آزاد کشمیر اسمبلی میں '' یوم یکجہتی کشمیر '' کی بے چارگی !

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)

5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مظفر آباد میں آزاد کشمیر اسمبلی اور کونسل کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی بھی شریک ہوئے۔مشترکہ اسمبلی اجلاس یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تھا لیکن اس موقع پر سیاسی عناد اورمخالفانہ '' پوائنٹ سکورننگ'' یکجہتی کے اظہار پر غالب نظر آئی۔اجلاس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں نے اظہار خیال کیا تاہم پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر چودھری یاسین نے میاں محمد نواز شریف، مسلم لیگ(ن)اور وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف بھر پور سیاسی مخالفت کے لئے غلط وقت اور غلط الفاظ کا انتخاب کیا۔یہ موقع تھا مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان سے آزادی،حق خود ارادیت کا مطالبہ اور جدوجہد کرنے والے کشمیریوں سے پاکستان کے اظہار یکجہتی کا،آزاد کشمیر اسمبلی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے غیور و مظلوم لوگوں کی نمائندگی کا، لیکن آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن،بالخصوص اپوزیشن لیڈر کی طرف سے جو روئیہ اپنا یا گیا ،وہ نامناسب اور قابل افسوس ہے۔

چودھری یاسین نے اپنی تقریر میں مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان،جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے سردار خالد ابراہیم اور تحریک انصاف کے ماجد خان کو تقریر کا وقت دینے پر سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر کا شکریہ ادا کیا اور اسے سپیکر کی طرف سے بڑے ظرف کا مظاہرہ قرار دیا۔انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منانے پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور یوم یکجہتی کشمیر کو ذوالفقار علی بھٹو اوربے نظیر بھٹو سے منسلک قرار دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سیاسی حمایت میں یہ دعوی بھی کر دیا کہ اگر بھٹو یا بے نظیر بھٹو زندہ ہوتے تو اب تک مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا۔ایسا دعوی کرتے ہوئے وہ ہندوستانی حکومتوں کے روئیے کو سراسر نظر انداز کرتے نظر آئے۔اپوزیشن لیڈر نے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے مرحوم والد کی بھی تعریف کی۔اس کے بعد انہوں نے ' میاں محمد نواز شریف کو نریندر مودی کا دوست قرار دینے کا '' سیاسی فتوی'' جاری کیا او ر اپنی سمجھ کے مطابق، نواز شریف کے دور حکومت کو کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی سے تعبیر کیا۔اپوزیشن لیڈر نے دعوی کیا کہ آزاد کشمیر اسمبلی کے گزشتہ الیکشن غیر منصفانہ تھے لیکن انہوں نے اسمبلی کے چلتے رہنے کے لئے اسے قبول کیا۔واضح رہے کہ آزاد کشمیر میںپیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے وقت موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے بھی اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اس الیکشن کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔چودھری یاسین نے اپنی تقریر میں نواز شریف کے ساتھ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور ان کی حکومت کی تضحیک میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور ان کے خلاف ''مخالفت برائے مخالفت'' کے انداز میں ہر طرح کے الفاظ استعمال کئے۔انہوں نے اپوزیشن کو ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے کی بات کی،چند سرکاری محکموں کے ملازمین کے احتجاج و ہڑتال کا ذکر کیا،لوڈ شیڈنگ ، پراپرٹی ٹیکس اور مہاجرین مقیم پاکستان کی آباد کاری کی بات کی۔اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران دو رتین مرتبہ تلخی کا ماحول پیدا ہوا اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ اپوزیشن لیڈر کے اس انداز پر سپیکر اسمبلی کی طر ف سے بھی ناگواری کا اظہار سامنے آیا اور انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کا احساس کئے جانے کی تلقین کی۔ مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے یوم یکجہتی کے حوالے سے منعقدہ مشترکہ اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کے غیر مناسب طرز عمل کے اظہار کی ذمہ داری یہ کہتے ہوئے حکومت پر عائید کرنے کی کوشش کی کہ گزشتہ دو سال کی اسمبلی کاروائی میں ہونے والی تقاریر دیکھی جائیں۔ یعنی ان کے نزدیک گزشتہ تقریبا دوسال کے دوران اسمبلی اجلاسوںمیں ہونے والی مخالفانہ تقاریر کا تقاضہ یہی تھا کہ حریت پسند کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے منعقدہ آزاد کشمیر اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس میں کشمیر کاز کو سیاسی عناد بازی سے آلو دہ کر دیا جائے۔

