مشترکہ خاندان

ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندان کو اکثر معاشی یا انتظامی تناظر میں زیرِ بحث لایا جاتا ہے، مگر اس نظام کا سب سے قیمتی اور کم زیرِ گفتگو پہلو وہ اثرات ہیں جو یہ بچوں کی شخصیت پر مرتب کرتا ہے۔ خاص طور پر گھر میں دادا اور دادی کی موجودگی ایسی نعمت ہے جس کی قدر اکثر وقت گزرنے کے بعد ہی سمجھ آتی ہے۔بچپن انسان کی زندگی کا وہ نازک مرحلہ ہے جہاں محبت، تحفظ اور توجہ محض جذبات نہیں بلکہ شخصیت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ والدین اپنی ذمہ داریوں، مصروفیات اور عملی دباؤ کے باعث بعض اوقات بچوں کو وہ وقت نہیں دے پاتے جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں۔ ایسے میں دادا اور دادی بچوں کے لیے جذباتی سہارے کا وہ مضبوط ستون بن جاتے ہیں جو خاموشی سے مگر گہرائی کے ساتھ ان کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
دادا دادی کی محبت میں ایک خاص ٹھہراؤ اور بے لوث پن ہوتا ہے۔ وہ بچوں سے کسی کارکردگی یا کامیابی کی شرط نہیں باندھتے، بلکہ انہیں ویسا ہی قبول کرتے ہیں جیسے وہ ہیں۔ یہی غیر مشروط قبولیت بچوں کے اندر اعتماد، خود اعتمادی اور ذہنی سکون پیدا کرتی ہے۔ ایسے بچے کم خوف زدہ، کم اضطراب کے شکار اور زیادہ پُرسکون نظر آتے ہیں۔
مشترکہ خاندان میں پلنے والے بچوں کو اخلاقیات کا سبق نصیحتوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے مشاہدے سے ملتا ہے۔ دادا دادی کا اندازِ گفتگو، بڑوں کا احترام، صبر، شکر اور قناعت—یہ سب چیزیں بچے لاشعوری طور پر سیکھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے بچوں میں خاندانی اقدار اور تہذیبی تسلسل نسبتاً مضبوط ہوتا ہے۔
دادا دادی کی کہانیاں محض قصے نہیں ہوتیں بلکہ ماضی کے تجربات، وقت کی آزمائشوں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے بچے تاریخ، روایت اور جدوجہد سے جڑتے ہیں۔ انہیں یہ شعور ملتا ہے کہ زندگی صرف سہولتوں کا نام نہیں بلکہ صبر اور ثابت قدمی کا امتحان بھی ہے۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مشترکہ خاندان بچوں کو مختلف عمروں کے افراد کے ساتھ رہنا سکھاتا ہے۔ اس ماحول میں بچہ سیکھتا ہے کہ ہر فرد کی سوچ، رفتار اور ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ یہی فہم اسے برداشت، رواداری اور سماجی ہم آہنگی کی طرف لے جاتی ہے، جو آج کے انفرادی اور تیز رفتار معاشرے میں ایک نایاب خوبی بنتی جا رہی ہے۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اگر والدین اور دادا دادی کے درمیان تربیت کے اصولوں پر اتفاق نہ ہو تو بعض پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، مگر یہ مشترکہ خاندان کا نقص نہیں بلکہ باہمی رابطے کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب حدود واضح ہوں اور احترام برقرار رہے تو یہی نظام بچوں کے لیے سب سے محفوظ اور متوازن ماحول بن جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دادا اور دادی کی موجودگی بچوں کے لیے صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ایک نعمت ہے۔ یہ وہ سایہ ہے جو سخت دھوپ میں بھی ٹھنڈک دیتا ہے، وہ تجربہ ہے جو کتابوں میں نہیں ملتا، اور وہ دعا ہے جو لفظوں کے بغیر بھی اثر رکھتی ہے۔
شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ جس گھر میں دادا اور دادی زندہ ہوں، وہاں بچوں کی پرورش صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی، جذباتی اور تہذیبی سطح پر بھی ہوتی ہے۔ اور یہی وہ سرمایہ ہے جو آنے والی نسلوں کو مضبوط بناتا ہے۔

 

Dilpazir Ahmed
About the Author: Dilpazir Ahmed Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 262 Articles with 233079 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.