ڈنگ ٹپاؤو

(Ali subhan, sambrial)

اخلاص یا نیک نیتی اللہ پاک کی بہت بڑی دین ھے۔ آج کے دور میں ھمیں اس پیاری سر زمیں میں بمشکل ھی ایسا کوئی ملے گا جو کہ اپنی منزل کو پانے میں مخلص ھو اور جس کے ارادے صبح کی ٹھنڈی ہوا کی طرح خالص اور لگن سچی ہو۔ بلاشبہ کامیابی تو ہر کوئی چاہے گا لیکن کوشش کئے بغیر کامیابی کو پانے کےسب گاھک ھیں۔ یقینا ھم میں سے ھر کوئی یہی چاھے گا کہ رات کو آنکھیں بند کرے اور جب صبح اٹھے تو اپنی منزل پر پہنچ چکا ہو جو کہ ناممکن ھے۔

ڈنگ ٹپاؤو پنجابی زبان کا لفظ ھے جس کا مطلب ھے "وقت کو گزارنے والا" ۔ اگر ھم گہرائی میں جا کر سوچیں تو اس لفظ کی مراد ھر وہ شخص ھے جو اپنی ذمہ داری کو فرض سمجھ کر ادا نہیں کر رہا۔ ہر دس میں سےنو بندے اس بیماری کا شکار ھیں۔ ھمارے ملک میں اس بیماری نے اپنی جڑیں کافی مظبوط کی ھوئی ہیں۔ کلرک سے لے کر افسران بالا تک، شاگرد سے لے کر استاد تک مختصرا یہ کہ اس بیماری نے کسی کو بھی نہیں بخشا۔ دفاتر میں ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ھوئے لوگ بھی یہی چاھتے ھیں کہ کام کرنا جھوٹ ہی ھو۔ اگر ہم کسی بھی سرکاری ادارے کے ملازم کی بات کریں تو وہ بھی دفتر میں آ کہ حاضری لگا کہ ادھرادھر گھومتا رھے گا اسے پتاھے کہ کونسا کوئی پوچھنے والا ھے حالانکہ اسے سرکارجو سہولیات اور ماہانہ پیسے دےرھی ھے اس سے اتنا کام لے لیکن نہیں سارے اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ھیں کسی کا قومی ترقی سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر ہم اپنی سرکار کی بات کریں تو وہ ڈنگ ٹپانے میں سرفہرست ہے۔ غریب و لاچار عوام جھوٹے وعدوں میں آ کے ان کو منتخب کرتی ہے اور یہ بعد میں منتخب ہو کہ اپنے آپ کو بہت معتبر سمجھنے لگ جاتے ہیں ان کو ووٹ لینے کے لئے کیے گئے ترلے منتیں سب بھول جاتے ھیں۔ اور چار سال کیلئے منظر سے غائب ہوجاتے ہیں اور جب پھر انتخابات آنے میں تھوڑی دیر رہ جاتی ہے تو پھر صرف رسمی طور پر گھٹیہ مٹیریل سے کوئی ایک آدھ کام کرادیتے ہیں جو کہ تھوڑی مدت بعد ہی اپنے معیار کا ثبوت دینا شروع کر دیتی ہے۔ اب اس امر کی ضرورت ہے کہ اپنے آپ کو بدلا جائے ڈنگ ٹپانے کی بیماری کو چھوڑ کر نیک نیتی سے کم لیا جائے۔

ھمارے ھمسایہ ملک چین کی عوام اپنے ملک کی دن دگنی اور رات چگنی ترقی کے لیے اپنے دن بھر کے کام کے علاوہ رات کو چند مخصوص گھنٹے اجرت کے بغیر کام کرتے ہیں صرف اس لیے کہ وہ اپنے ملک کا فخر بن سکیں وہ اپنے ملک کی معاشی بڑھوتری یا اکانومک گروتھ بہتر بنا سکیں۔ اور ہم بھی اس بات کہ گواہ ھیں کہ وہ قم ایک بہترین اور ترقی یافتہ قوم کی حیثیت سے ذندگی کے رنگوں سے لطف اندوز ہو رہی ہے اگر وہ ھماری طرح ڈنگ ٹپاٶو ہوتے تو ان کو بھی وہ ڈیوٹی کے چند گھنٹے عزاب لگتے۔

