بھارت : اقلیتیں حکمران جماعت کے نشانے پر

(Asif Khursheed Rana, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے حالات دن بدن بدترین رخ اختیارکرتے جار ہے ہیں ۔بھارت میں انسانی حقوق کے حوالہ سے 2017کی رپورٹ خطرناک منظرنامہ پیش کر رہی ہے ۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت سرکار اقلیتوں پرحملے روکنے میں ناکام ہو چکی ہے ۔ حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما ہندو مذہب کی ترویج کرتے نظر آتے ہیں ۔کلکتہ میں مسلمانوں کے ایک خاندان کے چوودہ افراد کو زبردستی ہندوں بنانے کے واقعہ نے نہ صرف اس رپورٹ کی سچائی واضح کر دی بلکہ بھارت سرکار کے چہرے سے سیکولر کا نقاب بھی اتار دیا۔دو ماہ قبل بھی آگرہ کے علاقے میں 50مسلمانوں کو ایک ساتھ جبری مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا تھا جس پر حکمران جماعت کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم بعد میں ان خبروں کو دبا دیا گیا ۔ اسی طرح گزشتہ سال کے آخر میں گجرات آباد کے دارالحکومت احمد کے ایک گاؤں میں بھارتی انتہا پسند گروہوں کی جانب سے ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس کے بعد 2سو سے زائد مسیحی افراد کو دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا ۔گجرات کے وشوا ہندو پریشدرہنما اجیت سولنکی نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے گلے میں پہنے مقدس نشانات کو آگ میں پھینک دیں جس کے بدلے انہیں نئے نشانات دیے گئے جن پر ہندو بھگوان رام کی تصاویر موجود تھیں ۔گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک مسیحی پادری نے بھی اس کی تصدیق کی کہ ان کیے ہم مذہب افراد کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ آگرہ سے تعلق رکھنے والے افراد سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اپنی مرضی سے مذہب اسلام ترک کر کے ہندو مذہب اختیار کیا ہے تو ان کا جواب نفی میں تھا ان کا کہنا تھا کہ ان کی غربت کے باعث ان کو دھوکے کے ساتھ یہ سب کرنے پرمجبور کیا گیا ۔ زبردستی ہندو مذہب اختیار کروانے کے لیے انتہا پسند گروہوں نے مودی سرکار سے بھی مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے ان کو قانون سازی کرنا چاہیے ۔ اس قانون سازی کے مطالبہ کی پکار لوک سبھا میں بھی پہنچ چکی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید تنقید بھی کی کہ اس طرح سے بھارت کا سیکولر آئین تباہ ہو رہا ہے لیکن مودی سرکار اس سلسلہ میں کچھ کرنا نہیں چاہتی کیونکہ یہی وہ انتہا پسند گروہ تھے جن کی حمایت سے وہ اقتدار کی کرسی تک پہنچے اب ان کی مخالفت کرکے وہ اپنی کرسی نہیں گنوانا چاہتے۔گجرات کے انتخابات بھی انہوں نے اسی بنیاد پر جیتے ہیں اور پھر سے وہاں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔ اس موقع پر وہ اپنی جماعت کے گروہوں کے خلاف کیسے کوئی اقدامات کر سکتے ہیں ۔

