وداعی کا بوجھ

(Mona Shehzad, Calgary)

آج کسی کی فرمائش پر یہ کہانی لکھی ہے. میں جب بھی قرآن پاک پڑہتی ہوں اور یہ آیت نظر سے گزرتی ہے تو جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے
"اور جس دن دبائی ہوئ بیٹی پوچھے گئ کہ میرا کیا قصور تھا. "
للہ یہ بہویں بہی بیٹیاں ہیں اگر سوچیں سمجھیں تو شاید بیٹیوں اور بہوؤں میں کوئی فرق نہیں.دونوں ہی پیار اور مان کی حق دار ہیں. گہر کی روشنی ان ہی کے دم سے ہے.
"وداعی کا بوجھ "
آج حسن کی بیٹھک میں شام غریباں کا سا سماں تھا، لگتا یوں تہا جیسے کسی قریبی عزیز کو کندھا دے کر آئے ہیں، چاروں دوست لب گوں بیٹھے تھے، لگتا نہیں تھا کہ یہ وہی بیٹھک اور وہی دوست ہیں،جن کی ظرافت اور دوستی اس بیٹھک کا خاصہ تہی. آخر کار نبیل نے خاموشی کے دریا میں پہلا کنکر پہینکا، اور حسن کو مخاطب کر کے کہا :
"یار، ہمیں تو خوش ہونا چاہیے کہ سارے کام خیریت سے ہوگئے اور ہماری چہوٹی بہن عزت سے اپنے گھر کی ہوگئ."
یہ جملہ سن کر حسن ایسے بلک بلک کے رویا کہ اظہر اور علی کی آنکھیں بھی چہلک پڑی، حسن بےاختیار چلایا :
وہ میری ایم اے پاس، زہین فطین بہن بیہ کر نہیں لے کر گئے بلکہ وہ ہماری مجبوریوں کا سودا کر کے، گاڑی، زیورات، فریج، ٹی وی، فرنیچر اور مستقبل کی لامحدود، نہ ختم ہونے والی سرمایہ کاری کرکے گے ہیں."
"میری خوددار بہن کی دین داری،سلیقہ مندی اور تعلیم کی کوئی وقعت نہیں ہے بلکہ اس کے ماں باپ اور بھائی کی دی ہوئی چیزوں کی زیادہ وقعت ہے. اللہ جانے ابھی اور کتنی روایات کا سہارا لے کر یہ لوٹ مار ساری زندگی چلنی ہے. جس آدمی کو پہلی رات سونے کے لئے بھی سسرال سے آیا ہوا پلنگ چاہیے، جو اپنی شریک حیات کے لیے اپنا کمرہ تک اپنی کمائی سے فرنش نہیں کروا سکتا، وہ میری بہن کو عمر بھر کیا دے سکے گا؟
منہ رکھنے کے لیے اوپر اوپر سے صرف ایک دفعہ یہ کہہ دینا کہ ہمیں جہیز نہیں چاہیے اور ساتھ یہ بھی بتانا کہ ہماری برادری بڑی ہے تو پہناونیوں کے جوڑے کم از کم چار سو کے لگ بھگ ہونے چاہیے اور ساتھ یہ بھی بتانا کہ برات کے ساتھ آنے والے ہزار مہمان جہیز دیکھنیگے اور بارات کی واپسی پر کہانا ضرور ہمرہ ہونا چاہیے تاکہ گھر جا کر باقی رسومات آرام سے کی جاسکے. یہ کیسی شرافت ہے؟
اظہر نے اٹھ کر حسن کو گلے سے لگا لیا اور بےاختیار بولا
"بس چپ کر جا، میں نے گڑیا کی شادی کی وجہ سے زکر نہیں کیا، میری آپی کو ان کے سسرال والوں نے نکال دیا ہے :
"کیونکہ میرے بہانجے کی پیدائش پر ہم نے ان کی سسرال والوں کے کپڑے جو کہ سو کے قریب بنتے ہیں اور ساس نند کے لئے کوئی زیور نہیں بہیجا تھا چونکہ ان لوگوں کے مطابق یہ ان کے گھر کی پہلی خوشی تھی اور اس کو ہم نے پورا نہ کیا اسی لئے آپا اب اس وقت تک واپس نہیں جاسکتی جب تک یہ سب نہ بہجوایا جائے.تم لوگ تو جانتے ہو کہ آپا کی ڈلیوری کے بہی سارے اخراجات میں نے دیے تھے، میری چار بہنیں اور بہی ہیں ،جن میں سے ایک کی شادی اگلے مہینے ہے.
میں کس طرح ان خودساختہ رسومات کو پورا کروں؟
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں ایک ایسے سود در سود قرض کی ادائیگی میں مصروف ہوں جس کی بہرپائ میری ذندگی میں ممکن نہیں. میرا گناہ صرف اتنا ہے کہ میں پانچ خوبصورت، سلیقہ مند ،پڑھی لکھی اور دین دار بہنوں کا اکیلا بہای ہوں."
بیٹھک میں ایک دم سکوت طاری ہوگیا. صرف چار بوڑھے نما جوانوں کے جہکے ہوے کندھے اور سر تہے. ان کا صرف ایک گناہ تہا کہ وہ بہنوں کے پیارے بھائی تھے. بہر ایک دم سے گرج چمک کر بارش شروع ہوگئی شاید آسمان کا دامن بھی آنسوؤں سے بہر گیا تھا.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175519 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
18 Feb, 2018 Views: 657

Comments

آپ کی رائے