مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی، لیکن!!!!

(Shafqat Ullah, )

معاشرے کی حقیقی ترقی ، عورت کی توقیر اور خوش حالی کے بغیر ممکن نہیں ، مگر اس حقیقت کے با وجود افسوس کا مقام ہے کہ دنیا بھر میں عورت آج بھی اپنے حقوق کیلئے جد وجہد کرتی نظر آتی ہے ۔ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے آپﷺ اور خلفائے راشدین کے ادوار کے بعد فی الوقت کوئی ملک رول ماڈل نہیں بن پایا حالانکہ دنیا کے سامنے آنے والے تمام مذاہب میں یہ فضیلت اسلام کو ہی حاصل ہے کہ اس نے عورت کو جو مقام و مرتبہ عطا کیا ہے ، وہ آ ج تک کوئی اجتماعی نظام نہیں دے سکا ۔تاہم اس کے با وجود یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ پاکستان کے اسلامی جمہوریہ ہونے کے با وجود یہاں پر بھی عورت اپنے بنیادی اسلامی و سماجی حقوق سے محروم ہے ۔مسائل و مشکلات کی اس دلدل سے اس کو باہر نکالنا یقینی طور پر ایک قومی ذمہ داری ہے ۔لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس زوال کا سبب دیگر عناصر کے ساتھ ساتھ عورت خود بھی ہے ۔ چاہے ہم مسلمان ہیں یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اگر ہم قرآن کی تعلیمات پر عمل کریں تو ہمارے لئے زندگی میں امن و سکون پانا انتہائی آسان ہے کیونکہ کوئی بھی ہوشمند انسان یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ دین ِ اسلام جس کا ستون قرآن و سنت ہے میں ایک بھی تعلیم انسانیت کے خلاف ہے ،جس قدر اسلام نے عورت کو حفاظت دی اور اسے معاشرے میں برابری کا مقام عطا کیا وہیں چند حدود بھی مقرر کی ہیں ، اور یہ بات واضح ہے کہ اﷲ کی قائم کردہ حدودسے جب بھی کسی نے انفرادی یا اجتماعی طور پر تجاوز کرنے کی کوشش کی تو وہ تباہ و برباد ہوئے ،لیکن افسوس کہ ہماری موجودہ نسل نے اسلام میں دی گئی آزادی کا مطلب الٹ سمجھ لیا ہے ۔کچھ نہ کچھ منفی جذبات انسانی نفسیات کا حصہ ہیں اور بنیادی طور پر انسانی سرشت میں پائے جاتے ہیں ۔ بعض جذبات و خصوصیات صنفی بنیاد پر بھی کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں ، مگر ان کو تراش کر درست سمت دینے اور شر کو خیر کے رخ پر موڑنے کا کام گھر ، مذہب ، معاشرتی نظام اور نظام تعلیم و تربیت کرتا ہے ۔بد قسمتی سے آج کے معاشرے میں جیسے جیسے مادیت پرستی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے ، ویسے ویسے اخلاقی بلندی اور اعلیٰ ظرفی کا دامن بھی ہاتھ سے چھوٹ رہا ہے ، افراد اور معاشرے سے وہ اخلاقی صفات ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔اس اخلاقی زوال کی بنیادی وجہ تو ہمارے نظام تعلیم سے تربیت کے عنصر کا خاتمہ ہے ، جس کا مرکز ِ نگاہ اب کردار و سیرت سازی کی بجائے صرف پیسہ کمانا رہ گیا ہے اور اس نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے ، جس نے صنفی فرق بھی نہیں چھوڑا ہے ۔چوں کہ بدقسمتی سے اس عورت کیلئے نہ صرف آگے بڑھنے کے مواقعے نسبتاََکم ہوتے ہیں بلکہ اس کے کام کو مطلوبہ پذیرائی بھی نہیں ملتی ،اسی لئے شاید ان میں عدم تحفظ کا جذبہ زیادہ نظر آتا ہے ۔لیکن مایوسی کفر ہے ، اگر اس تنقید کو عدم تحفظ کی بجائے اصلاح کے طور پر لیا جائے تو وہ بہت حد تک کامیابی کا سفر آسانی سے طے کر سکتی ہے ۔ کیونکہ تنقید تو ہر کامیاب شخص پر ہوتی ہے لیکن اعلیٰ ظرفی اور اخلاقی اقدار کا مظاہرہ یہ ہے کہ اس وقت ملنے والے اچھے اور برے راستوں میں اسے اچھے راستے یعنی محنت و لگن کے راستے کو چن کر آگ بڑھ جایا جائے ۔ عدم تحفظ کا شکار خواتین ضد میں آ کر خدا کی بتائی ہوئی حدود سے آگے بڑھ جاتی ہیں جس سے وہ معاشرے میں ذلیل و پستی کا شکار ہو جاتی ہیں ۔