صنم تراش

(Irma Moin, Sukkur)

صنم تراش۔۔۔۔۔۔صنم تراش سے مراد ہے بٌت بنانے والا۔۔۔

ہم اپنی زندگی میں جس سے محبت کرتے ہیں نہ اسکا بُت بنا کر دل کے سب سے اونچے مقام پر بیٹھا کر پُوجنا شروع کر دیتے ہیں وہ دن کہے تو دن ، وہ رات کہے تو رات، اُسے جو اچھا لگے وہ اچھا، جو بُرا لگے وہ بُرا۔

وہ ناراض نہ ہو اُسکے لیے پوری دنیا کو ناراض کر دیں گے یہاں تک کہ خدا کو بھی۔

ہم نے اپنی زندگی میں بہت سے چھوٹے بڑے خدا بنا کر رکھے ہوتے ہیں جو بظاہر تو نظر نہیں آتے لیکن دل کی دنیا کو آباد کئے ہوتے ہیں۔ ماں باپ، بہن بھائی، میاں بیوی، محبوب، اُنکے بُت ہی تو بنائے ہوتے ہیں ہم نے جنہیں ہم توڑتے نہیں۔

ایک لڑکی ایک لڑکے کی محبت میں ہر وہ کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے جسے ہمارا مذہب، ہمارا معاشرہ غلط قرار دیتے ہیں، جس کام کے لیے اسکا دل اسے ملامت کرتا ہے، جو وہ جانتی ہے کہ اللّٰہ کو یہ کام ناپسند ہوگا وہ پھر بھی وہی کام کرتی ہے۔ اُسے پوجتی ہے جسکا بُت اُس نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہوتا ہے اور آخر میں اللّٰہ اُسے اُسی کے ہاتھوں ٹھوکر کھلاتا ہے تب یاد آتا ہے کہ حقیقی خدا کون ہے اور شرک کیوں ناقابلِ معافی گناہ ہے۔

ایک شوہر اپنی بیوی کے لیے اپنے ماں باپ سے جھگڑتا ہے، اُنھیں تکلیف دیتا ہے، وہی کرتا ہے جو اُسکی بیوی چاہتی ہے کیونکہ وہ اُس سے محبت کرتا ہے، اُسکی ناراضگی سے ڈرتا ہے ، کاش ہم خدا سے اتنا خوف کھائیں، کاش ہمیں خدا کی ناراضگی کی اتنی فکر ہو، کاش ہم سمجھ جائیں کہ ان بتوں سے ہمیں کوئی صلہ نہیں ملنا، کاش ہم اپنے واحد اللّٰہ کو خوش کرنے کی کوشش کریں۔۔۔۔ زندگی سنور جائے اگر ہم اپنا قبلۂِ رُخ ایک ہی رکھیں۔

ہم اپنے والدین کی ہر اچھی بری بات میں انکا ساتھ دیتے ہیں، بے شک والدین کی خدمت کرنا ہم پر فرض ہے، انکا کہنا ماننا، انکا خیال رکھنا، لیکن اکثر ہمارے والد یا والدہ کچھ غلط کر رہے ہوں یا کہہ رہے ہوں تو ہم اُنہیں ٹوک نہیں پاتے، اُنہیں یہ نہیں کہہ پاتے کہ آپ غلط کر رہے ہیں یا غلط کہہ رہے ہیں کیونکہ ہم اُنکی خفگی سے ڈرتے ہیں، ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ ہم سے دور نہ ہو جائیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ اُن سے اگر کسی کی دلآزاری ہوئی یا حق تلفی ہوئی تو اس میں ہم اُنکے برابر کے شریک ہوں گے کیونکہ ہم غلط کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتے۔

ہمارا بھائی یا بہن کچھ غلط کر دیں تو اُنھیں سمجھانے کے بجائے ہم اُنکی غلطیوں کو جسٹیفائی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔" میری بہن ایسی ہے ہی نہیں، ایسا ہوا ہوگا تبھی اُس نے ایسا کیا", " میرا بھائی تو ایسا کر ہی نہیں سکتا، یقیناً پہلے تم نے ہی کچھ کیا ہوگا" ٬ " یا اُسے کسی نے پھنسایا ہے" وغیرہ وغیرہ
ہم پتا ہے ایسا کیوں کرتے ہیں کیونکہ ہم ان پر اندھا اعتماد کرتے ہیں یہ ہماری محبت کی انتہا ہوتی ہے کہ ہم مان ہی نہیں سکتے کہ ہمارا پیارا بھی کبھی غلط ہو سکتا ہے۔

لیکن ایک وقت آتا ہے جب "صنم تراش" خود ہی "صنم شکن" بن جاتا ہے
صنم شکن پتا ہے کسے کہتے ہیں؟ صنم شکن کہتے ہیں بُتوں کو توڑنے والا

زندگی میں ایک حد ایسی آتی ہے جہاں آکر برداشت جواب دینے لگتی ہے پھر انسان خود ہی اپنے ہاتھوں سے، اپنی محبت سے بنائے ہوئے بتوں کو توڑ کر حقیقی خدا یعنٰی اللّٰہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔پھر دنیا میں جنہیں بُت بنا کر پوجا ہوتا ہے، جن چیزوں سے دل لگایا ہوتا ہے وہ دل کو دوبارہ اپنی طرف مائل نہیں کر پاتیں ، تب انسان حق سچ کی بات کہنے سے نہیں ڈرتا، تب اسے کسی کے روٹھ جانے کاخوف نہیں ہوتا، خوف ہوتا ہے تو صرف اللّٰہ کے روٹھ جانے کا ، خواہش ہوتی ہے تو صرف اللّٰہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی، کچھ لوگ صحرا میں نکل جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کی بھیڑ میں ہی تنہائی اختیار کر لیتے ہیں۔۔

اور پتا ہے کیا، وہی وقت ہوتا ہے جب انسان کامیابی حاصل کرتا ہے وہ اللّٰہ کے آگے جھکتا ہے جھوٹے خداؤں کے بتوں کو توڑ کر اور اللّٰہ پوری دنیا کو اسکے آگے جھکا دیتا ہے، پھر اُسے کسی کے آگے صفائی دینے کی ضرورت نہیں پڑتی، کسی رشتے کے پیچھے نہیں بھاگنا پڑتا سب کچھ اللّٰہ کے" کُن" کے ساتھ ہوتا جاتا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irma Moin

Read More Articles by Irma Moin: 7 Articles with 2826 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Mar, 2018 Views: 516

Comments

آپ کی رائے