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ آئے روز بھی میڈیا کی زینت بن رہا ہے لیکن بھارتی سرکار اس پر کسی قسم کا ردعمل دینے یا اس کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے ۔ بھارتی جنتا پارٹی کے حلیف گروہ جن میں بڑا نام وشوا ہندو پریشد اور راشٹریہ سیوک سنگھ کا ہے ملک بھر میں اقلیتوں کا جینا محال کیے ہوئے ہیں ۔ وشواہندو پریشد کے رہنمایہ اعلان بھی کر چکے ہیں کہ بھارت ہندوؤں کا ملک ہے اگر یہاں رہنا ہے تو ہندو بن کر رہنا ہوگا ۔ ان انتہا پسند ہندو تنظیموں کا مسلمان بالخصوص نشانہ ہیں ۔ عالمی اداروں کے مطابق گؤ رکشا کے نام پر گزشتہ سال درجنوں مسلمان ان انتہا پسند ہندؤوں کا نشانہ بنے ۔گزشتہ سال جولائی میں راشٹریہ سیوک سنگھ نے 5ہزار ہندونوجوان بطورمذہبی سپاہی بھرتی کرنے کا اعلان کیا جن کو عسکری تربیت دی جائے گی ۔ ’’لو جہاد‘‘ اور گائے کے تحفظ کے لیے یہ نوجوان ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کر سکیں گے ۔ہندو تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسلمان نوجوان بہت سی ہندو خواتین کو شادی کے نام پر مسلمان کررہے ہیں جسے ’’لو جہاد ــ ‘‘ کا نام دیا گیا ۔اس نام کے تحت ممبئی میں انتہا پسند جنونی ہندؤوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے ۔کیرالہ کی ایک عدالت میں ایسے ہی ایک کیس کی سماعت کے وقت عدالت کا یہ حکم موجود ہے کہ بھارتی پولیس ایسے افراد کا سراغ لگائے جو ایک مسلمان نوجوان انیس سے شادی کرنے اور اسلام قبول کرنے والی لڑکی سروتھی کو دوبارہ ہندو مذہب میں آنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں ۔ اس نوجوان لڑکی کو اس کے گھر والوں نے ایک یوگا سنٹر میں بند کر دیا جس پر عدالت نے اسے رہا کروانے کا حکم جاری کیا ۔ لیکن اس کے باوجود کیرالہ پولیس کی جانب سے ان والدین اور اس کے عزیز و اقارب جو لڑکی پرتشدد کے مرتکب تھے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی ۔ گزشتہ سال اس طرح کے چالیس کے قریب واقعات رپورٹ کیے گئے جن میں دس مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔ گجرات اور احمد آباد ، اتر پردیش میں یہ تعداد بہت ذیادہ ہے سرکاری حمایت ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات رپورٹ ہونے سے رہ جاتے ہیں ۔ گجرات احمد آباد کے انتخابات جیتنے کے بعد وہاں کی صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے ۔انتہا پسند بی جے پی جماعت کے جیتنے اور حکومت بنانے کے بعد انتہا پسند تنظیموں کو پھر سے ایک نئی زندگی مل گئی ہے ۔ ان علاقوں میں نوجوان انتہا پسند دندناتے پھر رہے ہیں کہ سرکاری پولیس بھی ان کے خلاف کوئی بھی اقدام کرنے سے گریز کرتی ہے ۔بلکہ بہت سی جگہوں پر تو سرکاری اہلکار کھڑے تماشہ دیکھتے ہیں اور جب تک کوئی ہجوم کسی مسلمان کو تشدد کے ذریعے شہید نہ کر دے اس وقت تک کسی کو مداخلت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔بھارت میں مودی سرکار کی قیادت میں اس کا سیکولر نقاب مکمل طور پر اتر چکا ہے ۔ کشمیر میں جس طرح نہتے اور معصوم بچوں کو پیلٹ گنوں کے ذریعے اندھا کیا گیا اور جس طرح وہاں آزادی مانگنے والے نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے اسے دنیا میں دیکھا جا چکا ہے ۔گزشتہ سال پہلے دس مہینوں میں ایک سو سے زائد کشمیری نوجوانوں اور بچوں کو شہید کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ اوسطاً ایک ماہ میں دس سے زائد افراد کو شہید کیا جا رہا ہے جبکہ درجنوں زخمی ہورہے ہیں ۔اتر پردیش میں ان انتہا پسند ہندوؤں کا نشانہ کم ذات کے ہندو دلت ہیں ۔اتر پردیش میں گزشتہ سال 40سے زائد دلتوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے ۔اسی طرح پنجاب میں سکھ کمیونٹی بھارت انتہا پسند وں کا نشانہ ہیں ۔

اگرچہ بھارتی وزیر اعظم نرنیدر مودی ایسے واقعات کی ہلکے پھلکے انداز میں نفی کرتے ہیں تاہم گجرات کے انتخابات میں مودی خود بھی اپنی تقاریر میں یہی کچھ ارشاد کرتے رہے ہیں ۔ بھارت کے سیکولر ریاست ہونے کا نقاب آہستہ آہستہ سرک رہا ہے ۔دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت کے تمام ادارے حتیٰ کہ عدالتیں بھی انہی انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہیں جس کی بڑی مثال افضل گرو اور اجمل قصاب کا کیس ہے جنہیں انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر سزائیں سنائی گئیں ۔افضل گرو کیس میں تو ججوں نے اعتراف بھی کیا کہ اس کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں ہیں تاہم بھارت کے اجتماعی ضمیر کی خاطر اسے پھانسی دینا ضروری ہے ۔ اس ساری صورتحال میں اقلیتوں کے لیے بھارت میں رہنا ناممکن ہو تا جا رہا ہے ۔ بھارتی مسلمانوں میں پھر سے دوقومی نظریہ بیدار ہو رہا ہے ۔یہی حال دیگر اقلیتوں کا ہے سکھ اپنے لیے الگ ملک کا مطالبہ کر رہے ہیں جو پھر سے زور پکڑ رہا ہے ۔ کشمیر سمیت دیگر تیرہ سے زائد ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں تاہم افسوسناک ہے کہ دنیا کے عالمی انسانی حقوق کے ادارے اس پر ذیادہ شور کرتے نظر نہیں آتے کیونکہ عالمی طاقتوں کے مفادات بھارت کی بڑی منڈی سے جڑے ہوئے ہیں ۔ لیکن شاید اس دور میں اب ذیادہ دیر تک بھارت انسانی جانوں کے ساتھ کھیل نہیں سکتا اور اگر اس نے اپنی روش برقرار رکھی تو پھر جس طرح دنیا میں بھارت کو الگ الگ ریاستوں میں بکھرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Khursheed Rana

Read More Articles by Asif Khursheed Rana: 87 Articles with 32667 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Feb, 2018 Views: 304

Comments

آپ کی رائے