حصّہ

(فائزہ شیخ, Karachi)

آپا کچھ دنوں سے سعدیہ کے پاس رکی ہوئی ہیں ۔۔۔آج دونوں نے مل کر بازار جانا تھا سعدیہ بہت کم کسی بچت بازار جایا کرتی تھی جب کہ آپا نے اپنے ماہ و سال کھینچ تان کر گزارے تھے اسلئے انکی اولین ترجیح ہفتے کے بچت بازار ہیں ۔بقول آپا " جو چیز مہنگے بازاروں میں ملتی ھے وہی سستے بازار میں آدھی قیمت میں مل جاتی ھے"
سعدیہ اور آپا دوپہر میں بازار روانہ ہوئی ۔۔بازار چونکہ نزدیک ھی تھا اسلئے پیدل چلنے کا سوچا ۔۔بازار داخل ہوتے ھی سعدیہ کی نظر کچڑے کے ڈھیر پر پڑی جہاں باقاعدہ رہائشی علاقہ بھی تھا ۔۔
"اللّه توبہ ۔۔آپا یہ دیکھئے یہ ھے ہمارے لوگ اور انکا کام ۔۔گھر صاف کرکے کوڑا باہر پھینک دیا وو بھی ایسی جگہہ جہاں ہفتے میں دو سے تین دن بازار لگتا ہے ۔۔"
ارے سعدیہ تم بھی بس۔۔نظرانداز کرو ۔۔ہمیں کیا اگر یہ لوگ کچڑا باہر پھینکتے ہیں چلو ہمیں جو لینا ہے وہ دیکھتے ہیں۔۔بازار میں سعدیہ کا دل و دماغ حاضر نہیں تھا وہ آپا کی خریداری میں مدد کرتی رہی اور جائزہ لیتی رہی کے کچھ لوگ زمین پر بھی سبزی بچھا کر بیٹھے ہیں ۔۔ایک بزرگ شخص بمشکل چل رہے تھے ہاتھ میں بچوں کہانیوں کی کتابیں ۔۔کچھ رنگین قلم اور ڈرائنگ لئے ہر ایک سے کہہ رہے تھے لے لو ۔۔لوگ انکو حقارت سے دیکھتے گزر رہے تھے ۔۔کوئی چلتے ہوئے دھکا لگا گیا..
‎.ہائے اللّه ۔۔سعدیہ کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا وو تیزی سے انکی طرف بڑھی ۔ لوگوں نے مل کر انکو اٹھایا تھا ۔۔ارے بابا گھر پر بیٹھو نا جب چل نہیں سکتے ۔۔کسی نے فقرہ کسا۔۔ہاں بابا جی ۔۔خوامخواہ مر مارا جاؤگے ۔۔کسی اور نے بھی ساتھ دیا ۔۔۔
‎شرم آنی چائیے آپ لوگوں کو ۔ وو دھاڑی تھی
‎۔ایک کمزور ۔ اور شرمندہ انسان کی مدد کرنے ک بجاۓ آپ لوگ ان پر جملے کس رہے ہیں
‎ ۔ ۔۔ارے بیبی ۔۔تم کون ہو؟؟ ایک خاتون گویا ہوئی ۔۔لگتا ہے کسی ویلفیئر کی ممبر ہے ۔۔کیونکہ انکو ہر جگہہ نمبر بڑھانے ہوتے ہیں""
۔۔"جی نہیں " سعدیہ کا لہجہ سخت ہوگیا
‎‎کسی انسان کی مدد کرنے کے لئے ویلفیئر کا ممبر یا اونر
ضروری نہیں۔۔صرف انسانیت کا ہونا ضروری ہے ۔۔اگر یہ مجبور نہ ہوتے تو کبھی آپ جیسے بے حس لوگوں کے بازار میں اپنی عزت نفس نہ گنواتے" ۔۔
سعدیہ یہ کیا کر رہی ہو ۔۔چلو یہاں سے ۔۔
آپا بھی آن پوھنچی
کیوں آپا ؟؟ کیوں ہم کسی غریب کی مدد کرنے سے پہلے اتنا سوچتے ہیں ؟؟ کیوں ہم۔سوچتے ہیں کہ یہ لوگ مدد کے لائق نہیں ہیں ؟؟ کیوں ہم سمجھتے ہیں یہ لوگ ڈرامے باز ہیں ؟؟آپا سعدیہ کا منہ دیکھ رہی تھی کیوں کہ یہ انکی سمجھ سے باہر تھا کے تحمل مزاج سعدیہ یو سر بازار لوگوںسے مخاطب ہوئی ھے ۔۔
"ہاں تو اور کیا بیبی ۔۔یہ سارے ناٹک ہیں ان۔لوگوں کے ۔۔بس مجبوری کے ڈھونگ رچاتے ہیں ۔۔" نزدیک کھڑی خاتون نے اپنا تجزیہ پیش کیا سعدیہ کی آنکھیں کبھی بابا جی کو دیکھتی کبھی لوگوں کی نظروں کو۔۔ سعدیہ نے اپنے پرس سے ہزار کے چند نوٹ نکال کر بابا جی کے ہاتھ میں رکھ دے
