آئینۂ شعور میں حقیقت کا عکس
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
|
آئینۂ شعور میں حقیقت کا عکس
انسانی شعور اور اس کی فکری وسعت کی حدود ہمیشہ سے فلسفہ کا بنیادی موضوع رہی ہیں۔ انسانی شعور ایک ایسا شفاف آئینہ ہے جو کائنات کے رازوں کی جھلک دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ یہ اپنے محدود فریم ورک کے اندر قید بھی ہے۔ شعور کی یہ کشادگی اور محدودیت ایک دائمی تنازع پیدا کرتی ہے، جو نہ صرف انسان کے علم کی سرحدوں کو متعین کرتی ہے بلکہ اسے اپنی ادراکی حدود کا بھی آئینہ دکھاتی ہے۔ ہر فکری مشق، چاہے وہ وجود اور حقیقت کے بارے میں ہو یا مذہب اور اخلاقیات کے سلسلے میں، دراصل انسان کی عقل اور ادراک کی استطاعت کو پرکھنے کا عمل ہے۔ سقراط کے فلسفیانہ سوالات سے لے کر جدید فلسفے کی پیچیدہ تحلیلات تک، ایک مستقل موضوع یہ رہا ہے کہ کیا انسانی عقل وہ سب کچھ سمجھ سکتی ہے جو حقیقت فی نفسہٖ میں موجود ہے، یا انسانی فہم ہمیشہ جزوی، نسبتی اور عارضی رہے گا۔ انسانی شعور کا یہ فکری فریم ورک، اگرچہ علم کی دریافت کا ذریعہ ہے، مگر اپنی محدودیت کی وجہ سے حقیقت مطلق تک پہنچنے میں ہمیشہ رکاوٹ کا سبب بھی بنتا ہے۔ یہی محدودیت انسان کے ادراک میں تضاد پیدا کرتی ہے: ایک طرف شعور اسے کائناتی مظاہر کی پیچیدگیوں سے روشناس کراتا ہے، تو دوسری طرف وہی شعور اسے اپنی محدود عقل کے قید خانوں میں جکڑ لیتا ہے، جہاں وہ جزوی حقیقت کو مکمل سمجھنے کا دعویٰ کرنے لگتا ہے۔ اس فلسفیانہ منظرنامے میں، انسانی شعور کی یہ کشادگی اور محدودیت ایک مسلسل مکالمہ کی شکل اختیار کرتی ہے، جو نہ صرف علم اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو واضح کرتی ہے بلکہ انسان کے ادراکی غرور اور عاجزی کے درمیان توازن کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفیانہ غور و فکر میں ہمیشہ اس سوال کی اہمیت نمایاں رہی ہے کہ انسان حقیقت کو جیسا ہے ویسا جان سکتا ہے یا صرف وہی جان سکتا ہے جو اس کے شعور کے سانچوں میں فٹ بیٹھتا ہے۔ انسانی شعور کی یہ دو جہتی فطرت—علم کی تلاش اور محدود فہم کا اعتراف—فلسفہ کو نہ صرف علمی بلکہ اخلاقی اور فکری بنیاد بھی فراہم کرتی ہے، کیونکہ یہ اعتراف انسان کو اپنی عقل کی حدود تسلیم کرنے اور حقیقت کے سامنے عاجزی اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ حال ہی میں ایک فلمی گیت نگار اور ایک دینی عالم کے درمیان خدا کے وجود پر ہونے والا مکالمہ بھی اس فکری تناظر کی عکاسی کرتا ہے۔ بظاہر یہ گفتگو ایک علمی اور فکری نشست کا تاثر دیتی تھی، مگر جب اسے فلسفیانہ اور شعوری پیمانوں پر پرکھا جائے تو یہ زیادہ تر جدید ذہنی رویے کی نمائشی صورت محسوس ہوتی ہے، جس میں سوال کے مقام کو تحقیق کے درجے تک پہنچنے سے روکا گیا اور ابتدائی ذہنی فیصلہ دلیل کے نام پر پیش کر دیا گیا۔ یہاں اصل مسئلہ خدا کے ہونے یا نہ ہونے کا نہیں، بلکہ انسانی ذہن کی وہ ساخت ہے جو اپنی محدودیت کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے اور اپنے فہم کو حقیقت مطلق کے برابر لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ رویہ آج کے سیکولر اور الحاد پر مبنی مکالمات میں خاص طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں فلسفیانہ غور و فکر کے بجائے ذاتی تجربہ، داخلی کیفیات اور حسی مشاہدے کو کائناتی معیار سمجھ کر پیش کیا جاتا ہے۔ کانٹ نے اپنی کتاب "Critique of Pure Reason" میں واضح کیا کہ انسانی فہم حقیقت کو خود سے نہیں بلکہ اپنے ادراکی سانچوں کے ذریعے سمجھتا ہے، اور جب یہ سانچے مطلق ہونے کا دعویٰ کرنے لگیں، تو فکری مغالطہ جنم لیتا ہے۔ انسان حقیقت کو جیسا وہ فی نفسہٖ ہے نہیں جانتا، بلکہ جیسا اس کا شعور اسے معنی دیتا ہے، ویسا جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حواس، وقت، مکان اور تجربے کی حدود میں انسان کی عقل مقید ہے۔ تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو فلسفیوں نے ہمیشہ اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ انسانی علم ہمیشہ جزوی، نسبتی اور عارضی ہوتا ہے۔ ارسطو کے اصول علت و معلول کے حوالے سے، ہر سبب کا اثر محدود ہے اور اس کی فہم بھی محدود دائرے میں ممکن ہے۔ اس محدود فہم سے جو قطعی نتائج اخذ ہوتے ہیں، وہ مطلق حقیقت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس اور فلسفہ کی تاریخ قطعی دعووں کی نفی سے بھری پڑی ہے۔ جو بات آج سچ لگتی ہے، کل اسے نظر ثانی کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ ایسے میں خدا کے وجود پر قطعی انکار دراصل علم کا نہیں بلکہ جلد بازی اور محدود فہم کا اعلان بن جاتا ہے۔ فلمی دانشور کے مکالمے میں یہ مفروضہ بار بار جھلکتا ہے کہ جو شے حسی تجربے میں نہ آئے، وہ قابل قبول نہیں۔ یہ مفروضہ نہ صرف غیر سائنسی ہے بلکہ فلسفیانہ اعتبار سے بھی ناکافی ہے۔ نیوٹن نے کشش ثقل کے قوانین پیش کیے، لیکن کششِ ثقل کو براہِ راست نہیں دیکھا جا سکتا۔ اسی طرح ایٹمی توانائی، شعاعیں، اور انسانی شعور جیسے مظاہر بھی حواس سے ماورا ہیں مگر انکار کے قابل نہیں۔ اگر اسی معیار کو خدا کے وجود پر لاگو کیا جائے تو ایک فکری تضاد پیدا ہوتا ہے: انسان وہ سب دیکھ کر تسلیم کرتا ہے جو اس کے حواس سے ماورا ہے، مگر سب سے بڑی حقیقت کو رد کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ "میں خدا کو نہیں دیکھتا، اس لیے خدا نہیں ہے" دراصل دلیل نہیں بلکہ شعوری تعطل کا اظہار ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں لاعلمی کو انکار میں بدل دیا جاتا ہے۔ فلسفہ کے بڑے مفکرین، جیسے تھامس ایکویناس نے، اس بات کی وضاحت کی کہ خدا کے وجود کا فہم صرف حواس سے ممکن نہیں بلکہ عقل، فلسفہ اور تجرباتی دلیل کے امتزاج سے حاصل ہوتا ہے۔ انسانی شعور کی محدودیت کا تسلیم کرنا ایمان کی بنیاد ہے، کیونکہ یہ اعتراف ہے کہ انسانی عقل تمام کائناتی حقائق کو نہیں سمجھ سکتی۔ ایمان کو اکثر عقل کی ضد بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایمان عقل کی توسیع ہے، اس کی نفی نہیں۔ کانٹ کے مطابق عقل اپنے دائرے سے باہر حقیقت کی پہچان نہیں کر سکتی، مگر عقلی حدود کے تسلیم سے انسان فکری دیانت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ایمان یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ خدا کو جان لیا گیا ہے، بلکہ یہ اعتراف کرتا ہے کہ خدا کو جاننا ممکن نہیں، مگر اس اعتراف کے بغیر کوئی فکری یا عملی راستہ باقی نہیں رہتا۔ فلمی دانشور کی گفتگو میں اکثر سوال اٹھانے اور فیصلہ کرنے کے درمیان تمیز قائم نہیں رکھی گئی۔ یہ مکالمہ اعلان کے درجے میں رہ جاتا ہے، تحقیق کے عمل کو نظر انداز کرتا ہے اور ذاتی تجربے کو کائناتی معیار سمجھ کر پیش کرتا ہے۔ یہی فکری مغالطہ ہے جس میں انسان اپنی محدود عقل سے لامحدود حقیقت پر قطعی حکم صادر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان جس کائنات کو سمجھنے کا دعویٰ کرتا ہے، اس کا مشاہدہ اس نے صرف ایک نہایت چھوٹے حصے تک کیا ہے۔ انسانی معلومات، تجربات اور شعور محدود ہیں، اور ان محدود وسائل سے جو قطعی فیصلہ صادر ہوتا ہے، وہ اصل حقیقت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ جدید فلسفہ اور سائنسی تاریخ اس بات کی مثالیں فراہم کرتے ہیں کہ ہر حتمی فیصلہ بعد میں نظر ثانی اور تنقید کی زد میں آتا ہے۔ یہی انسانی شعور کی محدودیت ہے جسے اکثر مکالمات میں نظر انداز کیا جاتا ہے اور یہ فکری غرور علم کی جگہ لے لیتا ہے۔ یہاں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ جو شے حواس میں نہیں آتی، اس کے وجود کو رد کرنا انسان کے فکری معیار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ شعورِ بشر کے فلسفیانہ تناظر کے مطابق، انسان نے بہت سی غیر محسوس چیزوں کو اثرات اور نتائج کے ذریعے تسلیم کیا ہے۔ کششِ ثقل، توانائی، شعاعیں، انسانی شعور اور کائناتی قوانین ایسے مظاہر ہیں جو براہِ راست حواس میں نہیں آتے، مگر انکار کے قابل نہیں ہیں۔ اسی طرح خدا کے وجود کو بھی صرف حواس کی بنیاد پر رد کرنا فکری تضاد پیدا کرتا ہے۔ مکالمے کے دوران فلمی دانشور اکثر ایمان رکھنے والے ذہنوں کو بھی نشانہ بناتا ہے۔ یہ رویہ فکری اختلاف نہیں بلکہ فکری عدم برداشت کی علامت ہے۔ حقیقی فکری وسعت رکھنے والا ذہن اختلاف کو استہزا میں نہیں بدلتا، بلکہ اس سے سیکھنے، سوال اٹھانے اور غور و فکر کرنے کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ علم وہیں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان اپنی محدودیت کو تسلیم کرنے کی جرأت کرے، اور اسی اعتراف سے فکری دیانت جنم لیتی ہے۔ انسان کے پاس خدا کے وجود کے بارے میں تین ہی فکری راستے ہیں: اپنی محدود عقل کو مطلق مان لینا، لامحدود حقیقت کے سامنے مکمل خاموشی اختیار کرنا، اور اپنی حد مان کر اس حقیقت کو تسلیم کرنا جو اس سے بڑی ہے۔ پہلا راستہ فکری غرور کی جانب لے جاتا ہے، دوسرا فکری فرار کی طرف، اور تیسرا راستہ فکری دیانت ہے۔ ایمان اسی فکری دیانت کی علامت ہے، جہاں انسان اپنی عقل کی حدود کو پہچانتا اور اپنے شعور کو حقیقت کے سامنے عاجزی سے پیش کرتا ہے۔ خدا کا انکار دراصل یہ دعویٰ ہے کہ انسان وہ سب جانتا ہے جو جانا جا سکتا ہے، جبکہ تاریخ علم اور فلسفہ اس دعوے کو مستقل طور پر رد کرتے ہیں۔ شعورِ بشر کے فلسفیانہ تناظر کے مطابق انسان جتنا جانتا ہے، اس سے کہیں زیادہ اس کے ادراک سے باہر ہے۔ یہی "نہ جاننا" اسے عاجزی کی طرف بلاتا ہے، غرور اور انکار کی طرف نہیں۔ مکالمہ حقیقی فکری دیانت کے ساتھ دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ خدا کے وجود کا نہیں بلکہ انسانی شعور کے غرور کا ہے۔ یہ غرور سوال کو اپنی انا کی توثیق کا وسیلہ بنا دیتا ہے، اور مکالمے کو شور میں بدل دیتا ہے۔ علم اور حقیقت کے درمیان فاصلہ ہمیشہ موجود رہا ہے۔ تاریخ فلسفہ اور سائنس یہ سکھاتی ہے کہ حقیقت کی دریافت میں عاجزی، تسلیمِ حدود اور غور و فکر ہی کامیابی کی کلید ہیں۔ یہی فلسفیانہ بصیرت انسان کو اپنے ادراک کی وسعت دینے اور کائناتی حقائق کے حقیقی مفہوم تک پہنچنے کا راستہ دیتی ہے۔ فلسفیانہ سوالات، جیسے کیا محدود عقل لامحدود حقیقت کو سمجھ سکتی ہے، کیا حسی ادراک ہی وجود کا معیار ہے، کیا جزوی شعور سے مطلق کو رد کرنا درست ہے، کیا فکری عاجزی ایمان کی بنیاد نہیں، اور کیا کائنات کے مظاہر خدا کی نشانی نہیں، انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ سوالات مکالمے کو معنی دیتے ہیں اور قاری کو اپنے شعور کی حدود، فکری دیانت اور حقیقت کے ادراک کے فلسفیانہ راستوں پر غور کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اسی غور و فکر کے ذریعے انسان نہ صرف اپنے ادراک کو وسعت دے سکتا ہے بلکہ خدا کے وجود اور کائناتی حقائق کے حقیقی مفہوم تک پہنچ سکتا ہے۔ تاریخِ علم، فلسفہ اور مذہبی فکر کی روشنی میں یہی اعتراف انسانی شعور کی حقیقی بصیرت اور فکری دیانت کی علامت ہے۔
|
|