نہایت افسوس کے ساتھ اس بات کا اقرار کرنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے کہ اخلاقی بہتری کیلئے تربیت کا جو کام ہمارے نظام تعلیم کو کرنا چاہئے تھا ، وہ اس نے تو نہیں کیا، مگر سچ یہ بھی ہے کہ ہماری مساجد بھی وہ کام نا کر پائیں ہیں جو ہمارا ورثہ تھا ، حتیٰ کہ گھروں سے بھی اخلاقی بلندی کا ورثہ اس طرح منتقل نہیں ہو سکا ، جس طرح ہونا چاہیئے تھا ، جبکہ اس اخلاقی بلندی کا درس ہمیں صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب بھی دیتے ہیں ۔تعلیمی اداروں میں تو خیر لبرل اور سیکولر ازم نے اپنی دھاک بٹھا لی ہے لیکن افسوس کہ اب مساجد و مدارس میں بھی مسلمان ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنے کی بجائے کوئی تربیتی کردار ادا نہیں کرتے اور اس طرح نئی نسلیں اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور لبرل ازم کے کیچڑ میں لتھڑے دانشوروں کے اقوال کو زادِ راہ سمجھ کر نادانگی میں غلط راستے پر گامزن ہیں ۔ ہم کسی کو کچھ سکھا دیں یا بتا دیں تو ہمارا علم ہر گز کم نہیں ہوگا ، نہ ہی رتبے میں کمی آئے گی ۔ اگر ہم کسی کیلئے آسانی پیدا کر دیں تو ہماری عزت میں اضافہ ہوگا اور اس سے معاشرے میں خیر پھیلے گا ۔نئی نسلیں اگر مغربی دانشوروں کو زادِ راہ سمجھ ہی بیٹھی ہیں تو ہم اسی پر ہی بات کر لیتے ہیں کہ ان کے ایک بڑے دانشورنپولین نے بھی کہا تھا کہ تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔لیکن نپولین نے تو صرف اتنی ہی بات کی لیکن الحمدﷲ اسلام اس سے کہیں بڑھ کر عورت کو تحفظ و حقوق دیتا ہے ، یہ چند لبرل سوچ کے حامل لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ اسلام میں طلاق کیوں ہے ؟ عورت پر ہاتھ کیوں اٹھایا جاتا ہے؟ عورت کو حجاب کیوں پہننا پڑتا ہے؟ اسے چار دیواری میں کیوں محصور کیا جاتا ہے؟ وہ اس لئے کہ جب دو مؤمن مرد اور مؤمن عورت کا آپس میں زندگی میں اتفاق نہیں ہو رہا تو اسے اجازت ہے کہ وہ اپنی اچھی زندگی گزارے آئندہ وہ کسی اور کے ساتھ شادی کر لے اور وہ کسی اور کے ساتھ اور اس کی بہترین مثال آپﷺ کی زندگی سے ملتی ہے کہ ان کی صرف ایک بیوی ؓایسی تھیں جو غیر شادی شدہ تھیں اور سیدھے ان کے ساتھ شادی کی باقی ساری یا تو بیوہ تھیں یا طلاق یافتہ تھیں ! اس میں تو کوئی برائی ہی نہیں ، اسلام سمیت کسی بھی مذہب کو سمجھنے کیلئے ان کے لوگوں کا طرزِ زندگی نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اس کی الہامی کتاب سے سیکھنا چاہئے ، اب ہندوؤں کے نزدیک اگر کسی کی بہن یا بیٹی کے ساتھ اس کا شوہر ظلم کر رہا ہے تو وہ اسے کہتے ہیں کہ طلاق نہیں لینی اب اسی کے قدموں میں پڑی رہو یہاں تک کہ مر جاؤ ! تو اس میں کہاں کی انسانیت ہے؟اس عورت کی زندگی جہنم بن رہی ہے اور اسے کہا جائے کہ تم سورگ میں جاؤ گی!!یہ سب حدود ہیں جو مقرر کی گئیں ہیں جس پر نا تو کوئی تاویل کی گنجائش ہے نا ہی اس سے تجاوز کرنے کی ، بے شک انہیں زندگی کی کامیابی پنہاں ہے ۔اگر عورت ہی اخلاقی اقدار سے گر جائے تو نہ صرف معاشرہ زوال اور انتشار کا شکار ہوگا بلکہ اعلیٰ اخلاقی صفات سے عاری نسلیں جنم لیں گی۔علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا:
مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی، لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 212 Articles with 91004 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
08 Mar, 2018 Views: 472

Comments

آپ کی رائے