غربت کی چکی میں

(Syed zeeshan Ali shah, Karachi)
کاش کے کوئی آئے،

مجبور لوگ

’’نہیں بھائی آج آٹا نہیں ملے گا پہلے کا ادھار چکتا کرو ‘‘ یہ دوکاندار کے الفاظ تھے جو حسن کے ذہن میں گھوم رہے تھے جبکہ اس کا چار سال کا بیٹا بلک بلک کے رو رہا تھا ، حسن کی بیوی تو نوکری چھوٹنے کے دوسرے دن ہی اسے چھوڑ کے چا چکی تھی ، اس کی بڑی بیٹی سانیہ کو فوت ہوئے آج ایک سال ہو چکا تھا ۔۔ یہی وجہ تھی حد سے زیادہ ہی اداس تھا اور گہری سوچوں میں گم تھا، آنسوں اس کی داڑھی میں گر کر موتیوں کا سماں باندھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن آج سے 6 مہینے پہلے جامشورو کی ایک فیکٹری میں کام کر رہا تھا اس کی دو بیٹیاں تھی اور ایک بیٹا تھا جو چار سال کا تھا ، بڑی بیٹی آٹھویں میں تھی جبکہ چھوٹی بیٹی چھٹی میں پڑھتی تھی ، حسن کی بیوی ایک مقامی دیہات سے ہی تھی ۔۔ ایک سال پہلے اس کی بڑی بیٹی کو اچانک بخار ہوا ، ڈاکٹروں نے بتایا ڈینگی ہے اسے کراچی لے جاؤ ، حسن وہاں لے گیا ڈاکٹروں نے کہا بھئی 50 ہزار لگے گا ، حسن نے اپنی بیوی کے کچھ زیورات تھے وہ بیچ ڈالے اور بیٹی کے علاج کے لیے پیسہ دے دیا ، ابھی ہسپتال میں ہی تھی کی ڈاکٹروں نے 50 ہزار اور مانگ لیے اس نے اپنی فیکٹری سے رابطہ کیا لیکن سیٹھ نے دینے سے انکار کر دیا ، باقی رشتہ داروں سے قرض لیا،سامان بیچا اور بمشکل 12 ہزار اکٹھے کیے ، لیکن ڈاکٹروں نے اس کی بیٹی کی لاش تھما دی بولے کہ وائیٹ سیل ختم ہو گئے تھے ، اس نے 12 ہزار کی تجہیز و تکفین کر دی ، اس کے بعد وقت گزرتا گیا ، حسن کی بیوی بھی ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی لیکن مہنگائی کی وجہ سے خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا پھر ایک دن گیس شٹ ڈاؤن اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے سیٹھ نے 500 مزدور فوری فارغ کر دیئے یہ بھی انہی میں تھا ، حسن بیروزگار ہو کہ گھر پہ آ گیا ، دو مہینے اس کہ بیوی بیمار رہی ، ہی اس کا علاج نہیں کروا سکا بس دیسی ٹوٹکے اور اسپرین دیتا رہا، اس کو سسر ایک دن دیکھنے آیا بیٹی کی حالت برداشت نہ کر سکا جب دیکھا کہ بیٹی کے گھر بھوک کے لالے پڑے ہیں تو حسن کو خوب لعن طعن کی اور بیٹی کو ساتھ لے گیا ، یہ کیا کرتا وہ روزانہ صبح مزدوری تلاش کرنے کے لیے نکل جاتا دن بھر زلیل ہوتا اور دھکے کھاتا ،کبھی کام مل جاتا کبھی خود بھی بھوکا سو جاتا اور بچے بھی رو دہو کے چپ ہو جاتے ، حسن نے گھر کا سارا سامان بھی بیچ ڈالا تھا ، آج اس کے گھر میں کوئی چیز نہیں تھی جو کہ وہ بیچ کے کچھ آٹا خرید کے اپنے بچوں کے لیے لاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے گھر میں ہر شام ہی شام غرباں تھی ۔۔۔۔۔۔۔

کافی دیر یوں ہی گزر گئی ، پھر اچانک حسن اپنی گہری سوچوں سے واپس آیا اس کی 8 سال کی بیٹی رباب سو چکی تھی جبکہ اس کا 4 سالہ بیٹا بھی روتے ہوئے نیند کی وادی میں جا چکا تھا ۔۔۔۔ اس نے اپنے بچوں کو پیار سے دیکھا اور گھر سے باہر نکلتے ہی اندھیرے میں غائب ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوچئیے نجانے کتنے حسن آج ایسی صورتحال سے دوچار ہیں کہ ان کے بچوں کو بھوکا سونا پڑتا ہے ، نجانے کتنے بیروزگار اب تک خودکشیاں کر چکے اور دوسری طرف ہمارے امراء جن کی اولاد منہ میں سونے کا چمچے لے کے پیدا ہوتی ہے اور جن کے کتوں کے لیے بھی باہر سے ڈاگ فوڈ امپورٹ کیا جاتا ہے کیوں ۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed zeeshan Ali shah

Read More Articles by Syed zeeshan Ali shah: 25 Articles with 23886 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Feb, 2018 Views: 1595

Comments

آپ کی رائے
حق لینے کے لیئے رونا نہیں لڑنا پڑتا ہے
By: سلیمان, Quetta on Feb, 23 2018
Reply Reply
0 Like