فلمیں اور کہانیاں

(Abdul Jabbar Khan, Rajan Pur)

فلمیں بنانے والے اور کہانیاں لکھنے والے معاشرے کے حقیقی واقعات کو یا کسی فرد و خاندان کے حالات کو ہانی کے انداز میں لکھ کر پیش کرتے ہیں ‘اسی طرح کوئی فلم ساز کہانی کی فلم بندی اس انداز میں کرتا ہے کہ وہ حقیقت ہی لگتی ہیں ۔بعض کہانیاں مصنف تخلیق کرتے ہیں اور کچھ وہ اپنی آپ بیتی بھی بیان کرتے ہیں‘ کہانیوں اور فلموں میں ہر طرح کے کردار پیش کیے جاتے ہیں۔ لکھی ہوئی کہانی تو آگے بڑھتی رہتی ہے کرداروں میں اتار چڑھاؤ، خوشی غمی کے پہلوپڑھنے میں اچھے لگ رہے ہوتے ہیں۔ کہانی پڑھنے والوں کی نسبت کہانی دیکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور ان کہانیوں سے ڈرامے اور فلم بنا کر ہر طرح کے افراد کے لیے پیش کیا جاتا ہے فلم میں دیکھنے والوں کی پسند اور ذوق کا خیال رکھا جاتا ہے -

فلم بنانے والے ہرموضوع پر فلم بناتے ہیں اکثر فلموں کو حقیقت کی طرح پیش کرنے کے ساتھ اس میں خاص کردار ہیرو ہیروین اور ولن کے تو ہوتے ہیں‘ اور ہر سین میں ناظرین کی انٹرٹینمنٹ کا خیال رکھا جاتا ہیں تاکہ دیکھنے والوں کو بوریت کا احساس نہ ہو۔ فلم میں مزاح کے علاوہ کچھ موسیقی کا تڑکا بھی لگایا جاتا۔ کچھ لوگ فلم کو مزاح کی وجہ سے دیکھتے ہیں تو کچھ اس کی بہترین موسیقی کو پسند کرتے ہوئے فلم کو دیکھ رہے ہوتے ہیں -

ہالی وڈ کی مار دھاڑ والی فلمیں چھوڑ کر بالی وڈ اور لالی وڈ کی بات کی جائے تو ان میں موسیقی اور مزاح کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک ہیرو کا ہمیشہ ولن سے پالا پڑتا دونوں کی کش مکش پوری فلم میں جاری رہتی ہے۔ دونوں کا کئی مرتبہ ٹاکرا بھی ہوتا ہے موسیقی والے سین یعنی گانے ہیرو اور ہیروین کے ساتھ بھی ہوتے ہیں تو کبھی ولن کی کسی کامیابی پراس کے لئے ایٹم سونگ بنا کر فلم میں شامل کر دیا جاتا ہے تاکہ ولن اپنی کامیابی کو انجوائے کرے ساتھ ہی اس فلم کو دیکھنے والے بھی موسیقی اور ایٹم سونگ سے لطف اندواز ہو سکیں۔ ہم اکثر فلموں میں دیکھتے ہیں ہیرو اور ولن کا جھگڑا ہیروین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ولن نہیں چاہتا کہ ہیرو ہیروین مل جائے اور ان کا پیار امر ہو تو بس اس بات کے جھگڑے کے گرد ساری فلم کہانی چلتی ہے۔ ہیرو اور ولن دونوں ایک دوسرے پر وار کرتے ہیں لڑائی اور ایکشن سین بھی ہوتے ہیں۔

ولن زیادہ طاقت ور ہوتا اور ہیرو اتنا زیادہ طاقت ور نہیں ہوتا بلکہ ایک عام غریب آدمی ہوتا ہے فلم میں ہیرو اکثر ولن سے روپوش رہتا ہے ہیرو شہر سے دور جنگل یا پھر کسی پہاڑی کی چھوٹی پر جا کر بسرا کرتا ہے پھر تازہ دم ہو کر ولن پر حملہ کرتا ہے تو ولن کے ایک مرتبہ ہوش اڑ جاتے ہیں۔ فلمی کردار میں ولن بہت مضبوط ہوتا ہے اور کردار کے لہذ سے اسے ہر طرح کی سپورٹ حاصل ہوتی ہے اس لیے سب ولن کا ساتھ دے رہے ہوتے ہیں ہیرو بچارہ اکیلا سب کا مقابلہ کر رہا ہوتا ہے سب اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی فلموں میں ولن اپنی چالاکی سے ہیرو کے رشتے داروں اور دوستوں کو بھی ساتھ ملا لیتا ہے بعض فلموں میں کوئی دوسری لڑکی جو ہیرو سے پیار کرتی ہے لیکن ہیرو اسے پسند نہیں کرتا وہ لڑکی بھی ہیرو کی دشمن بن جاتی ہے۔ اکثر ایسی لڑکی کو فلم کے آخر میں احساس ہوتا ہے میں محبت میں ناکامی کی وجہ سے ولن سے جا ملی تھی یہ ولن تو بہت خراب انسان تھا۔ جس کا اظہار بھی کسی سین میں کرلیتی ہے۔ خیر فلم کی کہانیاں ایسے چلتی رہتی ہیں، ولن اپنے دونمبر دھندوں کی وجہ سے دن بدن طاقت ور ہو رہا ہوتا ہے ایسا بھی فلموں میں دیکھایا جاتا ہے -

خیر فلموں کی کہانیاں ایک موڑ پر اختتام پر پہنچتی ہیں۔ ایکشن فلموں میں ہیرو اور ولن کی لڑائی ہوتی ہے تو کچھ فلموں میں بچارہ ہیرو ناکام ہوتا ہے اور کہانی کا فصیلہ دیکھنے والوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن لوسٹوری فلم میں ہیرو کی کامیابی یہ ہوتی ہے پیار کے دشمن ہار مان جاتے ہیں ہیروین ہمیشہ کے لیے ہیرو کی ہوجاتی ہے۔ وہ ہیرو ہیروین کو لے کر اپنی بسائی ہوئی چھوٹی سی پر سکون دنیا میں چلا جاتا ہے۔ جہاں پہلے وہ شہر سے دور اور ولن کی نظروں سے اوجھل پرسکون جگہ پر رہتا تھا۔

ہیروںن جب ہیرو کو مل جاتی ہے تو فلم کا اختتام ہوتا ہے فلم دیکھنے والے سب خوش ہوجاتے ہیں کہ شکر ہے ہیرو کو ہیروین مل گئی حالانکہ فلم کی کہانی میں ہیرو کو ہیروین ملنی ہی تھی پھر بھی سب دیکھنے والے دل سے دعا کر رہے ہوتے ہیں اﷲ کرے ہیرو کو ہیروین مل جائے۔ کہانی فلمی ہی سہی پر سب کو ہیرو کی کامیابی پر حقیقی خوشی ہوتی ہے۔ اب اگر کسی ہیرو کو حقیقت میں ہیروین مل گئی ہے۔ تو کسی کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے لوگ کیوں فلم کے ولن بن رہے ہیں انہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ ہیرو کا بڑا مسلہ حل ہوا اب وہ کسی پہاڑی پر اپنی زندگی خوش خرم گزارے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Jabbar Khan

Read More Articles by Abdul Jabbar Khan: 151 Articles with 76769 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Feb, 2018 Views: 1135

Comments

آپ کی رائے