جہازوں کی فوٹوگرافی کا ابھرتا ہوا رجحان
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
جہازوں کی فوٹوگرافی کا ابھرتا ہوا رجحان تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں نوجوانوں کے طرزِ زندگی اور تفریحی رجحانات میں تیزی سے تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ڈیجیٹل عہد میں جہاں بیشتر سرگرمیاں اسکرین تک محدود ہو چکی ہیں، وہیں بعض نئے مشاغل نوجوانوں کو کھلی فضا، عملی مشاہدے اور تخلیقی اظہار کی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ انہی میں ایک نمایاں اور تیزی سے فروغ پاتا ہوا رجحان ہوائی اڈوں پر جہازوں کی فوٹوگرافی کا ہے، جو اب محض ایک شوق نہیں رہا بلکہ ایک سماجی اور ثقافتی مظہر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
خاص طور پر بیجنگ کے کیپیٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف ایسے مخصوص مقامات موجود ہیں جہاں تعطیلات اور فارغ اوقات میں بڑی تعداد میں نوجوان جمع ہوتے ہیں۔ یہاں وہ جدید کیمروں، طویل فاصلے تک تصویر کھینچنے والے لینز اور دیگر تکنیکی آلات کے ساتھ جہازوں کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے مناظر محفوظ کرتے ہیں۔ ان مقامات کو غیر رسمی طور پر فوٹوگرافی پوائنٹس کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے، جہاں سے جہازوں کی نقل و حرکت واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ رجحان صرف فوٹوگرافی تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوانوں کے درمیان سماجی روابط کے فروغ کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ ہم خیال افراد یہاں نہ صرف تصاویر کھینچتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتے، تکنیکی مہارتوں پر گفتگو کرتے اور مشترکہ دلچسپیوں کی بنیاد پر تعلقات استوار کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مقامات غیر رسمی ملاقات گاہوں میں تبدیل ہو گئے ہیں، جہاں فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے گروپس تشکیل پا رہے ہیں۔
اس ابھرتے ہوئے رجحان نے فوٹوگرافی کی صنعت پر بھی نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ کیمرے، لینز، ٹرائی پاڈز اور دیگر متعلقہ آلات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض دکانوں اور برانڈز نے ایوی ایشن فوٹوگرافی کے لیے مخصوص مصنوعات متعارف کروائی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی نوجوان فوٹوگرافر اپنی تصاویر آن لائن پلیٹ فارمز پر فروخت کر کے اس شوق کو جزوی یا مکمل روزگار میں تبدیل کر رہے ہیں۔
ہوائی جہازوں کی فوٹوگرافی نوجوانوں میں ہوا بازی کی صنعت سے متعلق آگاہی میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔ جہازوں کی اقسام، ان کی تکنیکی خصوصیات، فضائی راستے اور ہوائی اڈوں کے نظام سے متعلق معلومات حاصل کرنا اس مشغلے کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یوں یہ سرگرمی تفریح کے ساتھ ساتھ ایک غیر رسمی تعلیمی عمل کی صورت اختیار کر رہی ہے، جو نوجوانوں کے فنی اور سائنسی شعور کو وسعت دے رہی ہے۔
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ وی چیٹ، ویبو اور ڈووئن جیسے چینی پلیٹ فارمز پر جہازوں کی تصاویر تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ نوجوان اپنی بہترین تصاویر شیئر کرتے ہیں، تکنیکی نکات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور آن لائن کمیونٹیز کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔ اس ڈیجیٹل رابطے نے ایوی ایشن فوٹوگرافی کو ایک منظم اور بااثر آن لائن ثقافت میں بدل دیا ہے۔
اس رجحان کی ایک اہم سماجی جہت یہ بھی ہے کہ یہ نوجوانوں کو محض موبائل فون کی اسکرین تک محدود رہنے کے بجائے عملی دنیا سے جوڑتا ہے۔ کھلی فضا میں وقت گزارنا، قدرتی روشنی اور حقیقی مناظر سے لطف اندوز ہونا اور براہِ راست انسانی روابط قائم کرنا نوجوانوں کی ذہنی اور سماجی نشوونما میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
بیجنگ کے علاوہ چین کے دیگر بڑے شہروں اور ہوائی اڈوں پر بھی جہازوں کی فوٹوگرافی کا یہ شوق بتدریج فروغ پا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ رجحان چینی نوجوانوں میں تخلیقی سوچ، تکنیکی مہارت اور سماجی ہم آہنگی کا آئینہ دار ہے۔ یہ نہ صرف ایک جدید تفریحی سرگرمی ہے بلکہ بدلتے ہوئے چین میں نوجوان نسل کے رجحانات، ترجیحات اور امکانات کو بھی نمایاں کرتا ہے، جو مستقبل میں ثقافتی اور پیشہ ورانہ سطح پر نئے راستے ہموار کر سکتے ہیں۔ |
|