اگر ھم اپنے طالبعلموں کی بات کریں تو وہ بھی کسی سے کم نہیں ہیں وہ بھی یہی چاہتے ہوئے معلوم ھوتے ہیں کہ پڑھائی سے ھمارا واسطہ نہ ہی پڑے۔ وہ یہی چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح آج کہ دن استاد کی ڈانٹ سے بچ جائیں کل پڑھ لیں گے لیکن اگلے دن پھر ان کی مرادو منشاء یہی ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہم معتدل ہو کہ سوچیں تو قصور ھمارے ان طالبعلموں کا بھی نہیں ان کو جو سکھایا جا رہا ھے وہ وہی سیکھیں گے وہی کریں گے۔ ھمارے سرکاری سکول جہاں استاد سارا دن کرسی پر بیٹھ کر نیند کے مزےاڑا دہے ہوتے ہیں جب دل کیا کسی بچہ کو کہا کہ فلاں چیز لے آٶ فلاں کام کر دو جب دل کیا پڑھا دیا جس کی چیز کی سمجھ نہ آئی اسے خود پڑھنے کو کہ دیا تو وہاں بچوں کو کیا شوق پڑے گا پڑھنے کا الٹا وہ سست اور ھڈحرام بنے گا۔ لیکن اگر کوئی ماں باپ شوق کے سبب اپنے بچے کو کسی نجی سکول میں داخل کراتے ہیں تو وہاں جا کہ بچہ بدتمیز اور بداخلاق ہورہا ہے۔ یورپ کی ایک جامعہ کا واقعہ ذکر کرنا چاہوں گا ایک طالبعلم کی ریاضی کی کلاس کے دوران اچانک آنکھ لگ گئی اور وہ سو گیا۔ جب کلاس ختم ہوئی تو ھلچل کی وجہ سے اسکی آنکھ کھل گئی اسی اثنا میں اس نے دیکھا کہ وائٹ بورڈ پر دو سوالات لکھےھوئے ہیں اسنے اپنی کاپی پر درج کر لیے اسے لگا کہ استاد نے یہ سوالات اگلی کلاس میں کر کے لانے کو کہا ہے۔ اگلی کلاس دو دن بعد تھی وہ دو دن ان سوالات کو حل کرتا رہا۔ جب دو دن بعد کلاس دوبارہ ہوئی تو وہ اسی انتظار میں تھا کہ کب استاد ان سوالوں کہ بارے میں پوچھے۔چناچہ کلاس کا وقت ختم ہو گیا لیکن استاد نے انکا ذکر تک نہ کیا۔ اس نے خود جا کہ استاد سے ناراضگی کا اظہار کیا کہ آپ نے سوالات کے بارے میں دریافت کیوں نہیں کیا۔ استاد دیکھ کہ حیران اور خوش بھی ھوا اور کہا کہ یہ تو میں نے وہ سوالات لکھے تھے جن کو آج تک کوئی حل نہیں کر سکا۔ میرے بچے تم نے تو بہت بڑا کام کر دکھایا مجھے تم پر فخر ہے۔

اگر ھم سوچیں کہ یہ طالبعلم ھمارے طالبعلموں جیسا ہوتاتویقینا یہی کہتا کہ آج کا دن سوئے ہوئے گزر گیا آگے کا بھی اللہ وارث ہے جو ہوگا دیکھی جائے گی . ہميں اپںی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس بیماری کے ہوتے ہوئے ہم کبھی بھی ایک ترقی پذیر مملکت تشکیل نہیں دے سکتے۔ ھمیں ایسا کرنے کے لیے مخلصانہ رویے اور معتبر مثبت سوچ کی ضرورت ہے جس سے ہم ترقی کے زینے کو پا سکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali subhan

Read More Articles by Ali subhan: 2 Articles with 1080 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Mar, 2018 Views: 420

Comments

آپ کی رائے