فساد تو ہے مگر اصلاح کیسے ہو!؟

(نذر حافی, اسلام آباد)
گزشتہ سو سالوں میں مسلمانوں میں جومصلحین گزرے ہیں اُن میں ایک بڑا نام سید جمال الدین افغانی کا بھی ہے۔سید نے مسلمانوں کی اصلاح کے لئے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے کئی ممالک کے سفر کئے اور و ہ عالمِ اسلام کی اصلاح کے لئے اس زمانے میں متعدد اسلامی ممالک کے گروہوں سے رابطے میں بھی تھے

بسم اللہ الرحمٰنِ الرحیم

انسان فطرتاً فساد کو پسند نہیں کرتا، فساد صرف یہ نہیں کہ گھروں میں لڑائی جھگڑا عام ہو،بازاروں میں ملاوٹ شدہ اشیا بکتی ہوں، دفتروں میں رشوت اور سفارش کا دور دورہ ہو، منبر و محراب سے بھائی کو بھائی سے لڑایا جائے بلکہ حقیقی فساد یہ ہے کہ معاشرے میں برائی اچھائی پر حاکم ہوجائے، کمینہ ، شریف پر حکومت کرے، رشوت خور لوگوں کے مسائل نمٹائے اور خائن شخص امین لوگوں کا سربراہ ہو۔حقیقی معنوں میں برائی اور برے لوگوں کی حکومت، فساد کی کامل ترین مصداق ہے۔

فساد کے علاج کو اصلاح کہا جاتا ہے اور جو اصلاح کرتا ہے اُسے مصلح کہتے ہیں۔جب کہیں پر یعنی کسی معاشرے میں فساد اس عروج پر پہنچ جائے کہ شرفا ، کمینوں کے ماتحت ہوں،ادارے رشوت خوروں کے ہاتھوں میں ہوں، بھرتیاں سفارش اور پرچی سے ہوتی ہوں، فیصلے دھونس اور دھاندلی سے ہوتے ہوں،سفر، صحت اور تعلیم کی سہولیات امیر و غریب کے لئے الگ الگ ہوں تو اس وقت اس معاشرے کی اصلاح اشیائے خوردونوش کی قیمتیں سستا کرنے سے نہیں ہو سکتی، اس وقت اصلاح چینی اور آٹے کے بہاو میں کمی سےنہیں ہو سکتی بلکہ اس وقت اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ کرپٹ اور خائن لوگوں کو اقتدار سے الگ کیا جائے۔

اللہ نے انبیائے کرام کو مصلح قرار دیا ہے، اگر انبیائے کرام لوگوں کو صرف نمازیں پڑھنا اور اللہ ھو کی ضربیں لگانا سکھاتے رہتے تو دنیا کے بادشاہ اُن کی مخالفت کیوں کرتے!؟

انبیائے کرام سے بادشاہوں کی مخالفت اسی وجہ سے تھی کہ انبیائے کرام معاشرے پر ظالموں، رشوت خوروں اور خائن لوگوں کی حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے تھے۔

اپنے سیاہ کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے منافقین بھی اپنے آپ کو مصلحین کہتے ہیں، قرآن مجید کے بقول جب انہیں کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والوں میں سے ہیں۔
منافقین بھی ، عوامی حقوق، انسانی مساوات، عادلانہ حکومت اور اس طرح کے بڑے بڑے نعرے لگا کر عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔معاشرے سے اس وقت تک فساد ختم نہیں ہو سکتا اور منافقین کے چنگل سے لوگوں کو نجات نہیں دلائی جا سکتی جب تک لوگوں کو حقیقی معنوں میں سیاسی شعور نہ دیا جائے۔
لوگوں کو بیدار کئے بغیر آپ ہزار تقریریں کریں ، لاکھوں ریلیاں نکالیں اور انواع و اقسام کے جھنڈے تقسیم کریں لوگ پھر بھی آٹے کی ایک بوری اور مزدوری کی ایک دیہاڑی کے عوض ووٹ ڈال کر آجائیں گے۔

ملی بیداری اور شعور کے لئے ہم میں سے ہر شخص کو اپنی سیاسی فعالیت پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے ، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم سیاسی طور پر معاشرے میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہماری ذات سے ہمارے ارد گرد رہنے والوں کو کیا سیاسی شعور مل رہاہے!؟

