر بھی انہوں نے مودی سرکار کو ایکسپوز کرنے میں کوئی دقیقہ اُٹھانہیں رکھا تھا۔ در اصل عاصمہ قانون کے ایوانوں میں بھی ایک جانا مانا نام تھا ۔ اپنی عمر کے 66ویں سال میں سچائی کی بے خوف آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔ انسانی حقوق، خواتین و بچوں کے حقوق کے حوالے سے اپنے بعد یہ خلع بڑی مشکل سے پر ہو پائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 117588 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Feb, 2018 Views: 399

Comments

آپ کی رائے