بقا

(Irma Moin, Sukkur)

بقا کے معنی کیا ہیں؟ زندہ رہنا، باقی رہنا، کسی حادثے سے گزر کر سروائیو کرنا؟

ہم اکثر سنتے ہیں اپنی بقا کے لیے لڑو، زندہ بچ جانے کے لیے لڑو۔

بعض اوقات ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ آخر یہ بقا ہے کیا، جسکے لیے ہمیں لڑنا ہے۔ صرف زندہ رہنے کو تو"بقا" نہیں کہتے،صرف بچ جانے کو تو "بقا" نہیں کہتے۔

اگر بالفرض ہم کسی حادثے سے بچ جائیں لیکن اپنے کسی عزیرتر کو کھو دیں، جسکے بغیر جینا ہم گوارا نہ کر سکیں، جسکے بغیر زندگی موت سے بدتر ہو یا ہم اپنے جسم کا عضو کھو دیں یا ساری زندگی کے لیے جسم کا کوئی حصہ مفلوج ہو جائے لیکن پس اگر ہم زندہ ہیں تو کیا یہ ہماری بقا ہے؟

یا اگر ہماری زندگی کا صرف ایک ہی مقصد ہو اور ہم اپنا جی جان مار کر بھی اس مقصد میں ناکام ہوجائیں اور ہماری زندگی مایوسیوں کے اندھیروں میں گھری ہوئی ہو اور ہم پھر بھی زندہ ہوں۔۔تو کیا صرف زندہ ہونے کا مطلب ہی سروائیو کرنا ہے؟

میرے نقطہِ نظر سے نہیں۔۔۔!
صرف زندہ رہنے کو "بقا" نہیں کہا جا سکتا، کوئی کسی حادثے سے بچ گیا تو یہ اسکا نصیب تھا اسکی بقا کی جنگ نہیں۔۔۔۔!

اسکی بقا تو تب ہوگی جب وہ اپنی یادداشت سے تکلیف کے ہر نٌقوش مٹانے میں کامیاب ہو جائے، جب وہ خود کو ایک حبس زدہ زندگی سے ایک خوشگوار اور پر سکون زندگی گزارنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کر سکے ، جب کسی پیارے کو کھو دے تو اس کی یاد اسکے لیے تکلیف کا باعث نہ بنے بلکہ اسے یہ سوچ کر طمانیت کا احساس ہو کے اس نے انکے ساتھ ایک حسیں وقت گزارا ہے۔۔۔اس مثبت سوچ کا نام ہے بقا۔۔۔!

جب وہ اپنے جسم کے ناکارہ حصے کو دیکھے تو اسکے دل میں شکوہ نہ ہو کہ اس نے اپنے جسم کا حصہ کھو دیا ہے بلکہ احساسِ تشکّر ہو کہ اللّٰہ نے اس سے زندگی جیسی خوبصورت نعمت سے محروم نہیں کیا کیونکہ زندگی سے زیادہ قیمتی شے تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔

زندگی ہے تبھی تو دنیا کے سبھی رنگ ہیں، زندگی ہے تبھی تو مقاصد ہیں،اور حقیقتاً مقاصد ہیں تبھی تو زندگی ہے۔۔۔!

جب ہم زندگی کے کسی مقصد میں ناکام ہوجاتے ہیں تو وہ اختتام نہیں ہوتا، آغاز ہوتا ہے ایک نئے مقصد ایک نئے جذبے کا۔مقصد میں ناکامی سے مراد زندگی کا ختم ہوجانا نہیں ہے بلکہ مقصد کے تبادلے کا وقت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مقصدِ حیات بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور درحقیقت یہی زندگی ہے جو رٌکتی نہیں ہے، کہیں بھی، کسی بھی موڑ پر نہیں، کسی آنے جانے سے نہیں، کسی بھی حالت میں نہیں، بس اپنی صورت بدل بدل کر پھر سامنے آکر کھڑی ہو جاتی ہے اور آسکا سامنا کرنا پڑتا ہے یہی سوچ کر کہ ابھی تو اور جینا ہے اور جب اور جینا ہے تو رٌکا ہی کیوں جائے۔۔۔۔۔جب ایک راستہ بند ملے تو دوسرے کا رخ کر لینا چاہیے کیونکہ زندگی تو مسلسل چلتے رہنے کا نام ہے۔

اسی کو تو بقا کہتے ہیں،اپنی بقا کے لیے کسی اور سے پہلے خود سے جنگ لڑنی پڑتی ہے،خود سے جیتے بغیر بقا حاصل ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔

بے مقصد زندگی صرف"گزارنے" کا نام ہے "بقا" کا نہیں۔۔
تو جب تک لڑ سکتے ہو لڑو۔۔۔۔!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irma Moin

Read More Articles by Irma Moin: 7 Articles with 2825 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Feb, 2018 Views: 440

Comments

آپ کی رائے