یاد رکھئے معاشرے میں بڑے بڑے نیک لوگ اور خدمتگار موجود ہوتے ہیں لیکن انہیں سیاسی شعور نہیں ہوتا، لوگوں کی خدمت کرنا ایک الگ بات ہے اور لوگوں کی سیاسی رہنمائی کرنا ایک دوسری چیز ہے۔

مثلا ایک حجام، نائی ، موچی ، ترکھان، ٹیچر یہ سب مقدس لوگ ہیں اور اپنی اپنی جگہ معاشرے کی خدمت کرتے ہیں، لوگوں کے لئے سڑکیں پکی کروا دینا، سٹریٹ لائٹس لگوا دینا ، ہسپتال بنوا دینا یہ سب قومی خدمت ہے اور جو بھی یہ خدمات انجام دیتا ہے وہ قومی خادم تو ہے لیکن مصلح نہیں۔

مصلح وہ ہے جو قوم کو بدترین حکمرانوں، اذیت ناک زندانوں، رشوت خور افیسروں اور کرپٹ لیڈروں سے نجات دلائے۔

گزشتہ سو سالوں میں مسلمانوں میں جومصلحین گزرے ہیں اُن میں ایک بڑا نام سید جمال الدین افغانی کا بھی ہے۔سید نے مسلمانوں کی اصلاح کے لئے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے کئی ممالک کے سفر کئے اور و ہ عالمِ اسلام کی اصلاح کے لئے اس زمانے میں متعدد اسلامی ممالک کے گروہوں سے رابطے میں بھی تھے۔
سید جمال الدین افغانی کی تعلیمات و افکار کو اگر خلاصہ کیا جائے تو سید کے نزدیک مسلمانوں کو چار بڑے مسائل کا سامنا تھا:
۱۔ داخلی استبداد
۲۔ بیرونی استعمار
۳۔مسلمانوں کی بے خبری
۴۔ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت

داخلی استبداد سے مراد ملک کے اندر ظالم لوگوں کا حکمران بن جانا ہے، بیرونی استعمار کا مطلب بیرونی ممالک کا آبادکاری کے بہانے سے آکر وسائل و ذخائر پر قبضہ کر لینا ہے اور مسلمانوں کی بے خبری سے مراد مسلمانوں کو پتہ ہی نہ ہونا کہ ہم کس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور ہمارے ووٹ کی کیا قدر و قیمت ہے جبکہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت یہ ہے کہ دوسرے کی سچی اور اچھی بات کو بھی اس لئے نظر انداز کردیا کہ اس کا تعلق ایک دوسرے فرقے سے ہے۔

یہ چاروں مسائل گزشتہ کئی سو سالوں سے عالم اسلام کو لاحق ہیں۔ تئیس مارچ ۱۹۴۰ تک برصغیر کے مسلمان ان مسائل کو درک تو کر چکے تھے لیکن ان کے حل کے حوالے سے ان کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں تھا،تئیس مارچ ۱۹۴۰ کو پہلی مرتبہ مسلمانوں نے داخلی استبداد، بیرونی استعمار، باہمی بے خبری اور آپس کی فرقہ واریت سے بالا تر ہوکر ایک آزاد وطن کا مطالبہ کیا تھا۔

آج خدا کا شکر ہے کہ وہ آزاد وطن حاصل کئے ہوئے ہمیں ستر سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن ہم بدستور داخلی استبداد، بیرونی استعمار،باہمی بے خبری اور فرقہ واریت میں جکڑے ہوئے ہیں۔

ہمیں سب سے پہلے داخلی استبداد کا مقابلہ کرنا ہوگا، جب امین اور دیانتدار لوگ منتخب ہونگے تو وہ خارجہ پالیسی بھی آزاد انہ طور پر تشکیل دیں گے ۔ لیکن ایسے لوگوں کا انتخاب تبھی ہو سکتا ہے جب ہم خود بھی بے خبری اور فرقہ واریت کی لعنت سے چھٹکارا پائیں اور دوسروں کو بھی اس کا شعور دیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: nazar

Read More Articles by nazar: 114 Articles with 34184 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Feb, 2018 Views: 161

Comments

آپ کی رائے