اظہار رائے، اختلاف رائے، یا تنقید برائے تنقید

(Mona Shehzad, Calgary)

آج کل آزادی رائے کا دور دورہ ہے. ہر طرف یہی سننے میں آتا ہے کہ آزاد انسان کا بنیادی حق یہ ہے کہ وہ آزادی رائے اور اختلاف رائے دونوں کا کهل کر اظہار کرسکے. میرے رب کی اس دنیا میں بڑا تنوع اور رنگینی ہے، مختلف قسم کے رنگ، موسم، اجناس، لینڈ اسکیپز، حشرات و نباتات نظر آتے ہیں. ایسے میں اشرف المخلوقات کا اختلاف رائے رکھنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے. آج کل سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے، هر طرف فیس بک ،ٹویٹر اور واٹس ایپ کا استعمال عام نظر آتا ہے جہاں ان کے فوائد نظر آتے هیں وہاں ساتھ ساتھ معاشرتی رویوں میں انحطاط بھی نظر آتا ہے ، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہ جنگل کا دور واپس آگیا ہے. انسان کا بنیادی حق آزادی رائے اور اختلاف رائے کو صرف "تنقید برائے تنقید "سے کچل دیا گیا ہے.

کچھ لوگ اپنے اختلاف رائے کے حق کو ایسے بھونڈے اور بهدے طریقے سے استعمال کرتے هیں کہ لگتا ہے کہ وہ دوسرے کی عزت کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں. میں بہت چھوٹی سی تھی جب میں نے اپنی ماں کی زبان سے بارہا دفعہ یہ سنا :
"بیٹا، مسجد، مندر، گرجا سب انسان کے دل کے اندر هوتے هیں.انسان کا دل کبھی نہ توڑو. کبھی ایسی بات نہ کہو کہ اس سے کسی کی دل آزاری هو. انسان کا دل هی سب سے قیمتی چیز ہے. ".

میں اپنے بچوں کو بھی اسی بات کی تعلیم دیتی هوں. مگر عام زندگی میں محسوس کرتی هوں کہ رواداری کا یہ سبق اختلاف رائے کے نام پر بری طرح پامال کیا جارہا ہے.

فیس بک یا ٹویٹر کے استعمال کرنے والے افراد انسان هی هیں.

کسی کے اچھے کام یا پوسٹ پر آپ کوئی ریمارکس کم هی نظر آئینگے مگر جہاں کوئی چیز ذرا سی ہٹ کر نظر آئی وہاں پر تنقید برائے تنقید کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع هوجاتا ہے . اگر آج کے دور میں آپ اختلاف رائے کی آزادی چاہتے هیں تو برائے مہربانی دوسرے لوگو ں کو اظہار رائے کے حق سے بھی محروم نہ کریں. تنقید اگر صحت مند حد تک هو ،تو ایک انعام ہے اور اگر کسی کے پرخچے اڑانے کی نیت سے هو تو پھر تو یہ عذاب ہے. ہم تو اس مذہب کے پیروکار ہیں جس میں accountability ایک اہم عنصر ہے. یہ ضروری نہیں کہ اگر ہم کسی کی رائے بدل دینگے تو تب ہی ہم کامیاب قرار دیے جائینگے. زبان انسان کے جسم کا وہ واحد حصہ ہے جو هڈی سے عاری مگر کاٹ میں تیز ترین ہتھیار کو بھی پیچھے چهوڑتی ہے.

همارے الفاظ همارے پاس ایک امانت ہیں، للہ اس امانت میں خیانت مت کریں. رائے کا اظہار کرتے وقت ضرور اس بات کا خیال رکھیں کہ ضروری نہیں کہ ہر شخص تصویر کو اسی رخ سے دیکھ رہا ہوں جس سے آپ دیکھ رہے ہیں.

آپ کا کیا خیال ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178256 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
25 Feb, 2018 Views: 370

Comments

آپ کی رائے