"یہ لیجئے ۔۔یہ ساری چیزیں میں آپ سے خرید لیتی ہوں۔۔ لائیے "۔۔سعدیہ نے نیچے بکھری کتابیں اٹھاننے میں مدد کی۔لوگ شرمندہ ہوکر ایک ایک کرکے اس ہجوم سے دور ہوگئے ۔۔آپا نے ایک دکاندار سے مدد کا کہا
" اے بھائی اگر شرم آ چکی ہو تو اس بابے کو رکشے میں بیٹھا دو عجیب لوگ ہو تم لوگ بھی " دکاندار بھی شرمندہ ہوکر آپا کے حکم کی تعمیل کرنے لگا ۔۔سعدیہ کتابیں اٹھا کر واپسی کی طرف تھی ۔۔
آپا بھی سعدیہ کے پیچھے ہوگئی ۔۔۔گزرتے ہوئے اسکی نظر کچڑے کے ڈھیر پر بیٹھے بچے پر پڑی ۔۔
بات سنو ۔۔۔سعدیہ نے اسے مخاطب کیا ؟؟
وہ بچہ آواز سن کر انجان ہوگیا ۔
۔بات سنو کچھ دینا ھے تمہیں۔۔
وو بچہ شاید 11 12 سال کا ہوگا آپا سوچ رہی تھی کہ اب سعدیہ یہاں کیوں کھڑی ہوگئی ھے ۔۔ویسے انکو معلوم تھا کہ انکی یہ بھابھی ذرا مختلف ہیں ۔ جتنی اسکی تعلیم ہے وہ اس پر عمل بھی کرتی ھے ۔۔
اب وہ بچہ اسکے سامنے آگیا ۔۔گورا سا ملا کچیلا سا ۔۔سنہرے بال گدلے ہوگئے تھے ۔۔
پڑھنا آتا ھے ؟؟
جی ؟؟
کیسے پڑھتے ہو ؟؟
جو قرآن پاک پڑھ لیتا ھے اسکو اردو بھی تو آتا ھے باجی ۔۔گہری ہری آنکھوں سے اعتماد چالاک رہا تھا ۔۔
تو یہ لو ۔۔یہ سب تم رکھ لو ۔۔پڑھنا انکو۔۔۔سعدیہ نے بابا جی سے خریدی ہوئی تمام چیزیں اس بچے کودیدی ۔۔آپا یہ منظر دیکھ کر مسکرا رہی تھی کیوں کے سعدیہ نے آج انھیں بھی سکھایا تھا پہلا قدم شرط ہے
۔۔اور پھر وہ رکی نہیں۔۔گھر آکر آپا نے سعدیہ نے کہا ۔۔سعدیہ ویسے کیا تمہیں پتا ھے کے تم نے آج جنکی مدد کی ہے وہ اسکے مستحق تھے ۔۔
آپا ۔۔مستحق تو پھر ہم بھی ان آسائشوں کے نہیں۔۔ان رحمتوں کے نہیں ۔۔کیونکہ ہمیں زمین والوں پررحم نہیں آتا ۔۔ہم کون ہوتے ہیں آپا ؟؟ یہ جج کرنے والے کے کون مستحق ھے اور کون نہیں ۔۔کونسے ماں باپ اپنے بچوں کو جان بوجھ کر کچڑے کے ڈھیر پر بیٹھانا پسند کرینگے ؟؟وہ مجبور باپ ۔۔ جو آرام کے دنوں میں بھی صرف اسلئے کام کر رہا ھے تاکہ اسکے گھر کا چولھا جلتا رہے ۔۔ بہت دکھ ہوتا ھے مجھے یہ حالات دیکھ کر۔ ۔
مگر تم اکیلی حالات نہیں بدل سعدیہ ۔۔۔آپا کو سعدیہ کو سوچ پر رشک ہورہا تھا
بالکل جانتی ہوں آپا ۔۔مگر میں صرف اس تبدیلی میں اپنا حصّہ ڈال رہی ہوں ۔۔میری نیت اور ارادے صاف ہیں تو مجھے اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہے کے میں اکیلی ہوں ۔۔حالات خود نہیں بدلتے ۔۔پہلا قدم شرط ہوتا ہے ۔۔بوند بوند مل کر ھی تو۔ساگر بنا کرتے ہیں ۔۔ھے نا ؟؟
ہمیشہ کی طرح سعدیہ لاجواب کر چکی تھی آپا کو۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: فائزہ شیخ

Read More Articles by فائزہ شیخ: 9 Articles with 4295 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Feb, 2018 Views: 698

Comments

آپ کی رائے