ٰامام اعظم ابو حنیفہ حضرت نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ علیہ کی سیرت پاک

(Syed Aadil Farooq Gillani, Renala Khurd (Okara))
امام اعظم ابو حنیفہ حضرت نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ علیہ کی سیر ت پاک پر مبنی انتہائی خوبصورت تحریر ، جسے پڑھ کر آپکو یقنیا فائدہ حاصل ہوگا۔

امام اعظم حضرت ابو حنیفہؒ 80ہجری میں عراق کے شہر کوفہ میں پیدا ہوئے۔آپ کا اصل نام نعمان اور والد کانام ثابت تھا۔ ابو حنیفہ آپ ؒ کی کنیت تھی۔ جسے اس قدر شہرت حاصل ہوئی کہ اکثر لوگ حقیقی نام تک بھول گئے۔ آج اگر کسی شخص کے سامنے نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر کرو تو حیرت سے پوچھتا ہے کہ یہ کون بزرگ تھے؟ قدرت کا عجیب راز ہے کہ جس نے تمام عمر شہرت کو ناپسند یدہ نظروں سے دیکھا ، وہ رہتی دُنیا تک امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ قرار پایا۔ آپ کی کسی اولاد کا نام حنیفہ نہیں تھا۔ مگر پھر بھی ابو حنیفہ ؒ ٹھہرے۔ تحقیقی کرنے والوں نے قرآن حکیم کی اس آیت (فَا تَّبِعُو مِلَّۃَ اِبْرَاھِیمَ حَنِیْفَاً)کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی کنیت اسی نسبت سے مشہور ہوئی ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی صاحبزادی کا نام حنیفہ تھا۔ ایک بار آپ عورتوں کے ایک مخصوص مسئلے کا فوری جواب نہ دے سکے ، مگر آپ کی لڑکی حنیفہ نے انتہائی مضبوط دلائل دے کر سوال کرنے والی خاتون کو مطمئن کر دیا۔ حضرت امام رحمتہ اللہ علیہ اپنی اولاد کی ذہانت سے بہت متاثر ہوئے اور اسی دن سے آپ نے ابو حنیفہ کنیت اختیار کی۔ محققین کے نزدیک یہ روایت غیر معتبر ہے ، حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ کے سوا امام اعظم ؒ کی کسی اولاد کا پتہ نہیں چلتا۔ لڑکپن میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ، جس نے حضرت ابو حنیفہَ کی آتش شوق کو بھڑکایا اور علم کی طرف مبذول کیا۔ آپ ایک دن بازار جارہے تھے کہ کوفے کے مشہور بزرگ امام شعبی ؒ کا مکان راستے میں پڑتا تھا۔ آپؒ جب امام کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے ایک طالب علم سمجھ کر اپنے قریب بلا لیا اور محبت آمیز لہجے میں پوچھا۔ کہاں جارہے ہو؟ حضرت ابو حنیفہ ؒ نے ایک سوداگرکا نام لیتے ہوئے اپنا کاروباری مقصد بیان کیا۔ امام شعبیؒ نے دوبارہ سوال کیا ۔ میرا مطلب یہ تھا کہ تم پڑھتے کس کے پاس ہو؟ ’’کسی سے بھی نہیں ‘‘ ابو حنیفہ ؒ نے بظاہر سادگی سے جواب دیا تھا ، مگر امام شعبیؒ کی نگاہوں سے الفاظ میں چھپا ہوا درد پوشیدہ نہ رہ سکا۔ ’’ تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو‘‘۔ امام شعبی ؒ نے انتہائی شفقت کامظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا۔ جس کے بعد آپؒ باقاعدہ حصولِ علم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپؒ کے سب سے پہلے اُستاد حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ کوفے کے مشہور امام تھے۔ آپ کے علم و فضل کا یہ عالم تھا کہ اُستادِ وقت کا درجہ رکھتے تھے۔ مشہور صحابیِ رسولﷺ حضرت انسؓ بن مالک سے حدیث سننے کا شرف حاصل تھا۔ اس وصفِ خاص کے حضرت حمادؒ کی شخصیت کو سورج سے زیادہ روشن بنا دیا تھا۔ مزید یہ کہ بڑے بڑے تابعین کی صحبت سے فیضیاب ہوئے تھے۔ مستند حوالوں سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ امام اعظم ؒ فقہ کا علم حاصل کرنے کیلئے دوسرے بزرگوں کی خدمت میں بھی حاضر ہوا کرتے تھے۔ لیکن بنیادی طور پر وہ حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ ہی کے تربیت یافتہ تھے۔ تمام عمر شاگردی کے اس رشتے پر نازاں رہے۔ مرنے کے بعد بھی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ اپنے بیٹے کانام اپنے اُستاد کے نام پر حمادؒ رکھا۔تقریباً بائیس سال کی عمر میں ابو حنیفہؒ نے مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا۔یہ شہر مقدس حدیث کا مخزن بھی تھا او ر رسالت مآب ﷺ کی آخری آرام گاہ بھی۔ یہاں سات افراد حدیث و فقہ میں درجہ کمال رکھتے تھے، یہ تابعین کی ایک معزز جماعت تھی۔ شرعی مسائل میں عام طور پر لوگ ان ہی حضرات کی طرف رجوع کرتے تھے۔ جب امام اعظمؒ دیارِ رسول ﷺ میں پہنچے تو ان بزرگوں میں سے صرف دو اشخاص ہی زندہ تھے۔ ایک سلیمان رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے سالمؓ بن عبداللہ۔ سلیمان رحمتہ اللہ علیہ حضرت میمونہؓ کے غلام تھے ، اور سالمؒ حضرت عمر فاروقؓ کے پوتے تھے۔ انہوں نے اپنے والد محترم حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی آغوش محبت میں تربیت حاصل کی تھی ۔ امام اعظم ؒ کے علم کی تشنگی کا یہ عالم تھا کہ زندگی کے آخری ایام تک حصولِ تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ اکثر حرمین میں تشریف لے جاتے اور مہینوں قیام فرماتے۔ حج کی تقریب میں اسلامی ممالک کے گوشے گوشے سے بڑے بڑے اہلِ کمال مکہ معظمہ آکر جمع ہوتے تھے۔ امامِ اعظمؒ ان بزرگوں سے ملاقات کرتے اور آفتابِ علم کی تیز شعاعوں سے اپنے دل ودماغ کو روشن کرتے۔ علم کا وہ کونس دریا تھا ، جس کے کناریابو حنیفہؒ نہ پہنچے۔ فضل و کمال کا وہ کونسا چشمہ تھا ، جس سے امام اعظمؒ سیراب نہ ہوئے۔ آپ ؒ اس دوران جید بزرگانِ دین جن میں امام جعفر صادقؒ ، امام باقر ؒ ، امام اوزاعیؒ ، حضرت سفیان ثوری ؒ اور دیگر کی صحبت میں وقت گزارا۔ حضرت امام مالک بن انسؒ عمر میں حضرت امام ابو حنیفہؒ سے تیرہ سال چھوٹے تھے، مگر ابو حنیفہ ؒ اکثر ان کے درس میں چلے حاضر ہوتے ، علامہ ذہبی ؒ نے اپنے ایک تذکرے میں لکھا ہے کہ امام مالکؒ کے سامنے ابو حنیفہؒ اس طرح باادب ہو کر بیٹھتے ، جیسے کوئی شاگرد استاد کے سامنے بیٹھتا ہے۔ پرہیز گاری کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی کام میں آپکو لغزش کا ذرا سا بھی شائبہ محسوس ہوتا تو اس کام کو ترک کر دیتے، اگرچہ وہ جائز ہی کیوں نہ ہوتا۔ مشہور واقعہ ہے کہ کسی شخص نے اپنی بکری گم ہو جانے کی شکایت کی۔ امام اعظمؒ نے کئی سال اس خوف سے بکری کا گوشت نہیں کھایا کہ کہیں گم شدہ بکری کسی قصاب تک نہ پہنچ گئی ہو۔ حضرت داؤد طائی ؒ کا بیان ہے کہ میں نے بیس سال تک کبھی آپکو تنہائی یا مجمع میں ننگے سر اور ٹانگیں پھیلائے نہیں دیکھا۔ جب میں نے عرض کیاکہ کبھی تنہائی میں تو پاؤں سیدھے کر لیا کیجئے میری اس خواہش کے جواب میں فرمایا ’’مجمع میں تو بندوں کا احترام کروں اور تنہائی میں اپنے خدا کا احترام ختم کردوں یہ کیسی عجیب بات ہے؟‘‘۔ 150ھ میں اس عظیم فقیہہ و محدث کو دورانِ قید خلیفہ منصور اور اس کے حواریوں کے کہنے پہ زہر دے دیا گیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Aadil Farooq Gillani

Read More Articles by Syed Aadil Farooq Gillani: 4 Articles with 4317 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Mar, 2018 Views: 1215

Comments

آپ کی رائے