اپوزیشن رہنمائوں کی طر ف سے کشمیریوں سے یکجہتی کے الفاظ استعمال تو کئے گئے لیکن ان کے طرزعمل میں کشمیریوں سے یکجہتی کا احساس و اظہار نظر نہیں آ سکا۔ کسی اپوزیشن رہنما نے کشمیریوں سے پاکستان کے اظہار یکجہتی کے عملی تقاضوں کی بات نہیں کی۔کسی اپوزیشن رہنما نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ مختلف حکومتوں کے باوجود آخر اسٹیبلشمنٹ کی کشمیر پالیسی ہے کیا؟ کسی اپوزیشن رہنما نے پاکستان کی کشمیر پالیسی کو موثر بنانے کے اقدامات کی بات نہیں کی،کشمیریوں کے المناک مصائب پر توجہ دیئے جانے کی بات نہیں کی، آزاد کشمیر حکومت کے کشمیر کاز کے حوالے سے کردار کی بات نہیں کی،کشمیر کاز اور مقامی امورکے حوالے سے آزاد کشمیر حکومت کو با اختیار اور ذمہ دار بنانے کی بات نہیں کی۔ آزاد کشمیر کے اپوزیشن رہنمائوں نے اپنی اپنی جماعتوں،علاقوں اور قبیلوں کی نمائندگی تو بھر پور طور پر کی ہو گی لیکن آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان کے طور پر مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی نمائندگی کی کوشش تو دور اس کا احساس بھی دیکھنے میں نہیں آ سکا۔کشمیریوں سے یکجہتی اور ان کے قربانیوں کا رسمی طور پر مختصر ترین ہی ذکر کیا گیا۔ہاں بھر پور بات کی گئی لیکن مخالفت برائے مخالفت اورسیاسی عناد بازی کی ۔مقبوضہ کشمیر کے بارے میں تھوڑی بہت اگر کسی نے بات کی تو وہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے ہی کی۔مختصر یہ کہ اپوزیشن کی طرف سے اس اسمبلی اجلاس میں پاکستان کے سامنے کشمیریوں کی نمائندگی کرنے کا ایک اچھا موقع تھا لیکن انہوں نے اسے اپنی جماعتی سیاست کی عناد بازی کی نذر کر نا زیادہ ضروری تصور کیا۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی تقریر میں کہا کہ تمام سال سیاست کرتے رہیں لیکن یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ہم سب کو اکٹھا ہونا چاہئے۔نکتہ چینی چلتی رہتی ہے لیکن کشمیر کے مسئلے پر اکٹھے رہیں اور ان قوتوں کا مقابلہ کریں۔انہوں نے کہا کہ آپ ایک غیور قوم کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔کشمیر کے معاملے پر اکٹھے رہیں، اگر آپ بٹے ہوئے رہیں گے تو کشمیر کا معاملہ یونہی sufferکرے گااس کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں بات مسئلہ کشمیر کی ہے اور آپ حضرات نے ہی اسےٍ زندہ رکھنا ہے ،اور اپنے عمل سے زندہ رکھنا ہے ۔وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کو اس وقت کے حکمران نے امریکی اورانڈین ایجنٹ کہا ۔ ان کا ایک پولیٹیکل ایجنٹ کے ایچ خورشید تھااور دوسرا شیخ مجیب الرحمان تھا۔یہیں ایک سابق وزیر اعظم بیٹھے ہیں جنہوں نے سابق وزیر اعظم ذالفقار علی بھٹو کو سیتا رام کہا تھا اور آج وہ اکٹھے ہیں سارے۔یہ بھی کہا گیا کہ وہ1957تک ہندوستان کی شہریت کے لئے کیس لڑ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ جو شخص موجود نہ ہو تو آپ اس کا نام لے کر اس کے خلاف بات نہیں کر سکتے کہ اس کے پاس جواب کا حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ محبوبہ مفتی کا '' ریڈ کارپٹ'' استقبال کس نے کیا تھا؟کس نے کہا تھا کہ کشمیریوں،مجاہدین کی بندوقوں کو زنگ لگے،حریت کانفرنس سے پوچھیں کہ ان کے دل پہ کیا گزری تھی۔انہوں نے کہا کہ 51ء میں میرے والد ،آپ کے والد پر ہم سب پر الزام لگے تھے کہ یہ پاکستان دشمن ہیں،یہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں کلچر ہے کہ مخالف کو کسی دشمن ملک کا یجنٹ قرار دے دیا جائے ۔کوئی کسی کا ایجنٹ نہیں ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 318775 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
14 Feb, 2018 Views: 485

Comments

آپ کی رائے